Maah E Ramzan

ماہ رمضان

ضبط نفس ،طاعت وبندگی اور ہمدردی ومحبت کے اس مبارک مہینے کا ہر لمحہ سعادت بہ داماں ہوتا ہے ۔

پیر مئی

Maah e Ramzan
حکیم محمد سعید
ضبط نفس ،طاعت وبندگی اور ہمدردی ومحبت کے اس مبارک مہینے کا ہر لمحہ سعادت بہ داماں ہوتا ہے ۔ماہ مبارک ماہ قرآن بھی ہے ،ماہ حریت انسان بھی ہے ،ماہ فضل مغفرت بھی ہے ،ماہ تقرب الٰہی بھی ہے ،ماہ توبہ واستغفار بھی ۔اس کی رحمتوں کا صحیح اندازہ عام انسانوں کو نہیں ہو سکتا ،رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی رحمتوں اور برکتوں پر اس طرح روشنی ڈالی ہے:”یہ وہ ماہ مبارک ہے جس کا ابتدائی حصہ رحمت ہے اور درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ آتش دوزخ سے آزادی ہے “اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جو آدمی اس مہینے میں اپنے غلام وخادم کے کام میں تحفیف اور کمی کردے گااللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرماد ے گا اور اس کو جہنم کی آگ سے رہائی اور آزادی دے گا“رحمت ،مغفرت اور نار جہنم سے آزادی اس ماہ مبارک کی برکتوں کی جامع ترین تعبیر ہے ،اس کے عشرئہ آخر کو آتش دوزخ سے آزادی کا عشرہ فرما کر ہمیں سعی وعمل اور تزکیہ وریاضت کی جدوجہد کو تیز کرنے کی ضرورت اور اہمیت کی طرف اشارہ دیا گیا ہے ۔


یہ عشرہ دراصل تعمیر تقدیر اور عاقبت سازی کا عشرہ ہوتا ہے اس لیے اس کے ہر لمحے کو بیش قیمت اور معتمم سمجھتے ہوئے حصول سعادت کی کوشش کے تمام ممکنہ وسائل سے کام لینا چاہیے اور احتساب نفس،توبہ وانابت،اخلاقی پاکیزگی مہرومحبت،غریبوں کی مددواعانت کے عمل کو تیز تر کر دینا چاہیے تاکہ کاتب تقدیر ہمارے لیے آتش دوزخ سے رہائی کا فیصلہ کردے اور ہم رضائے الٰہی کے حصول میں اس مبارک شب میں روح الامین کا نزول ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے اور فرشتے بھی نازل ہوتے ہیں ان فرشتوں کا سلام ہمارے لیے امن وسلامتی کا ضامن ہوتاہے لیکن سلامتی کا یہ مبارک پیغام فرشتے ان کو دیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی بندگی اور عبادت میں مصروف رہتے ہیں ۔
اللہ کے حضور توبہ وانابت کرتے ہیں اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں اس کے کلام کی تلاوت کرتے ہیں اس کے نبی پر درود بھیجتے ہیں پوری امت مسلمہ کے حال پر رحم وکرم کی درخواست کرتے ہیں۔
یہ شب اللہ تعالیٰ کی صفت غفاری اور صفت عفووکرم کا خاص طور پر ظہور ہوتاہے اگر چہ شب رحمت الٰہی کی شب خاص نہ ہوتی تو قرآن کریم جیسی نعمت عظمی کے نزول کے لیے اللہ تعالیٰ اس کو منتخب نہ فرماتا ۔
اس نسخہ شفاورحمت کی ایک بڑی خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ انسانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا سب سے بڑا آئینہ ہے ۔نہایت صاف وشفاف آئینہ ،جس میں ہر شخص اپنے کرداروعمل کی تصویر دیکھ سکتا ہے،اپنے انجام کا علم حاصل کر سکتاہے۔
اخلاق واعمال کی تصویر کے وہ باریک خط وخال جن پر انسان کی خود اپنی نگاہ بھی نہیں جاتی یہ کتاب اس کو عیاں کر دیتی ہے۔
آج ہمارا جو اجتماعی عمل اور اس کی کمزوریاں ہیں وہ اس آیت میں ہم تلاش کریں اور اپنی تصویر دیکھیں۔
ترجمہ:اور کوئی شخص تو ایسا ہے جس کی گفتگو دنیا کی زندگی میں تم کو دلکش معلوم ہوتی ہے وہ اپنے مانی الضمیر پر اللہ کو گواہ بناتاہے ،حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے جب وہ پیٹھ پھیر کر چلاجاتا ہے تو زمین میں دوڑتا پھرتا ہے تاکہ اس میں فتنہ انگیزی کرنے تاکہ وہ کھیتی اور انسانوں اور حیوانوں کی نسل کو تباہ کرے اور اللہ فتنہ انگیزی کو پسند نہیں کرتا اور یہ انسانی اور اخلاقی نمونے جو قرآن مجید میں پیش کیے گئے ہیں ان کی روشنی میں ہمیں اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے اور اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ کہیں ہمارا انجام بھی غافل ،نااہل اور احسان ناشناس قوموں کی طرح نہ ہو۔

ہماری سب سے بڑی ناشکری تویہ ہوگی کہ ہم نزول قرآن کے باوجود اس کی تعلیمات سے روگردانی کریں اور اس کی ہدایات کی مشعل راہ بنانے کے بجائے اس کو پس پشت ڈال دیں۔
اس مبارک شب میں اس کتاب کے نزول سے ہمیں تو حید کا پیغام دیا گیا تھا رسالت اور کتاب و آخرت پر ایمان ویقین کی دعوت دی گئی اس کتاب عظیم کو اعتقادی اور عملی طور پر ضابطہ حیات بنانے کی تاکید فرمائی گئی اور اس بات کی بشارت دی گئی کہ اس آخری اور عالمگیر کی ہدایت کی پیروی ہی انسانوں کے لیے امن وسلامتی کی ضامن بن سکتی ہے ۔
ہم جب اس مبارک شب میں اس کی تلاوت کرنے بیٹھیں تو ان تمام آیات پر غور کریں جن میں غفلت اور نافرمانی کا انجام بتایا گیا ہے۔
ہمیں اس لیلة القدر میں یہ عہد بھی کرنا چاہیے کہ ہم ہمیشہ قرآنی تعلیمات وہدایت کے مطابق زندگی گزاریں گے اور اب تک جو کو تاہیاں ہوئی ہیں ان کی معافی کی درخواست بھی اللہ کے حضور پیش کرکے ہمیشہ توبہ اور انابت کا عمل جاری رکھیں گے یہ عہد اور توبہ ہمارے لیے موجب مغفرت بن سکتی ہے اور لیلة القدر کی برکتیں ہماری زندگی میں انقلاب پیدا کر سکتی ہیں۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لیلة القدر میں جو شخص ایمان واحتساب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے گا اس کے پچھلے گناہ معاف کردےئے جائیں گے۔ احتساب میں یہ بات بھی شامل ہے کہ انسان توبہ کے بعد ایک نئی زندگی گزارنے کا بھی عزم کرے ایسی زندگی جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر مبنی ہو۔
رمضان کا عشرئہ آخر اللہ تعالیٰ کی جس خصوصی رحمت ومغفرت کا عشرہ ہے اس کا اندازہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معمولات سے بھی ہوتاہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں عبادت اور مجاہدے اس قدر کرتے جو دوسرے دنوں میں نہیں کرتے تھے۔(مسلم)
اس آخری عشرے میں مجاہد ے کی ترغیب دوسروں کو بھی آپ دیتے تھے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کمر کس لیتے اور شب بیداری کرتے (ذکر دعا میں مشغول رہتے )اور اپنے گھر کے لوگوں کو بھی جگا دیتے تاکہ وہ بھی ان راتوں کی برکتوں اور سعادتوں میں حصہ لیں۔
(بخاری)
آخری عشرے میں عبادت وریاضت میں اس درجہ انہماک شب قدر کی جستجو کے لیے ہوتا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہی:
”رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں اس کا زیادہ امکان ہے لہٰذا ان راتوں کا خاص اہتمام کیا جائے“۔آخری عشرے کی برکتوں کے حصول کا ایک مسنون طریقہ اعتکاف بھی ہے اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ یکسو ہو کر اللہ کے گھر میں یعنی مسجد میں سب سے منقطع ہو کر عبادت کی نیت سے بیٹھ جائے اور سب سے الگ تنہائی میں اس کے ذکر وفکر میں مشغول رہے۔
یہ عبادت ،مقدور،امکان اور موقع پر ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اسوہ بتاتا ہے کہ اگر انسان کو موقع میسر آئے تو رحمت ومغفرت کے حصول اور رمضان کی خصوصی برکتوں سے استفادے کا یہ طریقہ بھی ہوسکتاہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرماتے تھے ،وفات تک آپ کا یہ معمول رہا(مسلم)اس ماہ مبارک کی رخصت کے لمحات قریب ہونے کی وجہ سے ہمارے اندر خود احتسابی کی کیفیت اورز یادہ پیدا ہونی چاہیے۔
اس ماہ مبارک کی رخصت کا احساس ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم نے گناہوں سے بچ کر روزے کے عمل کو اپنے لیے شفیع بنایا۔
کیا ہم نے غریبوں مسکینوں اور حاجت مندوں کی مالی اور اخلاقی امداد واعانت سے اس عمل صدقہ کو اپنا شفیع بنایا کیا تلاوت کرکے قرآن کریم اور ایمان واحتساب کے ساتھ تراویح پڑھ کر ہم نے ان اعمال کو اپنے لیے شفیع بنایا۔
کیا لیلة القدر کی آمد سے فائدہ اٹھا کرہم نے مغفرت کا سامان کرلیا؟کیا ہمارے اخلاق وکردار میں ایسی پاکیزگی آئی کہ ہم اتحاد ،محبت اور ہمدردی کے پاکیزہ جذبات کی وجہ سے اب ایک بہتر انسان اور معاشرے کے کار آمد فرد بن سکیں؟کیا اسباب دنیاوی کی طرف کشش کی حریصانہ کیفیت ختم ہوئی؟کیا ہم میں صبرواستقامت کی وہ کیفیت پیدا ہوئی کہ دنیا کی کوئی طاقت اور آسائش والی ابتلا کی کوئی گھڑی ہمیں راہ حق سے منحرف نہ کر سکے۔اگر یہ باتیں مکمل طور پر ہمارے اندر پیدا نہیں ہوئیں تو ہمیں اس جمعتہ الوداع کو اپنے لیے توبہ اورآئندہ کے لیے عزم عمل کا بہترین موقع سمجھنا چاہیے اور یہ یقین رکھنا چاہیے کہ ماہ مبارک کے جو بھی لمحات باقی ہیں ان سے بھی ہماری کوتاہیوں کی تلافی ہو سکتی ہے۔

Your Thoughts and Comments