Maah E Sayam Naikion Ka Mausam E Bahar

ماہ صیام، نیکیوں کا موسم بہار

روزے کا مقصدتقویٰ اور پرہیز گاری کا حصول ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ روزہ تو صرف میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا

Maah e Sayam Naikion Ka Mausam e Bahar
حافظ محمد عارف زاہد:
رمضان المبارک کی رحمت،مغفرت اور بخشش کا مہینہ ہے۔یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس میں رشدوہدایت کا ابدی سرچشمہ قرآن کریم نازل ہوا۔یہ اعتراف بندگی کا مظہر،تزکئیہ نفس کا ذریعہ اور قرب الہٰی کا سرچشمہ ہے۔قرآن کریم نے جہاں روزے کی فرضیت کا ذکر کیا ہے وہیں اس کے مقاصد کو بھی بڑے واضح انداز میں بیان فرمایا ہے۔
چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”اے ایمان والو رتم پر اسی طرح روزے فرض کئے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے۔تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ“اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خصوصیت سے روزے کی فرضیت کا مقصد بیان فرمایا ہے۔روزے کا مقصد تقویٰ اور پرہیز گاری کا حصول ہے۔تقوی کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور تمام صغیرہ وکبیرہ گناہوں سے مکمل پرہیز کانا اور روزہ جسے عربی میں صوم کہتے ہیں اس کے معنی بھی یہی ہیں یعنی بچنا،رکنا اور باز رہنا۔


اللہ نے روزے کی حالت میں کھانے پینے اور تمام گناہوں سے پرہیز کا حکم دیا ہے۔تو اب روزے دار کیلئے ضروری ہے کہ وہ کھانے پینے اور نافرمانی کے تمام کاموں اور گناہوں سے پرہیز کرے لیکن لوگ عام طور پر روزہ صرف بھوکا پیاسا رہنے کو سمجھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہوں سے پرہیز نہیں کرتے مثلا روزہ تو رکھ لیتے ہیں لیکن نمازوں کا اہتمام نہیں کرتے،نگاہوں کی حفاظت نہیں کرتے،اسی طرح بھوکے پیاسے تو رہتے ہیں مگر گالی گلوچ بھی جاری رکھتے ہیں۔
زبان سے جھوٹ بولتے ہیں ،بے جا غصہ کرتے ہیں،بعض دفعہ ہاتھا پائی پر بھی اتر آتے ہیں۔یہ سب چیزیں روزے کے منافی ہیں ،ان سے روزے کا ثواب ضائع ہوجاتا ہے۔روزے کا ثواب کیا ہے۔صحیح بخاری و صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ انسان کہ نیک اعمال کے ثواب میں اس طرح اضافہ کیا جاتا ہے کہ ایک نیکی کا ثواب دس گنا تک ملتا ہے حتیٰ کہ یہ ثواب سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے مگر روزہ کا ثواب اس سے بھی زیادہ ہوجاتا ہے کیونکہ اس بارے میں اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ روزہ تو صرف میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔
روزہ دار اپنی خواہشات اور کھانے پینے کو صرف میری خوشنودی کیلئے چھوڑتا ہے اور روزے دار کودو خوشیاں حاصل ہوتی ہیں ۔ایک خوشی روزہ کے افطار کے وقت اور دوسری (روز محشر)اپنے پروردگار سے ملاقات کے وقت حاصل ہوگی اور روزے دار کہ منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک سے زیادہ خوشبودار ہوتی ہے۔جبکہ روزہ رکھ کر اس کے منافی امور سے بچنے کا اہتمام نہ کیا جائے تو اس بھوک اور پیاس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت تحویل قبلہ یعنی بیت المقدس کی طرف سے خانہ کعبہ کی طرف قبلہ تبدیل ہونے کے بعد اور حضور اکرمﷺ کے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمانے کے اٹھارہ ماہ بعد ہوئی۔اس ماہ کی خاص عبادت روزہ ہے۔اور اس روزے کا مقصد تقویٰ ہے۔حضور اکرمﷺ نے فرمایا:”جس نے ایمان کے جذبے اور طلب ثواب کی نیت سے رمضان المبارک کا روزہ رکھا ،اس کے گزشتہ گناہوں کی بخشش ہوگئی“(بخاری ومسلم)روزہ ہر مسلمان عاقل ، بالغ، مرد عورت پر فرض ہے،بلا عذر اس کا چھوڑنا گناہ ہے۔
حضور اکرمﷺ نے فرمایا جس شخص نے بغیر عذر اور بیماری کے رمضان المبارک کا ایک روزہ بھی چھوڑدیا تو خواہ ساری عمر روزے رکھتا رہے اس کی تلافی نہیں کرسکتا۔یعنی دوسرے وقت میں روزہ رکھنے سے اگرچہ فرض ادا ہو جائے گا مگر رمضان المبارک کی برکت وفضلیت کا حاصل کرنا ممکن نہیں۔
اس ماہ مبارک میں قلوب کی صفائی بھی بہت ضروری ہے۔جس دل میں کینہ ،حسد،بغض،عداوت کا کھوٹ اور میل جمع ہو،اس پر اس ماہ مبارک کے انور کی تجلی کماحقہ نہیں ہوسکتی۔
یہی وجہ ہے کہ بعض احادیث کے مطابق رمضان المبارک کی راتوں میں سب لوگوں کی بخشش ہو جاتی ہے مگر ایسے دو شخص جو ایک دوسرے سے کینہ و عداوت رکھتے ہوں ان کی بخشش نہیں ہوتی۔اس لئے تقاضائے بشریت کی بنا پر جو آپ میں رنجش ہوجاتی ہے اس سے دل صاف کرلینا چاہیے اور اس ماہ مبارک میں کسی دوسرے مسلمان سے کینہ وعداوت نہیں رکھنی چاہیے۔ماہ مبارک کا دل وزبان اور عمل سے احترام کرنا بھی لازم ہے،اپنی معیصت اور نافرمانی کے مظاہرے سے اس کو آلودہ نہ کریں۔
یہ ماہ مبارک بنی کریمﷺ کی امت کیلئے اس میں خود کو تیار کر لینا چاہیے اور اس پورے ماہ تمام خواہشات نفسانی سے ہٹ کر دل میں ایک تمنا،ایک عہد کریں کہ ہم اس پورے ماہ صرف اور صرف قدم قدم،لمحہ لمحہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکام کی پابندی کریں گے۔انشاء اللہ فیوض وبرکات رمضان سے ہمارے اعمال بارگاہ الہٰی کے درجے پر پہنچا دیں گے۔اللہ تعالی ہم سب کو روزے کے مقصد اور اس کے اجرو ثواب کو حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اسے آسان بنائے۔

Your Thoughts and Comments