Muharram Ul Haram

محرم الحرام

رواداری اوراُخوت کا مہینہ مدینہ طبیہ سے میدان کربلاتک اسلام کے لیئے عظیم قربانیوں کی تاریخ اسی ماہ مبارک سے وابستہ ہے

Muharram Ul Haram
مولانا عبدالرؤوف فاروقی:
محرم الحرم ایثار ،قربانی ،اتحادامت،باہمی رواداری اور پرامن بقائے باہمی کادرس دیتاہے۔ مدینہ طیبہ دسے میدان کربلا تک اسلام کے لیئے عظیم قربانیوں کی تاریخ اسی ماہ مبارک ست وابستہ ہے اور اس ماہ مبارک نے ان قربانیوں کی عظمت وفضیلت کوچار چاند لگادئیے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ماہ محرم کو اُس دن سے عزت واحترام اور حرمت وفضیلت کامہینہ قرار دیا ہے جب سے قرآن مجید کے الفاظ میں جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان وزمین کوپیداکیا اور سال کے بارہ مہینوں میں سے جن چار کومحترم قراردیا اُن میں محرم سرفہرست ہے۔
قبل ازاسلام زمانہ جاہلیت میں بھی ان مہنیوں کا احترام کیا جاتا ہے۔اسلام نے قرآن مجید کی تصدیق اور شہادت سے اس ازلی حرمت کوابدی حرمت بنادیا ہے۔

اسلامی تقویم کاپہلا اور رسول اللہ کی ہجرت مدینہ کے لیئے فیصلوں اور تیاریوں کے لیئے اہم مہینہ ہونے کی وجہ سے محرم الحرام ممتاز ہے اور پھر جس طرح قبل ازاسلام تاریخ کے ایسے عظیم واقعات اس ماہ مبارک میں پیش آئے جنہوں نے انسانیت کواپنی طرف متوجہ کیا۔

اسی طرح دورنبوت ورسالت اور اسلام کے صدر اوّل میں ایسے واقعات پیش آئے کہ امت مسلمہ انہیں فراموش نہیں کرسکتی۔ خاص طور پر یکم محرم الحرام کوخلیفہ دوم ادرسول ﷺ سیدنا حضرت عمرفاروق اور دس محرم الحرام کونواسئہ رسول ﷺ سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی اپنے قافلہ اورخاندان نبوت کے افراد کے ساتھ شہادت کے واقعات نہ صرف مسلمان بلکہ انسانیت اور تاریخ انسانیت ان سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔
ان اہم واقعات کی وجہ سے امت نے اسلام کی سربلندی کی لیئے جدوجہد کے سفر کو مدینہ وکربلاسے وابستہ کرلیا ہے کہ خون شہادت سے اسلامی تاریخ سرخ روہے اور مسلمان کاایمانی جذبہ اپنے اندرمسلسل حرارت محسوس کرتا ہے۔
ایک طرف اسلام کی ایک بنیادعدل اجتماعی ہے اور اس کے لیئے حضرت سیدنافاروق اعظم رضی اللہ عنہ کااسوہٴ قابل تقلید ہے تو دوسری طرف ایک بنیاد اپنی اور اپنے خاندان کی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا ہے اور اس کے لیئے خاندان نبوت اور سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا صبرورضا۔
اعلائے کلمة اللہ جرأت واستقامت اور جس مئوقف کوحق سمجھتے تھے اس کے لیئے ہر مخالف کے ساتھ ٹکراجانا ایک ایسا کردار ہے جس نے تاریخ کو کربلاکوامت مسلمہ کوا ور ایمانی جذبوں کوزندہ جاوید کردیا ہے۔
ان قربانیوں کاسب سے بڑا سبق ہے ذاتی جذبات وخواہشات اور مفادات کی قربانی دینا کسی عظیم مقصد کے لیئے۔آج کے حالات میں جب اسلامی جمہوریہ پاکستان بیرونی دباؤ کاشکار ہے اور چاروں طرف سے پاکستان کودشمن طاقتوں نے اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے۔
ان حالات میں داخلی طور پر رواداری اور پرامن بقائے باہمی کے اصول پرعمل کیاجائے اور داخلی انتشار کی پرکوشش کوناکام بنایا جائے۔یہ وقت کی ضرورت،محرم الحرام کاپیغام ہے اور امت کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کی سب سے بڑی تدبیر ہے۔اور اس سلسلہ میں علماء کے ساتھ ساتھ قومی اداروں کی بھی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔

Your Thoughts and Comments