Ramzan Kareem Aur Kramaat

رمضان کریم اور کرامات

حضرت عبدا للہ بن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ خیر کی بخشش اور خلق خداکی نفع رسانی میں اللہ کے سب بندوں سے فائق تھے اور رمضان المبارک میں آپﷺ کی یہ کریمانہ صفت۔۔۔

Ramzan Kareem Aur Kramaat
عظمیٰ مقصود:
رمضان اور معمولات نبوی ﷺ
حضرت عبدا للہ بن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ خیر کی بخشش اور خلق خداکی نفع رسانی میں اللہ کے سب بندوں سے فائق تھے اور رمضان المبارک میں آپﷺ کی یہ کریمانہ صفت اور زیادہ ترقی کرجاتی تھی۔ رمضان کی ہر رات میں جبرائیل امین آپ سے ملتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کو قرآن مجید سناتے تھے۔
جبرائیل آپ ﷺ سے ملتے تو آپﷺکی اس یمانہ نفع رسانی اور خیر کی بخشش میں اللہ کی بھیجی ہوئی ہواؤں سے بھی زیادہ تیزی آجاتی اور زور پیدا ہوجاتا۔
جنت کا دروازہ:
صحابی رسول ﷺ حضرت سہل سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا جنت کے دروازوں میں ایک خاص دروازہ ہے جسے ”باب الر یان “ کہا جاتا ہے اس دروازے سے قیامت کے روز صرف روزے داروں کا داخلہ ہوگا ان کے سوا اس دروازے سے کوئی اور داخل نہیں ہوسکے گا اس دن پکارا جائے گا کہا ہیں وہ بندے جو اللہ کے لیے روزے رکھا کرتے تھے (اور بھوک پیاس کی تکلیف اٹھایا کرتے تھے) وہ اس دن پکار پر چل پڑیں گے ان کے سوا اس دروازے سے کسی اور کا داخلہ نہیں ہوسکے گا۔

جب وہ روزے دار اس دروازے سے جنت میں پہنچ جائیں گے تو یہ دروازہ بند کر دیا جائے گا پھر کسی کا اس سے داخلہ نہیں ہوسکے گا۔
روزہ اور اللہ رب العزت:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ابن آدم کے ہر عمل کا ثواب بڑھتا رہتا ہے اسے ایک نیکی کا ثواب دس گنا سے سات سو تک ملتا ہے اور اس سے زائد اللہ جتنا چاہے، اتنا ملتا ہے مگر روزے کے متعلق اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ وہ تو میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔
روزے دار اپنی خواہشات اور کھانے پینے کو میری ہی وجہ سے چھوڑتا ہے۔
روزے دار کے لیے خوشیاں:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: روزے دار کے لیے دوخوشیاں ہیں ایک خوشی تو اسے افطار کے وقت ملتی ہے اور ایک خوشی اپنے رب کی ملاقات کے وقت ملے گی روزے دار کے منہ کی بواللہ کے ہاں خشک کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے۔
ماہ مبارک کی ایک مقدس رات:
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: اس ماہ مبارک میں ایک ایسی عظیم وبارکت رات ہے جو صرف ہزار دنوں اور ارتوں ہی سے نہیں بلکہ ہزرا مہینوں سے افضل ہے۔
ہزار مہینوں میں تقریباََ تیس ہزار راتیں ہوتی ہیں، گویا امت محمد ﷺ کے خوش بخت افراد اور ورضا کے طالب بندے اس ایک رات میں شب داری اور عبادت ومنا جات کے ذریعے قرب الٰہی کی اتنی مسافتیں طے کر سکتے ہیں جو دوسری ہزار راتوں میں بھی طے نہیں ہوسکتیں۔
روزہ اور اس کے تقاضے:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: حقیقی روزہ تو یہ ہے کہ آدمی بے ہودہ اور لغوبات سے بچنے اور نفسانی جذبات بھڑ کانے والی گفتگو سے بھی بچے۔
سو اے روزے دار اگر تجھے کوئی گالی دے یا جہالت پر اتر آئے تو توٌ کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں میں روزے سے ہوں۔
روزہ اور قرآن:
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ ارشاد فرمایا : ” روزہ اور قرآن دونوں بندے کی سفارش کریں گے روزہ عرض کرے گا کہ اے میرے پروردگار میں نے اس بندے کو کھانے پینے اور نفس کی خواہش پورا کرنے سے روکے رکھا تھا آج میری شفاعت اس کے حق میں قبول فرما اور قرآن کہے گا کہ میں نے اسے رات کے سونے اور آرام کرنے سے روکے رکھا تھا۔
خدادند آج اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما چناں چہ روزے اور قرآن دونوں کی سفارش اس بندے کے حق میں قبول کی جائے گی اور اس کے لیے مغفرت اور جنت کا فیصلہ فرما دیا جائے گا۔
روزہ: برائیوں کے خلاف ڈھال:
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اکرم ﷺ کو فرماتے سنا آپ ﷺ فرما رہے تھے۔ الصوم حبة، روزہ ڈھال ہے۔
یعنی جس طرح لڑائی میں ڈھال دشمن کے حملوں سے محفوظ رکھتی ہے۔ اسی طرح روزہ ، روزے دار کو برائیوں اور گناہوں سے محفوظ کرتا اور جنت کا حق دار بناتا ہے۔
روزہ: جسم کی زکوة:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا ہر چیز کی زکوٰة ہوتی ہے۔ اور جسم کی زکوٰة ہے۔ ( ابن ماجہ) یعنی ہر چیز کو صاف کرنے والی پاک کرنے والی کوئی نہ کوئی شے ہوتی ہے چناں چہ جسم کو پاک کرنے والا روزہ ہے۔
رمضان کے بدنصیب:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ” جس شخص نے روزہ رکھنے کے باوجود جھوٹ بات کہنا اور اس عمل کرنانہ چھوڑا تو اللہ کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ وہ بھوکا رہتا ہے یا پیاسا۔

Your Thoughts and Comments