Ramzan Ul Mubarak K Adaab

رمضان المبارک کے آداب

روزہ ترتیب نفس کابہترین ذریعہ ہے

Ramzan Ul Mubarak K Adaab
حکیم محمد سعید شہید:
رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں، سعادتوں اور نعمتوں کا مہینہ ہے۔ اس کی آمد پر ہر صاحب ایمان فرحت ومسرت محسوس کرتا ہے اور روحانی امیدوں کے ساتھ اس کا استقبال کرتا ہے۔ اس میں چھوٹے بڑے، امیر غریب، عورت مرد، مشرقی مغربی، شمالی جنوبی، کالے گورے کی تمیز نہیں تمیز ہے تو بس ایمان وعقیدے کی۔
جس نے ایمان سے بہرہ پایا ہے وہ رمضان کو خوش آمدیدکہتا ہے، رمضان سے برکتیں حاصل کرنا ہے، دینی فوائد حاصل کرتا ہے اور روحانی بلندیوں کی جانب گامزن ہونے کی کوشش کرتا ہے۔
قرآن حکیم ارشاد فرماتا ہے: رمضان کے مہینے میں قرآن اتاریا گیا۔ اس میں لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور روشن دلیلیں ہیں، راہ پانے کی اور حق کو باطل سے جدا کرنے کی۔

پس تم میں سے جو کوئی پائے اس مہینے کو توروزے ضرور رکھے اور جو کوئی بیمارہو یا سفر میں ہوتو اس کی گنتی پوری کرنی چاہیے دوسرے دنوں سے۔

اللہ تمہارے لیے سہولیت چاہتا ہے، دشواری نہیں چاہتا اور یہ کہ تم گنتی پوری کرواور اللہ کی بڑائی کرو اس بات پرکہ تم کوہدایت عطا کی کہ تم احسان مانو۔ (البقرہ 185)
دوسری عظمت رمضان کی یہ ہے کہ اس میں روزے فرض کیے گئے۔
ترجمہ: اے اصحاب ایمان! تم پرروزے فرض کیے گئے، اسی طرح جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔
(البقرہ: 183)
روزے کا مقصد نیکی وپرہیز گاری بیان فرمایاگیا ہے اور اسی ماہ میں قرآن کا نزول ہوا تاکہ نیکی اور پرہیز گاری، پاکیزگی اور نیکوکاری کیلئے پوری پوری رہنمائی میسرآئے۔ قرآن مکمل ضابطہ اخلاق ہے اور دستورحیات اور رمضان کاسب سے بڑا عطیہ یہ ہے کہ اس ماہ مقدس میں شارع اسلام ﷺ پر کتاب ہدایت اتاری گئی جس کی روشنی قیامت تک نوع انسانی کی رہنمائی کرتی رہے گی۔
قرآن ہمیں بہترین زندگی بسر کرنے کا ڈھنگ سکھاتا ہے، اچھائی اور برائی میں تمیز کرنے کاواضح معیار عطافرماتا ہے، سیدھا صاف راستہ دکھاتا ہے۔ عبداور معبود کے تعلق کو واضح کرتا ہے اور دین ودنیا کی نعمتوں کی نشان دہی کرتا ہے۔ اخلاق واعمال کامثالی نمونہ دیتا ہے۔ تقوے اور طہارت کے درمیان محبت اور مودت کی بنیادیں عطا کرتا ہے۔ انفرادی اور اجتماعی زندگی کے رہنمااصول کی تعلیم دیتا ہے۔

روزے ترتبت کابہترین ذریعہ ہیں۔ پاکیزہ زندگی کیلئے نفس کی تربیت لازمی ہے۔ محض اچھے اصولوں کی تعلیم اس وقت تک غیر موثر ہے جب تک افراد کی تربیت اس کے مطابق نہ ہو۔ قول سمجھ ہواور عمل کچھ تو قو کاحسن بے معنی ہوجاتا ہے۔ عمل ہی انسان کازیور ہے اور اسی سے انسان کی پستی اور بلندی ظاہر ہوتی ہے۔ قرآن عمل کی تعلیم دیتا ہے اور عمل ہی کی بنیاد پر انسان کو جانچتا ہے۔
جس معاشرے کے افراد عمل سے عاری ہوں وہ معاشرہ قرآن کے معیارے ناقص اور ناکام ہے۔ اس مہینے میں انسان خود اپنا تجزیہ کر سکتا ہے اور خوداپنی تربیت کرسکتا ہے۔ اس مہینے میں وہ بہت سی جائز چیزوں کو بھی ایک مقررہ مدت میں حرام کر لیتا ہے۔ وہ کھاسکتا ہے مگرنہیں کھاتا۔ وہ پی سکتا ہے مگر نہیں پیتا۔ وہ اپنے نفس کی دوسری خواہشات بھی پوری کرسکتا ہے مگروہ ان جائز خواہشات کی تکمیل بھی نہیں کرتا، کیونکہ وہ اللہ کی رضا حاصل کرنا چاہتا ہے۔
وہ اپنے ساتھیوں کی ہمدردی اور خدمت بھی کرتا ہے اور ان کے دکھ درد کوزیادہ بہتر طریقے سے سمجھنے لگتا ہے۔
اس مہینے میں اللہ کی رحمتوں کی بارش ہوتی ہے۔ اس کے بعد بھی ہم اگر پیاسے رہیں تو یہ ہمارا قصور ہے۔ ہم اللہ کی بندگی کیلئے پیدا کیے گئے ہیں اور اس کی بندگی سے روگردانی کریں گے تودنیا کی ہرمعمولی طاقت کے آگے ہمیں جھکنا پڑے گا۔
ہماری افلاح ونجات صرف پیرو ی قرآن میں ہے اوراتباع قرآن کا بہترین نمونہ سرورکائنات ﷺ کی ذات اقدس واعلیٰ ہے۔ صرف اور صرف اسوہ حسنہ کی پیروی کرکے ہی ہم سرفراز اور سرخرو ہوسکتے ہیں۔ سربلندی اور سرفرازی ہماری منتظر ہے۔ قرآن کی بتائی ہوئی راہ پر ایک بار چل پڑئیے، بلندیاں آپ کے پیچھے پیچھے آئیں گی اور اس کے آغاز کیلئے رمضان بہترین وقت ہے۔

Your Thoughts and Comments