Ramzan Ul Mubarak Ki Rehmatain Phir Aam Huwin

رمضان المبارک کی رحمتیں پھر عام ہوئیں

اس مہینے میں قرآن مجید نازل ہوا عبادت وعبودیت کے انوار پرفشاں ہونے لگے

Ramzan ul Mubarak Ki Rehmatain Phir Aam Huwin
سید محمدوجیہہ السیما رفانی:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، تم پر ایک عظمت اور برکت والا مہینہ سایہ افگن ہورہاہے، جس ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآ ن کریم میں فرماتا ہے۔
ترجمہ: اے ایمان والو! روزے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پرفرض کئے گئے تھے تم پربھی فرض کردئیے گئے ہیں تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔
(البقرہ۔ 183)
رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن مجیدنازل کیاگیا، جو لوگوں کے لئے سراسرہدایت ہے اوراس میں لوگوں کی صحیح رہنمائی کی باتیں ہیں اور غلط اور صحیح کو الگ الگ کردینے والی صاف اور واضح باتیں موجود ہیں سو تم میں سے جوکوئی اس مہینے میں موجود ہو دو اس پورے مہینے کے روزے ضرور رکھے۔ (البقرہ 185)
الحمداللہ رمضان المبارک کی پھر رحمتیں عام ہوئیں۔

یہ وہ پاکیزہ ساعتیں ہیں جن میں جمال حق پر تو فگن ہوتا ہے، باطنی نعمتیں ہر طرف پھیلتی ہیں، عبادت وعبودیت کے انوار پر فشاں ہوتے ہیں ‘ پیشانیاں‘ اللہ کی بارگاہ صمدیت میں جھکی ہیں ،سجدوں کی لذات عطاہوتی ہیں، بیدارئی شب کی حلاوتیں اہل ایمان کو ملتی ہیں، تلاوت کلام پاک کی فراوانیاں ہوتی ہیں درودسلام کے زمزمے گونجتے ہیں، تسبیح وتقدیس کے نغمے دل ربا بنتے ہیں اور ایک ایسی ہمہ گیر کیفیت قلب کی نوازش ہوتی ہیں، جسے بس ایمان والا ضمیرہی محسوس کرتا ہے۔

سروراولین وآخرین نے ارشاد نے فرمایا!
(ترجمہ) کہ لوگو! یقین رکھو، تمہاری زندگی کے شب وروز میں تمہارے پروردگار جل شانہ نے تمہارے لئے اپنی رحمتیں عام کیں، ہواؤں کے جھونکے معین کررکھے ہیں۔ یادرکھو کہ ان ساعتوں میں عظیم نعمتیں تمہارے ہی لیے ہوتی ہیں۔ تمہیں ان ساعتوں کے حصول کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔ اپنے دامن دل کو کشادہ کرنا چاہیے اورحصول مراد سے شاد کام ہونا چاہیے۔

ایسی بابرکت اور مقدس ساعتوں میں ایک طے شدہ عرصہ رمضان کا ہے۔ وہ کیسی عظمتوں والی ساعتیں ہیں جن میں قرآن مجید جیسی عظیم اور خاتم کتاب حق نازل کی گئی ہے۔ حضور اکرامﷺ نے ارشاد فرمایا کہ رمضان کے تین عشرے ہوتے ہیں۔ اس کاپہلا عشرہ سراسررحمت کا ہے ، درمیانہ عشرہ نزول بخشش کاہے اور آخری عشرہ تو عذاب سے خلاصی کی دستاویز ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول برحق نے ارشادہ فرمایا:
جس شخص نے رمضان کے روزرے رکھے حالت وایمان میں اور کیفیت احتساب میں، اس کے لئے اس کے پہلے گناہ معاف کردیے جائیں گے اور جو شخص رمضان میں عبادات میں مصروف رہے گا حالت ایمان میں اور کیفیت احتساب کے ساتھ اس کی پچھلی کوتاہیاں معاف کردی جائیں گی اور جس شخص نے حالت ایمان اور کیفیت احتساب کے ساتھ شب قدر میں عبادات کیں اس کی گزری کوتاہیاں بخش دی جائیں گی۔

اس حدیث پاک کا عام مفہوم تو واضح ہے تین باتیں اس میں توجہ طلب ہیں۔ پہلی یہ کہ رمضان کامبارک مہینہ کائنات وجود شہود کے ایک بنیادی عنصریعنی وقت یازبان با Time کا ایک نہایت اہم حصہ ہے اور اس میں ایک رات جولیلہ القدر ہے سب سے اہم اور منفر حیثیت کی حامل ہے۔ اس بابرکت وقت یا مہینے کی دوسری اہمیت یہ ہے کہ اسی مہینے یااسی کی ایک رات میں وہ وحی تمام نازل ہوئی ہے جو تاابدالآباد کتاب حق بھی ہے ، نوروہدایت بھی ، اس کانام قرآن عظیم ہے اس پتہ چلتا ہے کہ رمضان کیسا بابرکت مہینہ ہے،کہ روزوں کی فرضیت اہل ایمان کے عمل میں اور نزول قرآن حکیم اپنے علم حق میں اللہ جل شانہ نے اسی مہینے میں رکھا۔
دوسری بات یہ ہے کہ رمضان میں روزے تو فرض ہیں ہی، اس مہینے کا قیام یعنی عبادت ربانی بھی لازم ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس مبارک مہینے کی ساعتوں کو پاکیزہ مسنون اورمشروع اشغال کے لئے استعمال کرکے ان میں برکت ونعمت کے حصول کی سعی کرنی چاہیے۔
تیسری بات یہ ہے کہ ایمان واحتساب کے دو مبارک لفظ استعمال فرمائے ہیں تاکہ ہرشخص کے سامنے یہ بات عہے کہ اگرایمان مکمل نہیں تو محض روزے رکھنا ایک شغف ہوگا جو مقبول نہیں۔
ایمان اللہ جل شانہ پر جیسا وہ ہے ایمان حضوراکرم ﷺ پر جیسے وہ ہیں، ایمان قرآن حکیم پر جو کچھ وہ ہے اور جن چیزوں پر یقین اورجن اعمال کی پابندی کا وہ حکم دیتا ہے۔ ایمان صحیح ہوگا تو روزہ عبادات اور مشاغل کارگرہوں گے۔ یہ بدیہی شرط اول ہے دوسری شرط احتساب کی ہے۔ ایمان ایک مومن کے قلب وضمیر میں ہے۔ احتساب اس کے ذہن و فکر میں۔ احتساب کا مفہوم یہ ہے کہ صیام وقیام یا کسی بھی دوسرے حکم کی اتباع اور ہر ایک عمل میں دو باتیں ہوں، قلب وضمیر میں یہ بات گہری اور دائم ہوکہ میں جو میں بھی اچھا عمل کررہا ہوں یہ خالص اللہ جل شانہ کے لئے ہے جیسا کہ حضور اکرمﷺ نے اپنی سنت، ارشادات اور شریعت میں فرمایا ہے ۔
یہ اس ذات حق تعالیٰ کے حضور ہے جو میرے ظاہروباطن میرے عمل ونیت ، میرے ارادہ ومشاغل ہرشے سے ہرساعت علیم وخیبر ہے۔ اس میں میرا اخلاص اسی ذات کے لئے ہے اور وہی اپنے فضل سے اسے قبول فرمائے۔ اسی طرح ہر عمل میں اپنی فکروہوش میں یہ بات ہو کہ ہر عمل ٹھیک اس طریق سے اور انداز سے مکمل ہو جو شریعت اور احکام دین میں واضح ہے کیونکہ وہی اس کے صحیح ہونے کامعیار ہے اس طرح ایمان واحتساب پرعمل خیر کی شرائط ہیں۔

Your Thoughts and Comments