Rawadari Islam Or Mah E Muharram Ul Haram

رواداری، اسلام اور ماہ محرم الحرام

محرم الحرام کا معنی عزت، عظمت اوربزرگی اورحرمت والا مہینہ ہے۔ ہم مسلمان ہیں، ہمارے مذہب اور دین کا نام اسلام ہے، اسلام سلامتی سے بنا ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں دین اسلام کو سچا دین قرار دیا ہے

Rawadari Islam Or Mah e Muharram Ul Haram
مولانا محمودالرشید حدوٹی:
رواداری کے معنی ’ رکھ رکھاوٴ، درگزر، معافی اور دوسروں کو برداشت کرنے ‘ کے ہیں۔ کسی با ت کو رعایت سے جائز رکھنا، امن ، شانتی اور سلامتی دینابھی اسلام میں بے تعصبی کا معنی ہے۔ محرم الحرام کا معنی عزت، عظمت اوربزرگی اورحرمت والا مہینہ ہے۔ ہم مسلمان ہیں، ہمارے مذہب اور دین کا نام اسلام ہے، اسلام سلامتی سے بنا ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں دین اسلام کو سچا دین قرار دیا ہے، ساتھ ہی یہ بھی واضح کر دیا کہ دین اسلام کے علاوہ کسی دین کو ہمارے ہاں قبول نہیں کیا جائے گا۔
ایک مقام پر فرمایا گیا کہ دین اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاوٴ۔
قرآن کریم کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی تعلیمات کس قدرروشن ہیں،اس میں اللہ نے فرمایا کہ تم ان لوگوں کے معبودوں کوگالی نہ دو جو جہالت کی وجہ سے ان کی پوجا اور پرستش کرتے ہیں۔

اگر تم نے ایسا کیا تو وہ جواباً طیش میں آ کر، غصے میں آ کر تمہارے معبود برحق یعنی اللہ تعالیٰ کوگالی دیں گے۔

(الانعام 108)
کیسا خوبصورت اصول بتا دیا کہ تم بے شک سچ پر ہو، حق پر ہو، توحیدی ہو، شرک سے نفرت کرتے ہو، ایک اللہ کو اپنا معبود مانتے ہو، اللہ کے احکامات کی پیروی کرتے ہو مگر یہ یاد رکھو کہ امن و شانتی کا راستہ یہ ہے کہ دوسروں کے جھوٹے معبودوں کو بھی تم بُرا مت کہو، انہیں تمہاری طرف سے بُرا بھلا نہ کہنا یہ امن کی اور سلامتی کی ضمانت ہے۔

پھر قرآن کریم نے واضح کیا کہ اللہ ایک ہے، وہ خالق ہے، موجد ہے، تو اس کے پیدا کرنے سے بہت سی مخلوقات وجود میں آئی ہیں، خالق اکیلا ہے اس میں یکسانیت ہے، جبکہ مخلوقات میں تنوع ہے، یکسانیت نہیں ہے، ان کی طبیعتیں مختلف ہیں، ان کے مزاج مختلف ہیں، کہیں گرم مزاجی ہے اورکہیں سرد مزاجی، جب انسانی مزاجوں میں تفاوت، فرق اور اختلاف ہے تو یقیناً وہاں امن و سلامتی کی ضمانت تب ہی دی جا سکتی جب ایک دوسرے کے مزاج اور طبیعت کا لحاظ رکھا جائے۔

اسی طرح جب اللہ نے انسانوں کو دنیا میں بھیجا، انہیں دین دیا، شریعت سے نواز، تو اس اعتبار سے الٰہی اور آسمانی تعلیمات میں توکوئی باہم فرق نہیں ہے مگر ان ادیان کے پیروکاروں نے اختلافات پیدا کر کے اتحادکے خوبصورت درخت کو شکست و ریخت سے دوچارکر ڈالا اور اس لڑی کو بکھیر دیا۔ اس لیے ضرورت پیدا ہو گئی کہ ایک دوسرے کے اختلافات کو بنیاد بنا کر قتل و خونریزی کا سلسلہ شروع نہ کر دیں، اللہ نے انہیں سمجھایا کہ دیکھو اچھے طریقے سے دفاع کرو، جس شخص کے ساتھ تمہاری عداوت اور دشمنی ہے اگر تم اس کے ساتھ اچھا رویہ اختیارکرتے ہوئے بات چیت کرو گے تو کل کلاں وہی تمہارا دشمن تمہارا بہی خواہ بن سکتا ہے۔
(سورة النحل 125)
اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ دین میں کوئی جبر نہیں ہے، کوئی زور اور زبردستی نہیں ہے، حق بھی واضح ہے اور گمراہی بھی واضح ہے، جس نے راہ راست کو اختیار کر لیا اس نے تو ایک مضبوط کڑا ہاتھ میں لے لیا ہے، اسے گرنے کاخطرہ نہیں ہے۔ (البقرہ 254)
اسی طرح سورة الکہف کی آیت 29 میں ارشاد فرمایا : حق اللہ کی طرف سے ہے ، جس کا دل چاہے مان لے اور جس کا دل چاہے انکارکر دے۔

اس آیت کی روشنی میں ہم میں سے آج ہر شخص، ہر مسلک، ہر مذہب و مشرب دل پر ہاتھ رکھ کر سوچے، دیوبندی، بریلوی، شیعہ اور سُنی کے خول سے باہر نکل کر سوچے کہ جس اللہ نے ہمیں پیدا کیا، جس کی طاقت اور قوت کا اندازہ لگانا مشکل ہے، کبھی کبھی اس کی قوت اور طاقت کی ایک معمولی سی جھلک، سیلابوں، زلزلوں اور طوفانوں کی شکل میں دکھائی دیتی ہے، اتنی بڑی طاقت والے اللہ کے ہاں کیا مشکل ہے کہ وہ اپنے حکم سے سرتابی کرنے والے کی گردن مروڑ دے۔
وہ اپنے نافرمانوں پر بے آواز لاٹھیاں برسا کر عبرت کا نشان بنا دے، مگر وہ ایسا نہیں کرتا، کہیں کہیں وہ جو جھلک دکھاتا ہے دوسروں کو خبردار کرنے کے لیے، دوسروں کو خرمستیوں سے باز رکھنے کے لیے ہے ، مگر وہ سب کو برداشت کرتا چلا جاتا ہے، وہ صدائیں دیتا رہتا ہے کہ باز آ جاوٴ، راہ راست پر آ جاوٴ، مگر نافرمانوں کی نافرمانی کی وجہ سے رزق کے دروازے ان پر بند نہیں کرتا، اس کے خزانہ سے کبر و ترسا سیراب ہوتے ہیں، ہندو مسلمان سیراب ہوتے ہیں، یہود و نصاریٰ مالا مال ہوتے ہیں، اس نے اپنی نوازشات میں کہیں فرق نہیں رکھا ہوا، وہ سب کو نوازتا چلا جا رہا ہے۔

مگر ہم بضد ہیں کہ دوسرا آدمی جو دوسرے فرقے سے تعلق رکھتا ہے وہ ہمارے فرقے میں آ جائے، دوسری جماعت کا بندہ ہماری جماعت کا فارم پرکر دے، اس کے لیے ہم مختلف طرح کے حیلے اور جتن بھی بروئے کار لاتے ہیں، ناجائز اور اوچھے ہتھکنڈے بھی استعمال کرتے ہیں، دوسری جگہ جمے رہنے پر ہم سیخ پا ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات داوٴ لگنے کی صورت میں اس کے خون سے ہولی بھی کھیلتے ہیں اور پھر ہم خوش ہوتے ہیں کہ ایک بے گناہ کی جان لے کر ہم نے بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔
حالانکہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، ایک جان کو مارنے والے نے گویا ساری انسانیت پر وارکیا ہے، بے گناہ کے خون سے ہاتھ رنگنے والا شاید دنیاکی عدالتوں سے بچ جائے، پولیس سے بچ جائے، سزائے موت سے بچ جائے مگر ربّ العالمین نے اپنی سچی کتاب میں اسے پیغام سنا دیا ہے کہ تیرا انجام دوزخ کی آگ ہے۔ رواداری اللہ کو محبوب ہے، اسی لیے تو اللہ نے عفو و درگزر اور معافی کو بڑی اہمیت دی ہے۔ چنانچہ ہمارے ہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی رواداری کا لفظ محض رسمی طور پر استعمال کرنے کی بجائے اس کا عملی طور پر مظاہرہ بھی کرے۔

Your Thoughts and Comments