Rehmat Mughfirat Ka Mahina

رحمت ، مغفرت اور بخشش کا مہینہ

رمضان المبارک رحمت، مغفرت اور بخشش کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس میں رشد ہدایت کا ادی سر چشمہ قرآن کریم نازل ہوا۔ یہ اعتراف بندگی کا مظہر، تزکیہ نفس کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ اعتراف بندگی کی مظہر، تزکیہ نفس کا ذریعہ اور قرب الہٰی کا سرچشمہ ہے۔ قرآن مجید نے جہاں روزے کی فرضیت کا ذکر فرمایا ہے

Rehmat Mughfirat Ka Mahina
حافظ محمد عارف زاہد:
رمضان المبارک رحمت، مغفرت اور بخشش کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس میں رشد ہدایت کا ادی سر چشمہ قرآن کریم نازل ہوا۔ یہ اعتراف بندگی کا مظہر، تزکیہ نفس کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ اعتراف بندگی کی مظہر، تزکیہ نفس کا ذریعہ اور قرب الہٰی کا سرچشمہ ہے۔ قرآن مجید نے جہاں روزے کی فرضیت کا ذکر فرمایا ہے وہیں اس کے مقاصد کو بھی بڑے واضح انداز میں بیان فرمایا ہے۔
چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے” اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کئے گے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گے تھے تاکہ تم پرہیز گار بن جاو“ (سورة البقرہ:آیت 183 ) ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خصوصیت سے روزے کی فرضیت کا مقصد بیان فرمایا ہے۔روزے کا مقصد تقویٰ اور پرہیز گاری کا حصول ہے ۔

تقویٰ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور تمام صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے مکمل پرہیز کرنا ، اور روزہ جسے عربی میں صوم کہتے ہیں اس کے معنی بھی یہی ہے یعنی بچنا ، رکنا اور باز رہنا۔


اللہ نے روزے کی حالت میں کھانے پینے اورتمام گناہوں سے پرہیز کا حکم دیا ہے توا ب روزے دار کے لیے ضروری ہے کہ وہ کھانے پینے اور نافرانی کے تمام کاموں اورگناہوں سے پرہیز کرے۔ لیکن لوگ عام طور پر روزہ صرف بھوکا پیاسا رہنے کو سمجھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہوں سے پرہیز نہیں کرتے، مثلاََ روزہ تو رکھ لیتے ہیں مگر گالی گلوچ بھی جاری رکھتے ہیں۔
زبان سے جھوٹے بولتے ہیں بے جاغصہ کرتے ہیں بعض دفعہ ہاتھا پائی پر بھی اتر آتے ہیں۔ یہ سب چیزیں روزے کے منافی ہیں ان سے روزے کا ثواب ضائع ہو جاتا ہے۔ روزے کا ثواب کیا ہے صحیح بخاری و صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ انسان کے نیک اعمال کے ثواب میں اس طرح اضافہ کیا جاتا ہے کہ ایک نیکی کا ثواب دس گنا تک ملتا ہے حتیٰ کہ یہ ثواب سات سو گنا تک بڑھادیا جاتا ہے مگر روزہ کا ثواب اس سے بھی زیادہ عطا کیا جاتا ہے کیونکہ اس بارے میں اللہ تعالیٰ خودفرماتا ہے کہ روزہ دار اپنی خواہشات اور کھانے پینے کو صرف میری خوشنودی کے لیے چھوڑتا ہے اور روزے دار کو دو خوشیاں حاصل ہوتی ہیں۔
ایک خوشی روزہ کے افطار کے وقت ہوتی ہے اور دوسری (روزِ محشر) اپنے پروردگار سے ملاقات کے وقت حاصل ہو گی اور روزے دار کے منہ کی بُو اللہ کے نزدیک مشک سے زیادہ خوشبو دار ہوتی ہے۔جبکہ روزہ رکھ کر اس کے منافی امور سے بچنے کا اہتمام نہ کیا جائے تو اس بھوک اور پیاس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔
رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت تحویل قبلہ یعنی بیت المقدس کی طرف سے خانہ کعبہ کی طرف قبلہ تبدیل ہونے کے بعد اور حضور اکرم ﷺ کے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمانے کے اٹھار ماہ بعد ہوئی۔
اس ماہ کی خاص عبادت روزہ ہے اور اس روزے کا مقصد تقویٰ ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے ایمان نے جذبے اور طلب ثواب کی نیت سے رمضان المبار ک کاروزہ رکھا اس کے گزشتہ گناہوں کی بخشش ہو گئی۔“ (بخاری۔ مسلم) روزہ ہر مسلمان عاقل، بالغ مردو عورت پر فرض ہے ۔ بلاعذر اس کا چھوڑنا گنا ہے ۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے بغیر عذر اور بیماری کے رمضان المبارک کا ایک روزہ بھی چھوڑ دیا تو خواہ ساری عمر روزے رکھتا رہے اس کی تلافی نہیں کر سکتا ۔
یعنی دوسرے وقت میں روزہ رکھنے سے اگرچہ فرض ادا ہو جائے گا مگر رمضان المبارک کی برکت و فضیلت کا حاصل کرنا ممکن نہیں (ترمذی ۔ ابوداود)۔
اس ماہ مبارک میں قلوب کا تصفیہ بھی بہت ضروری ہے ۔جس دل میں کینہ، حسد، بغض، عداوت کا کھوٹ اور میل جمع ہو اس پر اس ماہ مبارک کے انوار کی تجلی کماحقہ، نہیں ہو سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ بعض احادیث کے مطابق رمضان المبارک کی راتوں میں سب لوگوں کی بخشش ہو جاتی ہے مگر ایسے دو شخص جو ایک دوسرے سے کینہ و عداوت رکھتے ہوں ان کی بخشش نہیں ہوتی۔
اس لیے تقاضائے بشریت کی بنا پر جو آپس میں رنجش ہوجاتی ہے اس سے دل صاف کرلینا چاہیے اور اس ماہ مبارک میں کسی دوسرے مسلمان سے کینہ و عداوت نہیں رہنی چاہیے۔ ماہ مبارک کا دل و زبان اور عمل سے احترام کرنا بھی لازم ہے ۔ اپنی معصیت اور نا فرمانی کے مظاہرے سے اس کو آلودہ نہ کریں۔ یہ ماہ مبارک نبی کریمﷺ کی امت کے لیے اللہ کی وہ عطا ہے کہ جسے حاصل کرنے کے لیے اس میں خود کو تیار کر لینا چاہیے اور اس پورے ماہ تمام خواہشات نفسانی سے ہٹ کر دل میں ایک تمنا ، ایک عہد کریں کہ ہم اس پورے ماہ صرف اور صرف قدم قدم ، لمحہ لمحہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کی پابندی کریں گے۔
انشاء اللہ فیوض و برکات رمضان سے ہمارے اعمال بار گاہ الٰہی میں مقبول ہو کر ہمیں ”عبدالرحمن “ کے درجے پر پہنچا دیں گے۔ الہ تعالیٰ ہم سب کو روزے کے مقصد اور اس کے اجرو ثواب کو حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اسے آسان بنائے۔ (آمین)

Your Thoughts and Comments