Roza Aur Rozay Daar

روزہ اور روزے دار

اللہ تعالی نے روزے عظیم حکمتوں کیلیے مشروع کیے ہیں ،اور روزے کی سب سے عظیم مصلحت اور حکمت اللہ تعالی کا تقوی پیدا کرنا ہے۔

Roza Aur Rozay Daar
اللہ تعالی نے روزے عظیم حکمتوں کیلیے مشروع کیے ہیں ،اور روزے کی سب سے عظیم مصلحت اور حکمت اللہ تعالی کا تقوی پیدا کرنا ہے۔
اللہ تعالی نے روزہ کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا :
” اے ایمان والو! تم پرروزے رکھنے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تا کہ تم تقوی اختیار کرو : البقرہ ( 183 )۔“
روزہ اسلام کا اہم رکن ہے وہ رکن جس میں ساری دنیا کے مسلمان غریب مالدار بلا تفریق کے تمام شریک ہیں جب کہ زکوة و حج صرف مالداروں پر فرض ہے۔
اسلام کے چار عناصر ہیں ان میں ایک روزہ بھی ہے۔سورہ بقرہ کی ایک آیت کے ذریعہ اللہ تعالی نے فرضیت کا اعلان فرمایا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا ہے کہ لعلکم تتقون یعنی اس کا مقصد یہ ہے کہ تم میں صفت تقوی پیداہو۔

تقوی ہی مومن کے لئے زندگی کا اہم عنصر ہے جس پر آخرت کی کامیابی کا انحصار ہے ۔اگر بندئہ مومن حقیقی معنی میں روزہ رکھے اور تقویٰ کی دولت نصیب ہو جائے تو اس سے بڑی نعمت اور کیا ہو سکتی ہے۔


روزہ کا بدلہ:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ آدمی کے ہر اچھے عمل کا دس سے سات سوگنا تک بڑھایا جاتا ہے مگر اللہ کا ارشاد ہے کہ روزہ اس عام قانون سے الگ ہے وہ بندہ کی طرف سے خاص میرے لئے ایک تحفہ ہے اور میں اس کا اجر و ثواب دوں گا دوسری روایت کے الفاظ کا معنی یہ ہیں کہ میں خود بندہ کے روزہ کا بدلہ ہوں یعنی میری رضا اس کو حاصل ہوگی۔

روزہ دار کے لئے دو وقت خوشی کے :
حدیث میں فرمایا کہ روزہ دار کے لئے دو موقعے بڑی خوشی و مسرت کے ہوں گے ایک خوشی کا موقع جب وہ افطا ر کررہا ہوتا ہے کہ روزہ اللہ کے لئے مکمل ہوا اب کھانے پینے کا موقع ہے اور دوسری خوشی کا موقع جب وہ اللہ تعالی سے ملاقات کریگااور اللہ تعالی اس کو اس کے روزے کا بدلہ دیں گے۔
روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کو پسند ہے :
حدیث میں ہے کہ روزہ دار کے منہ سے نکلنے والی بو جو معدہ خالی ہونے کی وجہ سے آتی ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بہتر ہے‘ ‘یعنی انسانوں کے لئے مشک کی خوشبواچھی اور پسندیدہ ہوتی ہے اللہ کے یہاں روزے دار کے منہ کی بو اس سے بھی اچھی ہے۔

روزہ باعث مغفرت ہے :
نبی اکرمﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جو بند ہ مومن رمضان کے روزے ایمان اور ثواب کی نیت سے رکھے گا ان کے سب گذ رے ہوئے گنا ہ معاف کر دےئے جائیں گے
روزہ دار کی دعا قبول ہوتی ہے:
حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا تین آدمیوں کی دعا رد نہیں ہوتی۔ ان میں ایک فرمایا کہ روز ہ دارجب افطار کے وقت دعا کرتا ہے تو اس کی دعا ضرورقبول کی جاتی ہے۔
بعض روایتوں میں یہ ہے کہ عرش کے اٹھانے والے فرشتو ں کو اللہ تعالیٰ حکم دیتے ہیں کہ اپنی اپنی عبادت چھوڑواور روزے داروں کی دعا پر آمین کہاکرو ۔دعا ء ضرور قبول ہوتی ہے بشرطیکہ قطع رحمی یا کسی گناہ کی دعا نہ کرے۔
رمضان المبارک کی بر کت سے روزہ دار کا اجر بڑھا دیا جاتا ہے کہ ایک فرض کی ادائیگی پر ستر فرضوں کا ثواب لکھا جائے گا اور کسی ایک بھی نفلی عبادت پر خواہ مالی ہو یا بدنی ہو فرض کا ثواب لکھا جائے گا اور قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے ”بیشک اللہ تعالیٰ صابرین کو بغیر حساب کے اجر سے نوازتاہے“ اپنے روزہ اور تراویح اور دیگر عبادتوں پرنیز برا ئیوں سے بچنے اور اپنے تمام اعضائے جسمانی کو گناہوں سے بچانے پر جو صبر کرتے ہیں ان کا اجر بے حد وحساب عطا کیا جائے گا۔
اللہ تعالی ہمیں صحیح معنی میں روزہ رکھنے کی تو فیق بخشے۔آمین

Your Thoughts and Comments