Roza Baraye Husool E Taqwa

روزہ برائے حصولِ تقویٰ

صوم اورروزہ کی حکمت اور فائدےبتاتےہوئےاللہ پاک نےفرمایا:” لعلکم تتقون“(البقرہ:183)یعنی روزےرکھنے سے نفس کےتقاضوں پرزَدپڑیگی،توتم متقی بن جاوٴگے ،کیونکہ تقو ی،صغیرہ وکبیرہ اورظاہری وباطنی گناہوں سے بچنے کانام ہے

Roza Baraye Husool e Taqwa
شیخ ولی خان المظفر:
قارئین ِکرام، آپ کو ماہِ مقدس رمضان مبارک ہو، رمضان وہ مقدس مہینہ ہے، جس میں قرآن نازل ہوا،رمضان کی 3 تاریخ کو انجیل، 10تاریخ کو زبور او ر18کو اللہ نے تورات نازل فرمائی،اسلام اور کفر کا تاریخی معرکہ، غزوہٴ بدر ،جس میں حق کو فیصلہ کن برتری نصیب ہوئی ، وہ بھی 17رمضان 2ہجری کو پیش آیا، فتح مکہ کی عظیم کامیابی بھی ماہ ِ رمضان المبارک کی 20تاریخ6ہجری میں ملی، لغت اور گرامر کی کتابوں میں لکھا ہے کہ رمضان ”رمض “کا مصدر ہے ، رمض کا معنی جلانا ہے ، رمضان کو رمضان اس لیے کہتے ہیں، کہ جس طرح آگ لکڑیوں کو جلاکر مٹادیتی ہے، اسی طرح رمضان کی عبادات ،تلاوتِ قرآن پاک ،تراویح ، اعتکاف ،صدقہ ، نماز ، نوافل اورروزوں کی برکت سے اللہ پاک انسانوں کے گناہ معاف فرمادیتے ہیں ،رمضان کا مہینہ جب شروع ہوتاہے، تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ، اور جہنم کے دروازوں کو بند کر دیا جاتا ہے ، اس مبارک مہینے میں سرکش شیطانوں کو پابندِ سلاسل کردیا جاتاہے، رمضان کا مہینہ شروع ہوتے ہی روزانہ افطار کے وقت کروڑوں انسانوں کی مغفرت کا اعلان کیاجاتاہے ،اسی طرح سحر ی کے وقت کروڑوں انسانوں کی مغفرت کی جاتی ہے ، اللہ تعالی اپنے بندوں پر خصوصی انعامات و احسانات فرماتے ہیں ،نوافل کا ثواب فرائض کے برابر عطاکیاجاتاہے ،اورفرض کا درجہ70گنا کیاجاتاہے،رمضان کا پہلا عشرہ رحمت ،دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرا عشرہ جہنم سے آزادی کاہے ، رمضان کی راتوں میں تراویح اور آخری عشرہ میں اعتکاف کا لازوال تحفہ رکھا گیاہے ،اسی طرح رمضان کے آخری عشر ے میں لیلة القدر کو ہزارراتوں سے افضل قرار دیاگیا، اخیر میں عید کے خوشگوار لمحات سے بطورِ سوغات ،خالقِ کائنات نے اپنے بندوں کونوازا ہے۔


صوم اورروزہ کی حکمت اور فائدے بتاتے ہوئے اللہ پاک نے فرمایا:” لعلکم تتقون “(البقرہ:183)یعنی روزے رکھنے سے نفس کے تقاضوں پر زَد پڑیگی ،تو تم متقی بن جاوٴگے ،کیونکہ تقو ی، صغیرہ وکبیرہ اور ظاہری وباطنی گناہوں سے بچنے کانام ہے ،آیت کریمہ میں بتایا کہ روزہ کی فرضیت تقویٰ حاصل کرنے کے لئے ہے ،بات یہ ہے کہ انسان کے اندر بہیمیت اور حیوانیت کے جذبات ہیں ،نیزنفسانی خواہشات ساتھ لگی ہوئی ہیں جن سے نفس کا ابھارومیلان معاصی کی طرف ہوتارہتاہے ،روزہ ایک ایسی عبادت ہے ،جس سے بہیمیت کے جذبات کمزورہوجاتے ہیں ،نفس کا ابھارکم ہوجاتاہے اور شہوات ولذات کی امنگ گھٹ جاتی ہے ، پورے رمضان کے روزے رکھنا ہر عاقل بالغ مسلمان پر فرض ہے ، ایک مہینہ دن میں کھانے پینے اور جنسی تعلقات کے تقاضوں پر عمل کرنے سے اگرباز رہے، تو باطن کے اندر ایک نکھار اور نفس کے اندر سدھار پیداہوجائیگا ، اگر کوئی شخص رمضان کے روزے ان احکام وآداب کی روشنی میں رکھ لے، جو احادیث میں وارد ہوئے ہیں ،تو واقعةً نفس کا تزکیہ ہوجاتاہے ،جو گناہ انسان سے سر زد ہوتے رہتے ہیں، ان میں سب سے زیادہ دوچیزیں گناہ کا باعث بنتی ہیں،ایک منہ ،دوسری شرمگاہ ، امام ترمذ ی نے حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل کی ہے کہ حضور ﷺ سے دریافت کیاگیا، سب سے زیادہ کون سی چیز دوزخ میں داخل کرنے کا ذریعہ بنے گی ، آپ ﷺنے جواب دیا:” الفم والفرج “،یعنی منہ او رشرمگاہ ۔
گویاان دونوں کو دوزخ میں داخل کرانے میں زیادہ دخل ہے ، روزہ میں منہ اور شرمگاہ دونوں پر پابندی ہوتی ہے ، مذکورہ دونوں راہوں سے جو گناہ ہو سکتے ہیں ،روزہ ان سے باز رکھنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے، اسی لئے تو ایک حدیث میں فرمایا : ”الصیام جُنة“ یعنی روزہ ڈھال ہے ،گناہ سے اور آتش دوزخ سے بچاتاہے ۔(بخاری 254ج1)۔
اگرروزہ کو پورے اہتمام اور احکام وآداب کی مکمل رعایت کے ساتھ پوراکیاجائے ، تو بلاشبہ گناہوں سے محفوظ رہنا آسان ہوجاتاہے ، خاصکر روزہ کے وقت بھی اور اس کے بعد بھی ،لیکن اگر کسی نے روزہ کے آداب کا خیال نہ کیا ،روزہ کی نیّت کرلی ،کھانے پینے اور خواہشات نفسانی سے باز رہا، مگر حرام کمایا اور غیبت کرتا رہا، تو اس سے فرض تو ادا ہوجائے گا، مگر روزہ کی برکات وثمرات سے محرومی رہے گی ، جیساکہ سنن نسائی میں ہے ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :”الصیام جنة مالم یخرقھا“ یعنی روزہ ڈھال ہے، جب تک اس کو پھاڑ نہ ڈالے ۔
ایک حدیث میں ارشاد ہے : ”من لم یدع قول الزور والعمل بہ فلیس للہ حاجة فی ان یدع طعامہ وشرابہ “ جو شخص روزہ رکھ کر جھوٹی بات او ر غلط کام نہ چھوڑے تو اللہ کو کچھ حاجت نہیں ،کہ وہ روز ہ دارصرف کھانا پینا ترک کرے۔(بخاری ،ج:1255)۔
کھانا پینا اور جنسی تعلقات چھوڑنے ہی سے روزہ کامل نہیں ہوتا ،بلکہ روزہ کو فواحش ،منکرات اور ہرطرح کے گناہوں سے محفوظ رکھنا لازم ہے ،روزہ منہ میں ہو اورآدمی بدکلامی کرے ،یہ اس کے لئے زیب نہیں دیتا،اسی لئے تو سرور عالم ﷺ کے ارشاد کا مفہوم ہے : جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو، تو گند ی باتیں نہ کرے ،شورنہ مچائے ، اگر کوئی شخص گالی گلوچ یا لڑائی جھگڑا کرنے لگے ،تو اس کو گالی گلوچ سے جواب نہ دے ،بلکہ یو ں کہہ دے ، میں روزہ دار آدمی ہوں، گالی گلوچ کرنا یا لڑائی کرنا میرا کام نہیں ۔
(بخاری 255ج 1)۔
حضرت ابوہریرة رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ،فرمایا نبی ﷺ نے : بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جن کے لئے حرام کھانے یا حرام کام کرنے یا غیبت کرنے کی وجہ سے پیاس کے علاوہ کچھ بھی نہیں او ربہت سے تہجد گزار ایسے ہیں جن کے لئے ریاکاری کی وجہ سے جاگنے کے سوا کچھ نہیں ۔( مشکاة المصابیح 1ج،177 )۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں” أیاماً معدوداتٍ“ فرماکر ،یہ بتایا، کہ یہ چند دن کے روزے ہیں ، روزوں کو رکھ لینا کوئی ایسا مشکل کام نہیں ہے ، مریض اور مسافر کے لئے آسانی بیان فرمائی ،کہ وہ اپنے ایام مرض اور ایام سفر میں روزہ نہ رکھیں، رمضان گزر جانے کے بعد دوسرے دنوں میں اتنی ہی گنتی کر کے روزے رکھ لیں ، یعنی چُھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کرلیں ، اسکی توضیح کے لئے علما سے رجوع کیاجائے۔

اوریہ جو قرآن میں فرمایا : ”وعلی الذین یُطیقونہ فدیة، طعام مسکین “ ( جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں، ان پر فدیہ ہے، ایک مسکین کے کھانے کا )یہ ابتدائی حکم تھا،( سنن ابوداوٴد صفحہ 74ج 1) ۔جب رسول ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو (ہر ماہ ) تین دن کے روزے رکھنے کا حکم فرمایا، پھر رمضان کے روزوں کا حکم نازل ہوگیا ، لوگوں کو روزہ رکھنے کے عادت نہ تھی ، اور روزہ رکھنا ان کے لئے بھاری کام تھا، لہذا یہ اجازت تھی ،کہ طاقت ہوتے ہوئے بھی جو شخص روزہ نہ رکھے ،وہ ہر روزہ کے بدلہ ایک مسکین کو کھانا کھلادے ، پھر آیت کریمہ : ”فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ “ نازل ہوئی (گویاطاقت ہوتے ہوئے روزہ نہ رکھنے کی اجازت منسوخ ہوگئی )، اور سب کو روزہ رکھنے کا حکم ہوا، البتہ مریض اور مسافر کے لئے اجازت پھر بھی باقی رہی ،کہ وہ رمضان میں روزہ نہ رکھیں اور بعدمیں روزہ رکھ لیں ۔
(مسند امام احمد میں صفحہ 246ج 5)۔نیزیاد رہے ،ایک روزے کی قضا کافدیہ اور اسی طرح عید الفطر کا صدقة الفطر امسال 100سو روپیہ مقرر ہواہے۔
لہذا ،متقی،ولی اللہ ، صالح،نیکوکاراور اللہ کا مقرب بندہ اگرکوئی بننا چاہے، تو وہ رمضان المبارک کے یہ صیام وقیام بطور ایک تربیتی کورس، انتہائی نظم وضبط اور آداب واحترامات کے ساتھ بجا لائے، اسی سے تقویٰ کے اعلیٰ معیار پر پہنچنا ممکن ہے۔

Your Thoughts and Comments