Saan Hijri Ki Ibteda Muharram Ul Haram

سن ہجری کی ابتداء ”محرم الحرام “

نبی کی مبارک عادت تھی کہ جب آپ نیا چانددیکھتے تواللہ تعالیٰ کے حضور دعا کیلئے ہاتھ پھیلا کرکھڑے ہوجاتے اورفرماتے (اللھم اھل علینابالامن والایمان والسلامة والاسلام ربی وربک اللہ)

حافظ عبدالغفارروپڑی:
دنیا بھر میں ہر قوم اپنے اپنے نئے سال سے گہری دلچسپی رکھتی ہے۔ اسکی آمدپردیدہ ودل فرش ِراہ کرتی ہے اور اس کا خوشی و مسرت اور عقیدت واحترام کے ساتھ استقبال کرتی ہے۔اسلام نے توہر ماہ رویت ہلال کے استقبال کو باعث ثواب قرار دیا ہے۔ نبی کی مبارک عادت تھی کہ جب آپ نیا چانددیکھتے تواللہ تعالیٰ کے حضور دعا کیلئے ہاتھ پھیلا کرکھڑے ہوجاتے اورفرماتے (اللھم اھل علینابالامن والایمان والسلامة والاسلام ربی وربک اللہ) الٰہی اس چاند کوامن ایمان سلامتی اور اسلام کاچاندکر (اے چاند) میرا اورتیرا رب اللہ ہے۔
(ترمذی)
(ھلال خیر ورشد وھلال خیر ورشد وھلال خیر ورشد امنت بالذی خلقک ) الٰہی خیریت اورہدایت کا چاند ہو میرے مولیٰ خیریت اور ہدایت کاچاند ہو، الٰہی خیریت اور ہدایت کاچاندہو! میرا اس ذات پرایمان ہے جس نے تم کوپیداکیا۔

پھر فرماتے ہیں کہ : (الحمد للہ الذی ذھب بشھر کذا وجآء بشھرکذا) حمد ہے اس ذات کی جووہ مہینہ لے گیا اور یہ لے آیا۔ (ابوداود:5092)
ماہ ِمحرم ہمارے سن ِہجری کا پہلا مبارک مہینہ ہے۔

جب ہجرت کے ذریعے کفارِ مکہ کے دنگہ فساد سے مسلمانوں نے نجات پائی، اسلام نے ترقی کی، کلمہ توحیدکا بول بالا ہوا، شرک و بدعت کے جھنڈے سرنگوں ہوئے اور اسلامی حکومت کے قیام کے لیے زمین ہموار ہوئی۔ ماہِ محرم اسلامی سال کا پہل امہینہ اور حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے۔ زمانہ جاہلیت میں بھی لوگ ان مہینوں کی حرمت کا احترام کرتے ہوئے جدال اور قتال سے رک جاتے کیونکہ انہیں مہینوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔
(التوبہ) اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے حافظ ابن کثیررحمتہ اللہ علیہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم کوسال کے بارہ مہینوں میں حرام قرار دیا ہے پھر ان میں سے چار حرمت والے مہینوں کو اس لئے خاص کر دیا گیا جس طرح ان میں نیکی اور عمل صالح کا ثواب زیادہ ہوتا ہے اسی طرح نافرمانی کا گناہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ (تفسیر ابن کثیرج2ص468) یہ مہینہ اہل اسلام سے اس بات کا تقاضاکرتا ہے کہ وہ اللہ کی نافرمانی سے اجتناب کرتے ہوئے اپنے دامنوں کوگناہوں سے پاک وصاف رکھیں کیونکہ نافرمانیوں کی وجہ سے دل زنگ آلود ہو جاتا ہے جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال بدکی وجہ سے زنگ چڑھ گیا ہے۔

(المطفین)
رسول اللہ نے فرمایاکہ مومن جب گناہ کرتا ہے اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ پڑ جاتا ہے اگر وہ توبہ کر لے اور اس گناہ کو چھوڑکر معافی مانگ لے تو اس کے دل کو دھو دیا جاتا ہے۔ اگر وہ گناہ پرگناہ کرتا چلاجائے تو سیاہی بڑھتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کے دل پر چھا جاتی ہے یہی وہ زنگ ہے جس کا تذکرہ اللہ نے قرآن مجید میں کیا ہے۔ (ترمذی:3334 ابن ماجہ: 4244)
یہ حرمت والامہینہ ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم اللہ کی نافرمانیوں کو چھوڑکر بھلائی اور انسانیت کی فلاح کی طرف آئیں۔
اس کے لیے اپنی صفوں میں اتحاد اور اتفاق ایک بنیادی چیز ہے تاکہ انسانوں کے دلوں میں اُلفت و محبت کا جذبہ پیدا ہو سکے۔ رسول اللہ نے اس کے لیے ملاقات کے وقت باہمی سلام کہنے کو فروغ دینے پر زور دیا ہے، اسی طرح فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان سلامت رہیں۔ رسول اللہ کے ساتھ ہماری سچی محبت و عقیدت کا بھی یہی تقاضاہے کہ ہم آپ کے فرمان پرعمل کرتے ہوئے باہمی سلام کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ان ایام میں اپنی زبانوں اور ہاتھوں سے کسی کو تکلیف نہ پہنچائیں۔
ان شاء اللہ اس عمل سے باہمی اُلفت ومحبت بڑھے گی، اختلافات اور فتنہ وفسادکاخاتمہ ہوتاچلاجائے گا.
اگر تاریخ کی ورق گردانی کی جائے تو یہ بات اظہرمن الشمس ظاہرہوتی ہے کہ اسلامی سال کاآغازاوراختتام شہادتوں کے ساتھ ہے کیونکہ اسلامی سال کے آخری ماہ (ذوالحجہ) میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہیدکیاگیا اور سال کے آغاز یکم محرم کو عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور 10محرم کوحضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو شہید کیاگیا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ داماد رسول اور عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ مراد رسول تھے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ رسول پاک کو اپنے نواسے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ شدید محبت تھی کیونکہ وہ آپ کی پیاری بیٹی سیدہ فاطمة الزھرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے لخت جگر تھے۔ رسول اللہ نے حضرت امام حسن اور حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے سینے سے لگاکر فرمایا یا اللہ میں ان سے محبت کرتا ہوں لہٰذا تو بھی ان سے محبت کر۔
(مسندامام احمد: 22133 ترمذی :3882)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ اپنے گھر سے نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے آپ کے دونوں کندھوں پر حسن و حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سوار تھے۔ آپ ان سے پیار کر رہے تھے۔ ایک شخص نے سوال کیاکہ اے اللہ کے رسول ! آپ کو ان سے محبت ہے؟ آپ نے فرمایا: جس نے ان سے محبت کی اْس نے مجھ سے محبت کی جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔
(مسند امام احمد:9973) اسی طرح رسول اللہ نے حسن و حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دنیا میں اپنے دو پھول قرار دیا تھا۔اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جبریل امین رسول اللہ کے پاس حاضر ہوئے تو اس وقت حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے پاس تھے اچانک حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رونا شروع کر دیا میں نے انہیں چھوڑا تو وہ سیدھے رسول اللہ کے پاس جاکربیٹھ گئے۔
جبریل امین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سوال کیاکہ اے اللہ کے رسول کیا آپ ان سے محبت کرتے ہیں توآپ نے فرمایا: ہاں۔ پھر جبریل امین نے عرض کی کہ انہیں عنقریب شہیدکر دیا جائے گا اگر آپ چاہیں تو میںآ پ کو اس سرزمین کی مٹی دکھلا دوں جس پر انھیں شہیدکیا جائے گا، انھوں نے پھر وہ مٹی آپ کو دکھلائی، یہ وہی سر زمین تھی جسے کربلا کہا جاتا ہے۔ (مسندامام احمد:1391)

Your Thoughts and Comments