Shab E Qadr Ki Fazeelat

شبِ قدر کی فضیلت

”بیشک ہم نے قرآن کو لیلة القدر یعنی باعزت وخیروبرکت والی رات میں نازل کیا ہے۔اورآپ کو کیا معلوم کہ لیلةالقدرکیا ہے۔لیلة القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔اس رات میں فرشتے اور جبریل روح الامین اپنے رب کے حکم سے ہر حکم لے کر اُترتے ہیں۔ وہ رات سلامتی والی ہوتی ہے طلوع فجر تک۔ “

Shab e Qadr Ki Fazeelat
”بیشک ہم نے قرآن کو لیلة القدر یعنی باعزت وخیروبرکت والی رات میں نازل کیا ہے۔اورآپ کو کیا معلوم کہ لیلةالقدرکیا ہے۔لیلة القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔اس رات میں فرشتے اور جبریل روح الامین اپنے رب کے حکم سے ہر حکم لے کر اُترتے ہیں۔ وہ رات سلامتی والی ہوتی ہے طلوع فجر تک۔ “
ان آیا ت میں قرآن کریم کی بہت بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے جس کی تعبیر ان الفاظ میں کی گئی ہے کہ ہم نے قرآن کی عظمت واہمیت کے پیش نظر اسے ایک نہایت ہی معظم ومکرم اور بابرکت رات میں نازل کیا ہے۔
اسی مضمون کو اللہ تعالی نے سورة الدخان آیت (3) میں یوں بیان فرمایاہے: ”بیشک ہم نے قرآن کو ایک بابرکت رات میں نازل کیا ہے بیشک ہم ڈرانے والے تھے“۔ اور یہ رات ماہِ رمضان میں تھی جس کی تصریح اللہ تعالی نے سورة البقرة آیت (58) میں فرمادی ہے : ”رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا“۔


اللہ تعالی نے لیلة القدر کی عظمت واہمیت بیان کرنے کے لیے نبی کریم اکومخاطب کرکے کہا: آپ کو کیا معلوم کہ لیلة القدر کیاہے؟لیلةالقدر ایسے ہزار مہینوں سے بہتر ہے جن میں کوئی لیلة القدر نہ ہو یعنی ایک لیلة القدر تراسی سال اورچار ماہ سے بہتر ہوتی ہے اس لیے کہ اس میں فرشتے اور جبریل علیہ السلام اپنے رب کے حکم سے آسمان سے زمین پر اترتے ہیں درآنحالے کہ ان کے پاس آنے والے سال سے متعلق رب العالمین کے تمام فیصلے اوراحکام ہوتے ہیں جیساکہ سورةالدخان آیت (۴،۵) میں آیا ہے ”اسی رات میں ہر پرحکمت کام کا فیصلہ کیاجاتاہے ہمارے پاس سے حکم ہوکرہم ہی ہیں رسول بناکر بھیجنے والے “۔


لیلة القدر سراسر سلامتی اور خیر ہی خیر ہوتی ہے ،اس میں کوئی شر نہیں ہوتا اور یہ خیروسلامتی غروب آفتاب سے طلوع فجر تک باقی رہتی ہے۔ بعض لوگوں نے سلامتی والی رات کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ مومنین اس رات کو شیاطین کے شر سے محفوظ رہتے ہیں، یا یہ کہ فرشتے مومنوں اورمومنات کو سلام کرتے ہیں۔
لیلة القدر کی تعیین کے بارے میں علماء کے چالیس سے زیادہ اقوال ہیں ،سب سے قوی روایت یہ ہے کہ یہ رات ماہِ رمضان کی آخری دس راتوں میں آتی ہے ، بخاری ومسلم اوراحمد وترمذی نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ انے فرمایا: ”لیلة القدر کو رمضان کی آخری دس راتوں میں سے طاق راتوں میں تلاش کرو“۔
اسی لیے نبی کریم ا ان دس راتوں میں عبادت کا بڑا اہتمام کرتے تھے ،اعتکاف کرتے تھے اورعباد ت کے لیے خود بھی جگتے تھے اوراپنے گھر والوں کو بھی جگاتے تھے۔ دیگرصحیح احادیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ طاق راتوں میں سے کوئی رات ہوتی ہے۔
بہرحال لیلة القدر سے متعلق احادیث کا مطالعہ کرنے سے اتنی بات ضرور سمجھ میں آتی ہے کہ مسلمان کی زندگی میں اس رات کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے اسی لیے اسے پانے کے لیے ہرممکن کوشش کرنی چاہیے اورنبی کریم کی اتباع میں رمضان کی آخری دس راتوں میں عبادت کا خوب اہتمام کرنا چاہیے اعتکاف کرنا چاہیے اوراپنے بچوں کو بھی ان راتوں میں عبادت کے لیے جگاناچاہیے۔

Your Thoughts and Comments