Shawwal Ki Fazeelat

شوال کی فضیلت

شوال قمری سال کے دسویں مہینے کا نام ہے۔ سورت توبہ کی آیت نمبر 2 میں ارشاد ربانی ہے: ”سو پھر لو اس ملک میں چار مہینے“۔ مفسرین کے نزدیک ان چار مہینوں میں شوّال، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم کے مہینے شامل ہیں

Shawwal Ki Fazeelat
ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی:
شوّال قمری سال کے دسویں مہینے کا نام ہے۔ سورت توبہ کی آیت نمبر 2 میں ارشاد ربانی ہے: ”سو پھر لو اس ملک میں چار مہینے“۔ اْردو دائر ہ معارف اسلامیہ (جلد 11، صفحہ نمبر 518) کے مطابق مفسرین کے نزدیک ان چار مہینوں میں شوّال، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم کے مہینے شامل ہیں۔ چنانچہ شوّال حج کے مہینوں میں ہے جن کا ذکر قرآن پاک میں آیاہے۔
ان چار مہینوں میں عرب اپنے ملک میں بغیر کسی قسم کے حملے بلا خوف چل پھر سکتے تھے۔ اس کا ذکر سورت توبہ کی آیت نمبر 5 میں آیا ہے۔ شوّال کا مہینہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ مسرت و انبساط کا مڑدہ سناتا ہے۔ خالق حقیقی ایک سخی دریا بن کر صحرا صحرا عصیاں کو سیراب کردیتا ہے۔ گناہوں کے صحراؤں میں جب گردباد کی سیٹیاں بجتی ہیں اور جب عصیاں کے وسیع و عریض صحرا کے باسی جھلستے ہیں تو تھکے ہارے ہانپتے گناہگاروں اور خطا کاروں کے احساس ندامت کو دیکھ کر خالق حقیقی کی بے کراں شفقت جوش مارتی ہے۔

پیاس کے صحرا میں پھر انہیں یزداں زمزم پلاتا ہے۔ بقول سید ضمیر جعفری
وقت کے ماتھے پہ جس کی روشنی لکھی گئی
وہ رُخ زیبا ہے ترا وہ ید بیضا تو ہی
کس نے تھاما رات کے ڈوبے ہوئے سورج کا ہاتھ
روشنی کو صبح کی چوکھٹ پہ لے آیا تو ہی
کون ہے تیرے سوا، دکھیا دلوں کا داد رس
خلق کا مولا تو ہی ملجا تو ہی ماوا توہی
مولانا محمد جونا گڑھی و مولانا صلاح الدین یوسف، قرآن حکیم مع ترجمہ و تفسیر، مطبوعہ شاہ فہد قرآن حکیم پرنٹنگ کمپلیکس، مدینہ منورہ، مطبوعہ 1419 ہجری کے صفحہ نمبر 506 پر تحریر فرماتے ہیں کہ چار مہینے ایسے ہیں جو حرمت والے ہیں: (1) رجب، (2) ذوالقعدہ، (3) ذوالحجہ اور (4) محرم
شوال قمری سال کے دسویں مہینے کا نام ہے۔
سورت توبہ کی آیت نمبر 2 میں ارشاد ربانی ہے:
فسیحوا فی الارض اربعة اشھر
”پس (اے مشرکو!) تم ملک میں چار مہینے تک چل پھر لو۔“
یہاں 9ہجری کا ذکر ہے جس میں چار مہینوں کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ عرب اپنے ملک کے اندر بغیر کسی قسم کے حملے کے خوف کے چل پھر سکتے تھے۔ بعض مفسرین کے نزدیک شوّال بھی حرمت والے مہینوں میں سے ہے۔ حدیث کے مطابق شوال حج کے مہینوں میں سے ہے۔
(ملاحظہ ہو: البخاری، کتاب الحج، باب 33، 37)
اسلام سے پہلے عرب شوّال کے مہینے کو شادیوں کے لیے موزوں نہیں سمجھتے تھے۔ حالانکہ یہ خیال غلط ہے۔ حضور اکرمﷺنے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے شوّال میں ہی شادی کی تھی۔ (ملاحظہ ہو: الترمذی، کتاب النکاح، باب 10) اس مہینے کی اسلام میں بڑی فضیلت ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص رمضان کے روزے رکھے اور ان کے ساتھ چھ روزے شوّال کے بھی رکھے، وہ گویا صائم الدھر (یعنی ہمیشہ ر وزہ رکھنے والا) ہے۔
(مسلم، کتاب الصیام، حدیث 203)
اردو دائرہ معارف اسلامیہ (جلد 11) کا انگریز مقالہ نگار A.J. WENSINCK صفحہ نمبر 816 پر رقمطراز ہے: ”ان چھوٹے دنوں کو ”چھوٹے تہوار“ (العید الاصغر) میں شامل ہونے کی مقدس حیثیت حاصل ہے۔ شوال المکرم ہے۔ یعنی شوّال کا مہینہ قابل احترام ہے۔“ سرخیل علماء و عارفین حضرت عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف ’غنیة الطالبین‘ میں اس مہینے کی بڑی فضیلت تحریر فرمائی ہے۔

حضرت ابو ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار دوعالمﷺ نے فرمایا کہ جس نے رمضان المبارک کے روزے رکھے اس کے بعد ماہ شوّال میں چھ نفلی روزے رکھے تو اس کا یہ عمل ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہوگا۔ (بحوالہ صحیح مسلم)۔ رسالہ فضائل الشہود میں لکھا ہے کہ ماہ شوّال میں نوافل پڑھنے کا بھی بہت ثواب ہے۔ نوافل کی ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد زیادہ سورة اخلاص اور سلام پھیرنے کے بعد زیادہ سے زیادہ درود شریف پڑھنے کا بے حساب ثواب ہے۔
اگر رمضان المبارک کے کوئی روزے خدانخواستہ رہ جائیں تو یہ روزے قضا ادا کرنے کے بعد ہی شوال کے چھ مسنون روزے رکھے جائیں۔ نبی کریم ﷺکا ارشاد ہے کہ شوّال کی پہلی رات فرشتے نازل ہوکر آواز دیتے ہیں کہ اے اللہ تعالیٰ کے بندو! تمہیں خوشخبری ہوکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس لیے بخش دیا کہ تم نے رمضان کے روزے رکھے۔
جب رمضان ختم ہوتا اور یکم شوال ہوتا تو روز عید نبی اکرم ﷺ غسل فرماتے اور صاف اور اجلا لباس زیب تن فرماتے۔
روز عیدالفطر عیدگاہ روانگی سے قبل چند کھجوریں تناول فرماتے، جن کی تعداد طاق ہوتی۔ آپ عیدگاہ تک پیدل تشریف لے جاتے۔ عیدگاہ جس راستے سے تشریف لے جاتے واپسی پر راستہ تبدیل فرماتے۔ عیدوں پر کثرت سے تکبیروں کا حکم فرماتے۔ راستے میں چلتے وقت آہستہ تکبیر فرماتے۔ حضور اکرم ﷺ مسجد نبوی کے باہر میدان میں تشریف لے آتے جو عید گاہ تھی۔ نبی اکرم ﷺ نماز عیدالفطر سے قبل فطرانہ کی رقم ادا کرنے کا حکم صادر فرماتے

Your Thoughts and Comments