Infaq Fee Sabil Lillah

انفاق فی سبیل اللہ

قرآن کریم اوراحادیث میں فی سبیل اللہ خرچ کرنے کی بہت فضیلت بیان فرمائی گئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے بھی خرچ کیا جانے والا مال فی سبیل اللہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” مثال ان لوگوں کی جو اپنے مالوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ایسے ہے جیسے ایک دانہ ہو

Infaq Fee Sabil lillah
حافظ محمد اقبال سحر:
قرآن کریم اوراحادیث میں فی سبیل اللہ خرچ کرنے کی بہت فضیلت بیان فرمائی گئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے بھی خرچ کیا جانے والا مال فی سبیل اللہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” مثال ان لوگوں کی جو اپنے مالوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ایسے ہے جیسے ایک دانہ ہو، اس نے اگائیں سات بالیاں، ہر بالی میں سودانے، اور اللہ چند درچند کرد یتا ہے جس کے لیے چاہے اور اللہ وسعت اللہ ہے علم والا ہے“(سورة البقرة: ۲۶۱)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کے بارے میں ایک خوبصورت مثال بیان فرمائی گئی ہے۔
اللہ لے ہاں ثواب میں کمی نہیں، وہ جب چاہتا ہے اس سے بھی زیادہ عطا کرتا ہے ۔ واضح رہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے بعد لوگوں پر احسان نہیں کرنا چاہیے کہ میں نے فلاں چیز تجھے دی۔

اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہوئے، اللہ کی رضا پیشِ نظر ہونی چاہیے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے:”جو لوگ خرچ کرتے ہیں اپنے مالوں کو اللہ کی راہ میں پھرخرچ کرنے کے بعد احسان نہیں دھرتے اور ایذا نہیں پہنچاتے، ان کے لیے ثواب ہے ان کے رب کے پاس اور نہ پر کئی خوف ہے اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے۔

بھلی بات کہہ دینا اور درگزر کر دینا ایسے صدقہ سے بہتر ہے جس کے بعد تکلیف پہنچائی جائے اور اللہ غنی ہے حلیم ہے“۔(سورة البقرة ۲۶۳، ۲۶۲)
اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے بعد جو لوگ احسان جتلاتے ہیں، ان کے صدقات ضائع کر دئیے جاتے ہیں۔ چنانچہ ایسے لوگوں کے متعلق قرآن کریم کہتا ہے:” اے ایمان والو! مت باطل کرو اپنے صدقات کو احسان جتلا کر اور تکلیف پہنچا کر اس شخص کی طرح سے جو اپنا مال خرچ کرتا ہے لوگوں کو دکھانے کے لیے اور ایمان نہیں لاتا اللہ پر اور یوم آخرت پر، پس اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی چکنا پتھر ہو، جس پر ذرا سی مٹی ہو، پھر پہنچ گئی اس کو زور دار بارش، پس کر چھوڑ اس کو بالکل ہی صاف ، یہ لوگ اپنی کمائی میں سے کسی چیز پر قادر نہ ہوں گے اور اللہ کافر قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔
“ (سورة البقرة : ۲۶۴)
ریاکاری کی غرض سے خرچ کئے گئے مال کی بھی اللہ کے ہاں کوئی اہمیت نہیں۔حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔” میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جس نے ریاکاری کرتے ہوئے نماز پڑھی اس نے شرک کیا، جس نے روزہ رکھ کر ریاکاری کی اس نے شرک کیا اور جس نے صدقہ دے کر ریاکاری کی ۔اس نے شرک کیا۔“(مشکٰوة ج ۳)۔ قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں جہاں ریاکاری کی مذمت کی گئی ہے وہاں پر خالص اللہ کی رضا کے لئے خرچ کرنے والوں کی عظمت کو بھی بیان کیا گیا ہے ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :” اور مثال ان لوگوں کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مالوں کو اللہ کی رضا جوئی کے لیے اور نفسوں کو پختہ کرنے کے لیے ایسی مثال ہے جیسے ایک باغ ہو کسی ٹیلہ پر جس کو پہنچ جائے زوردار بارش، پھر وہ دوگنا پھل لایا ہو ، پس اگر زوردار بارش نہ پہنچی تو ہلکی بوند اباندی بھی اسے کافی ہے ، اور اللہ تمہارے کاموں کو دیکھتا ہے۔
“ (سورة البقرة:۲۶۵)
اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مال پاکیزہ ہو۔ ، ردّی اور بے کار چیزوں کی اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی وقعت نہیں ہے۔ ذرا سوچیے! جو چیز تمہیں خود پسند نہیں، وہ اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہوئے آپ کا ضمیر کسیے گوارا کر لیتا ہے؟ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” اے ایمان والو! خرچ کرو اپنی کمائی میں سے پاکیزہ چیزوں کو اور اس میں سے جو ہم نے نکالا تمہارے لئے زمین میں سے اور مت ارادہ کرو ردّی چیزوں کا کہ اس میں سے خرچ کرو اور تم خود ا س کے لینے والے نہیں ہو مگر اس صورت میں کہ چشم پوشی کر جاوٴ اور جان کلوکہ بلاشبہ اللہ غنی ہے ، حمید ہے۔
“(سورة البقرة: ۲۶۷)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔” رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ روزانہ جب صبح ہوتی ہے تو دو فرشتے نازل ہوتے ہیں ۔ ان میں سے ایک کہتاہے کہ اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کے عوض اور دے اور دوسرا کہتا ہے اے اللہ ! روکنے والاکامال تلف کر دے۔“( مشکٰوة المصابیح جلدا)
اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا، خود خرچ کرنے والے کے لیے بہت بڑے اجر اور فائدے کی با ت ہے۔ حضرت اسما ء رضی اللہ عنہا سے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔” تم خرچ کرتی رہو اور گن کر مت رکھو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی گن کر دے گا اور بند کر کے نہ رکھو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی اپنی دادودہش بند فرما دے گاجو بھی تھوڑا بہت ہو، خرچ کرتی رہو،“(صحیح بخاری)

Your Thoughts and Comments