Shaheed Qurani Auraq

شہید قرآنی اوٴراق کی حفاطت

وفاقی وزارت مذہبی امور کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب قرآن مجید ہے۔

Shaheed Qurani Auraq
ارشاد احمد ارشد:
وفاقی وزارت مذہبی امور کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب قرآن مجید ہے۔ قرآن مجید جتنی عظمت والی کتاب ہے اس کے ساتھ محبت کے آداب بھی اتنے ہی عظمت وشان والے ہیں۔مگر ہمارے ہاں قرآن مجید سے محبت کا بس یہی طریقہ معروف کہ برکت کیلئے اس کی تلاوت کرلی جائے یافضائل بیان کر دئیے جائیں۔
یہ سب باتیں بجاان کی اہمیت و فضلیت سے انکار ممکن نہیں۔سمجھنے کی بات یہ کہ قرآن مجید کے ہم پر بہت سے حقوق وفرائض ہیں۔
قرآن مجید کے ساتھ محبت کاتقاضہ ہے کہ اس کی عمدہ،معیاری،پائیدار اور خوبصورت کاغذ پر طباعت واشاعت کی جائے۔ اعلی ونفیس کتابت ،خوبصورت وپائیدار جلدبندی کی جائے۔ایک حق یہ بھی ہے کہ شہید قرآنی اوراق کی مناسب طریقے سے حفاظت کی جائے۔

اس لئے کہ عمدہ طباعت واشاعت اور شہید قرآنی اوراق کی مناسب طریقے سے حفاظت بھی ایمان کا حصہ ہے۔
اسی طرح ناشران کافرض ہے کہ اپنے طور پر قرآن مجید کے تقدس کوملحوظ رکھتے ہوئے اس کی طباعت واشاعت کیلئے عمدہ معیاری کاغذاستعمال کریں لیکن ہمارے ملک میں ہوس زرنے اکثرناشران کواندھا کررکھا ہے اور انہوں نے قرآن مجید کو بھی کمائی کاذریعہ بنارکھا ہے۔
بلاشبہ اسلام میں تجارت کو حلال کہا گیا ہے بلکہ تجارت کرنا باعث فضلیت بیان کیا گیا ہے۔ اس لئے قرآن مجید کی طباعت کے عوض مناسب بدیہ وصول کرنے میں کوئی ممانعت نہیں۔تاہم اس کے ساتھ ناشران کایہ بھی فرض ہے کہ وہ مناسب منافع کے ساتھ قرآن مجید کی طباعت واشاعت کے لئے معیاری اور خوبصورت کاغذاستعمال کریں۔
جب اکثر ناشران نے قرآن مجید کے تقدس کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اسے صرف اور صرف کمائی کاذریعہ بنالیا اور طباعت کیلئے غیر معیاری کاغذاستعمال کرنا شروع کردیا تو اس سے ایک طرف ہم عذاب الہیٰ کاشکار ہوئے تو دوسری طرف قرآن مجید کی شہادت کاگراف بھی بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔
یہ بات سمجھنے کی ہے کہ غیرمعیاری کاغذ پر قرآن مجید کی طباعت اور شہید قرآنی اوراق کی حفاظت سے غفلت یہ دونوں باتیں توہین قرآن کے زمرے میں شمار ہوتی ہیں۔یہ بات معلوم ہے کہ قرآن مجید کی توہین کا ارتکاب کرنے والے مسلمان کبھی بھی عزت ومنزلت کے مقام ومرتبہ پرفائز نہیں ہوسکتے۔مقام شکر ہے کہ حکومت پنجاب نے حالات کی سنگینی کا احساس کیااور قرآن مجید کی طباعت واشاعت کے معیار کوبہتر بنانے اور شہید اوراق کی حفاظت کیلئے پنجاب قرآن بورڈ“ قائم کیا۔

مقدس اوراق کوحفاظت کی خاطر پانی میں بہانا سردست یہی ہمارا آج کاموضوع ہے۔ضروری ہے کہ جس پانی میں مقدس اوراق بہایے جائیں۔ وہ صاف ستھرا ہو،وافرہو،گندااور ناپاک نہ ہواور نہ ہی اتنا کم ہوکہ اوراق پانی میں بہنے کی بجائے کیچڑوگارے میں پھنس جائیں۔عاما ٓدمی شاید یہ بات نہ سمجھ سکے مگر حقیقت یہ کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مقدس اوراق کی حفاظت ایک سنگین ترین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔

دوسری طرف المیہ یہ ہے کہ جس بڑی تعداد میں مقدس اوراق شہید ہورہے ہیں ا س نسبت سے ان کی حفاظت کا انتظام موجود نہیں۔ قرآن ویلز کی اہمیت اپنی جگہ لیکن یہ وبلزلاہور شہر سے اتنے دور ہیں کہ ہر آدمی کی ان تک رسائی نہیں۔ بہر کیف پنجاب حکومت نے لاہور کے مختلف علاقوں مساجد اور مدارس سے شہید مقدس اورق جمع کرنے کیلئے ایک گاڑی اور دو آدمی مختص کررکھے ہیں۔
یہ دونوں آدمی ڈیلی ویجز پر ہیں جنہیں فی دن صرف350روپے معاوضہ ملتا ہے۔ایک کروڑ سے زائد آبادی والے پاکستان کے دوسرے بڑے شہر میں دو آدمی جوکام کریں گے اور پہاڑ توڑیں گے اس کااندازہ کرنا کچھ مشکل نہیں۔
الغرض لاہور شہر سے شہید قرآنی اوراق اکٹھے کرنے کیلئے حکومتی انتظامات ناکافی ہیں۔اس سارے معاملے کاایک تکلیف وہ پہلو یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے معقول انتظالم نہ ہونے کی وجہ سے لوگ لاہور شہر کے درمیان سے گزرنے والی نہر میں مقدس اوراق بہانے پر مجبور ہیں۔
اگرچہ علماء نے بہتے پانی میں مقدس اوراق بہانے کی اجازت دی ہے،لیکن لاہور شہر میں بہنے والی نہربی آربی نہر سے نکلتی اور شہر کی گنجان ترین آبادیوں سے ہوتی ہوئی ٹھوکرنیاز بیگ سے آگے چلی جاتی ہے۔ یہ نہر چھوٹی ہے، پانی بھی کم ہے مزید یہ کہ اس میں نالیوں ،گٹروں کاگندا،بدبودار اور متعفن پانی وافر مقدار میں شامل ہوتا ہے۔ اسی طرح نہ تو اس نہر کے پانی کارنگ ٹھیک ہے اور نہ ذائقہ۔
اب ہوتا یہ ہے کہ لوگ اس میں حفاظت کی غرض سے مقدس اوراق ڈال دیتے ہیں لیکن پانی ناکافی ہونے کی وجہ سے شہید قرآن مجید سیپارے قاعدے بدبودارگندے کیچڑ میں دھنس اور پھنس جاتے ہیں۔ جب نہرکاپانی خشک ہوتا ہے تو اس کے بعد پنجاب قرآن مجید نکالتے ہیں تو اس وقت مقدس کتاب کی بے ادبی اور بے توقیری دیکھ کر انسان لرزاٹھتا ہے۔بلاشبہ لوگ اپنی طرف سے نیک نیتی کے جذبے سے مقدس شہید اوراق اس نہر میں ڈالتے ہیں لیکن اس نہر میں قرآنی اوراق کی جو بے ادبی اورتوہین ہوتی کاش لوگ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں تو کبھی قرآنی اوراق اس نہر میں نہ ڈالیں۔
خوش آئند بات ہے کہ اب پنجاب قرآن بورڈنے نہر کے اطراف میں گرین باکسزرکھ دئیے ہیں لہذا اہل لاہور کاچاہئے کہ مقدس اوراق ان باکسز میں ڈالیں یااپنے گھر کی قریبی مساجد میں رکھیں۔
مساجد ومدارس کے ائمہ،خطبا،علماء،قراء اور اساتذہ کرام سے گزارش ہے کہ وہ مقدس اوراق قرآن محل ،دربار حضرت ہادی، لارنس روڈ نزودفتر روزنامہ خبریں لاہو“ پہنچائیں اور اگر اوراق زیادہ ہوں تو درج ذیل نمبروں پر رابطہ کریں۔پنجاب قرآن بورڈ کی گاڑی آکر اورق اٹھالے گی۔

Your Thoughts and Comments