Sorah Leheb

سورت اللہب

نبی ﷺ رحمت کو دکھ دینے والوں کیلئے عذاب الٰہی کی وعید۔۔۔۔ سورت اللہب میں ایک رکوع پانچ آیتیں بیس کلمات اور سترحروف ہیں۔یہ سورت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی

Sorah Leheb
عبدالرشید عراقی:
سورت اللہب میں ایک رکوع پانچ آیتیں بیس کلمات اور سترحروف ہیں۔یہ سورت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔اس کی شان نزول کے بارے میں اس سورت کا حاشیہ نمبر ایک ملا حظہ فرمائیے۔یہاں صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ قرآن کریم میں نام لیکرابولہب کا ذکر کیوں کیاگیا۔ابولہب حضور کا حقیقی چچا تھا۔حضرت عبداللہ اور ابو لہب دونوں حقیقی بھائی تھے۔
اس سے بچا طور پر یہ امید کی جاسکتی تھی کہ وہ اپنے سگے بھائی کے یتیم بیٹے کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہوگا اور اس کی تائیدونصرت میں ذرہ برابرکو تا ہی نہیں کریگا۔نیزیہ بنی ہاشم کارئیس تھا۔عرب کا وہ معاشرہ جس میں نبی پاک تشریف لائے اس میں ہر قسم کی مرکزیت قبیلہ کو حاصل تھی۔قبیلہ کے ہر فرد کی امداد کرنا اس قبیلہ کے سردار کی اخلاقی اور سیاسی ذمہداری تھی ۔

اگر وہ فرد ظالم بھی ہوتا تو مظلوم کی مدد کی بجائے قبیلہ کے سارے افراد اپنے ظالم بھائی کی مدد کرنا ضروری سمجھتے۔ابولہب بنی ہاشم کارئیس تھا۔اس کا یہ فرض اولیں تھا کہ وہ اپنے خاندان کے ایک باکمال فرد کی دعوت قبول کرنا اور عورت کو کامیاب بنانے کیلئے اپنے سارے وسائل داؤپر لگا دیتا۔
خونی اور خاندانی قریبی تعلقات کے علاوہ حضور سرور عالم کا پڑوسی تھا۔
حضور پاک ﷺ کی پاکیزہ زندگی ایسی من موہنی سیرت ایسے بے داغ کردار کا مشاہدہ وہ شب روز کرتا اور پھر بھی آپ ﷺ پر کیچڑ اچھالنے سے باز نہ آتا تھا۔حضور ﷺ اپنے گھر میں جب مصروف عبادت ہوتے تو وہ مردہ جانوروں کے بدبو اوجھ گلی سڑی آنتیں اٹھا کر لاتا اور حضورﷺ پر پھنک دیتا۔گھر کے آنگن میں کوڑا کرکٹ ڈالتا اور جہاں ہنڈیاپک رہی ہوتی وہاں غلاظت پھینکنا اس کا روز مرہ کا معمول تھا۔
اور اس کی بدبخت بیوی امارات دوجاہت کے باوصف خود جنگل میں جاتی اور خاردار ٹہنیاں چیتی ان کا گھٹا اپنے سر پر اٹھا کر لاتی اور رات کے وقت حضور ﷺراہ میں ڈال دیتی تاکہ آخرشب جب حضور ﷺ حرم کی طرف تشریف لے جائیں تو آپ ﷺ کے نرم ونازک پاؤں میں کوئی کانٹا ہی چبھ جائے۔
اعلان نبوت سے پہلے حضور ﷺ کی دوصاحبزادیاں اس کت دوبیٹوں عتبہ اور عتیبہ کے ساتھ بیا ہی گئی تھیں۔
جب سرور عالم ﷺ نے اسلام کی تبلیغ شروع کی تو اس نے اپنے دونوں بیٹوں کو بلایا اور واشگاف الفاظ میں کہا کہ اگر تم بیٹیوں کو طلاق نہیں دو گے تو تمہاری میری بول چال لین دین آنا جانا قطعا بند ہو جا ئیگا۔تم میرا منہ بھی نہ دیکھ سکو گے۔چنانچہ دونوں نے حضورﷺ کی صاحبزادیوں کو طلاق دے دی اور عتیبہ نے اپنے خبث باطن کاکچھ زیادہ ہی مظاہرہ کیا کہنے لگا میں والنجم اڈھوی کے رب سے کفر کرتا ہوں ۔
اس ناپاک نے روئے انور پر تھوکنے کی جسارت کی جو لوٹ کر اسی کے قبیح منہ پرپڑی ۔ حضورﷺ کی زبان سے نکلا الٰہی اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس ناہنجار پرمور فرمادے۔چنانچہ ایک سفر میں ایک شیرنے اسے پھاڑڈلالیکن نہ اس ناپاک کا خون پیااور نہ اس کے پلید گوشت کو کھایا۔ابولہب کی بدباطنی کا ایک اور واقعہ سنیے ۔نبوت کے ساتویں سال کفار مکہ نے حضورﷺ کے ساتھ سارے خاندان بنی ہاشم اور بنی مطلب کے ساتھ مکمل بائیکاٹ کا اعلان کیا تو بنی ہاشم اور بنی مطلب افراد بھی جنہوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا محض قبا ئلی عصبیت کے شعب ابی طالب میں محصور ہوگئے لیکن ابولہب نے ہاشمی ہوتے ہوئے حضورﷺ مخالفت کی اور اس بائیکاٹ میں کفار مکہ کاساتھ دیا۔

دین اسلام اور رسول اسلام ﷺ سے اس کا بغض وعناداتناشدید تھا وہ ہر وقت حضور ﷺ کے پیچھے لگارہتا اور حضورﷺ کی تکزیب کرتا ۔حضورﷺ کایہ معمول تھا کہ جہاں کہیں تجارتی بازار لگتے یا لوگوں کا اجتماع ہوتا وہاں تشریف لے جاتے اور حاضرین کو توحید کی دعوت دیتے۔یہ کمبخت ہر ایسے موقع پر پہنچ جاتا اور چلا چلاکر لوگوں کو کہتا اے لوگویہ میرابھتیجاہے۔
یہ دیوانہ ہو گیاہے۔اس کے قریب مت جانا اس کی بات ہرگزنہ سننااور نہ گمراہ ہو جاؤ گے۔الغرض وہ شدت سے اسلام کی مخالفت میں سر گرم رہا کرتا ۔ اس لئے قرآن کریم میں اس کانام لے کر معنت کی بوچھاڑ کی گئی ۔ابولہب اس کی کنیت تھی اور اسی سے وہ زیادہ مشہورہ تھا۔
اس سورت کے مطالعہ سے اس امرکا باآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بارگاہ رسالت میں معمولی سی گستاخی سے جبیں قدرت پر کس طرح شکن پڑجاتے ہیں۔
غضب خداوندی کے شعلے کس طرح بھڑکنے لگتے ہیں۔اس بدنصیب نے توایک انگلی اٹھاکر اشارہ کیا اور نازیباالفاظ بکے ۔ا س کے جواب میں رحمت عالم ﷺنے تواسی حلم اور عفوودرگز کا ثبوت دیا جو آپ ﷺ کی شایان شان تھا لیکن غیرت خداوندی جوش میں آگئی اور تبت یدابی لھب فرما کر ہر بے ادب اور ہر گستاخ کو صاف صاف بتادیا کہ اگر تم سے کوئی ایسا لفظ یا فعل صادرہوا جس سے میرے حبیب کی شان میں بے ادبی کا کوئی پہلو نکلے تو یادرکھو غضب الٰہی کو بجلی کو ندے گی اور تمہیں جلاکر خاکستر کر دے گی۔

Your Thoughts and Comments