Piyare Aaqa Hazrat Mohammad SAW Ka Huliya Mubarak

پیارے آقاحضرت محمد ﷺکا حلیہ مبارک اور پیاری باتیں !

ابھی تک ہم لوگ اس کا ئنات کی تما م حسین مخلوقات اور حسین نظارو ں کو ہی نہیں سمجھ پائے۔تاہم دیکھی اور ان دیکھی مخلوقات میں انسان کو اشرف المخلوقات کہا گیا ہے

عمران محمود جمعہ جون

Piyare Aaqa Hazrat Mohammad SAW Ka Huliya Mubarak
ابھی تک ہم لوگ اس کا ئنات کی تما م حسین مخلوقات اور حسین نظارو ں کو ہی نہیں سمجھ پائے۔تاہم دیکھی اور ان دیکھی مخلوقات میں انسان کو اشرف المخلوقات کہا گیا ہے۔اورتمام مخلوقات میں وجہ تخلیق کا ئنات حضرت محمد ﷺ سب سے افضل اور برتر ہیں۔ آپ ﷺ جیسا نہ آپ ﷺسے پہلے کو ئی آیا، نہ آپ ﷺکے زما نے میں اور نہ ہی قیا مت تک کو ئی آسکتا ہے۔کسی نبی کو کو ئی خوبی ملی تو کسی نبی کو کوئی۔
اور تمام انبیا  کی خوبیا ں اور اوصاف آپ ﷺمیں موجود ہیں۔ آپ ﷺ کی ہستی بے مثل اور بے مثال ہے۔اور ہم اس قدر مصروف ہو گئے ہیں کہ ہمیں اپنے نبیﷺ کے بارے میں کچھ پتہ ہی نہیں، ہمیں آپﷺ کی حقیقی پہچا ن ہی نہیں۔ آئیں اپنے نبی کریمﷺ کے حلیہ مبارک یاد کریں اور ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھیں۔


آپ ﷺکاسرمبارک خوبصورت تھا، بال نیم گھنگریالے تھے،اکثر مانگ درمیا ن سے نکلاتے تھے۔

بال کا ن کی لو تک لمبے تھے ۔ماتھا کشادہ تھا۔بھنویں گول اور کمان دار تھیں۔اوردرمیا ن میں بال نہیں تھے۔ پلکیں دراز تھیں، آپ ﷺ کی آنکھیں موٹی ، لمبی اور خو بصورت تھیں۔آنکھو ں میں پتلی سیاہ اور سفیدی چمکتی ہو ئی نما یا ں تھی۔ آنکھیں ہر قت قدرتی سرما گیں ہوتی تھیں۔آنکھوں میں نور و کشش تھی۔ آپ ﷺجب آنکھ اٹھا تے تو کو ئی نہیں دیکھ سکتا تھا۔
گال مبارک گول تھے۔ چہر ہ مبارک چودھو یں کے چاند کی طرح چمکتا ۔ رنگ کلیو ں کی طرح خوبصورت چمکتا تھا۔ہو نٹ مبارک گلابی اور خوبصورت تھے۔ دانت مبارک گو لا ئی میں ، سفید اور چمک دار تھے۔ جب آپﷺ مسکراتے تو دانتو ں سے نور نکلتا تھا۔ داڑھی خوبصورت اور گھنی تھی۔ داڑھی اور سر میں 14یا 20سفید بال تھی جن کو آپ ﷺ مہندی یا خضاب لگا کر رنگتے تھے۔
آپ ﷺ کی گردن باریک ،لمبی اور صراحی دار تھی۔سینا چوڑاتھا۔ چھاتی چوڑی تھی۔ جسم پر بال نہیں تھے ۔ چھاتی کے درمیا ن بالوں کی ایک باریک سی لکیر تھی جو ناف پر جا کر ختم ہو جاتی تھی۔کلا ئیو ں پر ہلکے ہلکے بال تھے۔بازو لمبے دراز تھے، انگلیا ں لمبی اور سیدھی تھیں۔ہتھیلی کشادہ تھی۔بالکل سیدھا قد تھا۔سینا اور پیٹ برابر تھے۔ پا ؤ ں انتہا ئی نرم نازک تھے۔
آپ ﷺ کے پسینہ مبارک سے خوشبو آتی تھی۔آپ جب مسکراتے تھے تو آپ کا نور دیواروں پر پڑتا تھا۔شرم و حیا کا پیکرتھے۔آپ جب چلے تھے تو کندھے جھکا کرنہا یت عاجزی سے ۔امت کو بھی عاجزی کا سبق دیا،اور فرما یا تکبرکرنے والے کو اللہ ذلیل و خوار کرے گا(حدیث کا مفہوم)۔
آپ ﷺ نے کبھی کسی کو انگلی کا اشارا کر کے نہیں بلایا، پورے ہاتھ کے اشارے سے بلاتے تھے۔
آپ جیسے سامنے دیکھتے تھے ویسے ہی پیچھے بھی دیکھتے تھی۔ آپ کو دیکھنے سے دل نہیں بھرتا تھا، بلکہ دل بار بار دیکھنے کو کرتا تھا۔ کسی کی آنکھو ں میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ آپ ﷺ جو جی بھر کر دیکھ سکتا۔ ،آپ ﷺ کی آواز میں جادو تھا۔ باتو ں میں فصا حت وبلا غت تھی۔جب آپ ﷺ خا موش ہو تے وقار چھا جاتا تھا۔شاعر نے کیا خوب کہا:
جن کی قسمیں میرا رب کھاتا ہے
کتنی دلکش میرے محبوبﷺ کی صورت ہو تی
حضر ت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ کپڑے سی رہی تھیں اور سو ئی گم گئی۔
آپ ﷺ گھر میں داخل ہو ئے آپ ﷺ کے چہرہ مبارک کے نور سے روشنی ہو ئی اور حضرت عائشہ کو گمی ہو ئی سو ئی مل گئی۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ عورتو ں نے حضرت یوسف کو دیکھ کر اپنے ہاتھ اور انگلیاں کاٹ لیئے اگر میرے محبوب ﷺکو دیکھتیں تو دل چیر لیتیں۔
حضرت ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میری آنکھ نے آپ ﷺ سے زیاد ہ حسین کسی کو نہیں دیکھا۔
(مفہو م حدیث)
حضر ت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ پورے چاند کی رات تھی، چاند نہا یت پیارا، شاندار اورروشن تھا۔ اس دور میں حسن وجما ل کو چاند کے ساتھ تشبیہ دی جا تی تھی۔ آپ فرما تے ہیں میں نے سوچا کہ دیکھو ں چو دھو یں کا چاند زیادہ خوبصورت ہے یا میرے محبوب ﷺ۔ کہتے ہیں میں یہ دیکھنے کے لیئے کچھ دور کھڑے آقا کریم ﷺ کو دیکھا اور چاند کو دیکھا، پھر آپ ﷺ کو دیکھا اور چا ند کو دیکھا، پھر آپ ﷺ کو دیکھا اور چاند کو دیکھا غرض کئی بار دیکھا۔
آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم میرے محبو ب آقا ﷺ چاندسے بہت زیادہ خوبصورت تھے۔
امام قرطبی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ پاک نے اپنے حبیب ﷺ کا سارا حسن و جمال اور خوبصورتی تو ظاہر ہی نہیں کی۔ ورنہ انسان آپ ﷺ کے حسن کا ایک جلوہ بھی نہ دیکھ پاتا۔(مفہوم)
ہم اتنے سنگدل اور ظالم ہیں کہ اپنے عظیم اوربزرگ وبرتر آقا ﷺ سے بے وفا ئی کیئے ہو ئے ہیں۔
آپ ﷺ کو بھو لے ہو ئے ہیں۔ آئیں اس وفاؤ ں والے نبی ﷺکو ہر پل یاد کرنے اور آپ ﷺکی با تو ں کوآگے پہچانے کا عہد کریں۔کیو نکہ میر ے نبی ﷺ نے فرما یا اللہ اس شخص کے چہرے کو تروتازہ رکھے جس نے ہماری کو ئی حدیث سنی، یاد کی اور یہا ں تک کے پہنچا دی (حدیث کا مفہوم)۔ہم سب جب اپنے آقا ﷺ کا یہ حلیہ مبار ک اور زندگی کے پہلو یاد رکھیں گے تو جلدی ہمیں آپﷺ کا دیدار بھی نصیب ہو گا اور آپﷺ کی شفاعت بھی۔ انشا ء اللہ۔

Your Thoughts and Comments