Hajj Ka AlamGeer Ijtmah

حج کا عالمگیر اجتماع

عالم اسلام کے اتحاد اتفاق ‘محبت ویگانگت اور مساوات کا مظہر جب گناہ گاروں کو بخشش کی مالائیں پہنادی جاتی ہیں

Hajj Ka AlamGeer Ijtmah
حافظ زاہد عارف:
جب ”لبیک اللھم لبیک“ کی وجد آفریں صدائیں فضا میں نورانے رس گھول رہی ہوتی ہیں‘ جب ملائکہ پر بھی سرشاری کی کیفیت طاری ہورہی ہوتی ہے، جب رحمت خدا وندی کا بحر بیکراں جوش مار رہا ہوتا ہے، جب گناہگاروں کے گلوں میں بخشش کی مالائیں ڈالی جارہی ہوتی ہیں تو لاکھوں انسان منیٰ میں، عرفات میں اور مزدلفہ میں کفن مشابہہ احرام باندھے بندگی کا حق ادا کرنے کی سعی جمیلہ میں مصروف ہوتے ہیں۔
ان لاکھوں افراد کی جانب سے”اے میرے اللہ میں حاضر ہوں“کی صدر کی صورت میں اطاعت اللہ،اطاعت رسولﷺ کا پیمانہ باندھا جارہا ہوتا ہے لیکن اس حاضری کے بعد کسے حضوری نصیب ہوتی ہے یہ اپنا اپنا مقدر ہے۔ ہاں رحمت خداوندی کی برسات تو یکساں ہوتی ہے جیسے بارش تو پتھر پر بھی برستی ہے اور زرخیز زمین پر بھی‘مگر اثرات مختلف ہوتے ہیں۔

حج کی فرضیت 9 ہجری میں ہوئی تھی اور ”حجتہ الوداع“کے موقع پر آنحضرت ﷺ نے اپنا آخری خطبہ یا منشور انسانیت ارشاد فرمایا اور مناسک حج میں ان تمام مشرکانہ رسوم کو ممنوع قرار دیا، جو عہدِجاہلیت میں میں رائج تھیں۔

حج اسلا م کا ایک رکن ہی نہیں بلکہ اخلاقی، معاشرتی، اقتصادی، سیاسی،قومی، ملی زندگی کے ہر رخ اور ہر پہلو پر حاوی اور مسلمانوں کی عالم گیر بین الاقوامی حیثیت کا سب سے بلند مینار ہے۔ حج عالم اسلام کی یگانگت، اتحاد اور مساوات کا ایک بہترین مظہر بھی ہے۔ اس پُر آشوب زمانے میں پوری امت مسلمہ دنیا کے گوشے گوشے میں انتشار کا شکا ر ہے اور اس کے اکٹھا ہونے میں ایسی دشواریاں حائل ہیں جو اس کے اتحاد اور اجتماع کو محال بنادیتی ہیں ۔
ایسے میں حج ہی ایسی عبادت ہے جو امت مسلمہ کے اجتماع کی واحد صورت اور واحد ذریعہ ہے جو اللہ کے حکم سے ہر سال اہتمام کے ساتھ منعقد ہوتا ہے جس میں دنیا بھر کے مختلف خطوں اور مختلف ممالک کے لاکھوں مسلمان شریک ہو کر ہر قسم کے اختلافات فراموش کر دیتے ہیں۔ یہ اجتماعیت اور مساوات کا وہ مظاہرہ ہے جس کی مثال دنیا کی کسی تہذیب و تاریخ میں نہیں ملتی۔
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو اور اس نے عرض کیا:”اے اللہ کے رسولﷺ کیا چیز حج کو واجب کردیتی ہے؟“ آپﷺ نے فرمایا:”سامان ہو اور سواری“۔اس حدیث شریف کی وضاحت یہی ہے کہ قرآن مجید میں فرضیت حج کی شرط کے طور پر جو صاحب استطاعت ہو فرمایا گیا ہے۔ یعنی حج ان لوگوں پر فرض ہے جو سفر کر کے مکہ مکرمہ تک پہنچنے کی اسطاعت رکھتے ہوں۔
اس لئے حج اللہ کی خوشنودی کیلئے ہوتا ہے۔ لفظ حج کے معنی قصد کرنے کے ہیں۔ اسلامی اصلاح میں عبادت کی نیت سے خانہ کعبہ کا قصد کرنا مناسک حج بجا لانے کا نام حج ہے۔ خانہ کعبہ دنیا میں پہلا گھر ہے جو اللہ کی عبادت کے مرکز کی حیثیت سے بنایا گیا ہے، چنانچہ قرآن مجید میں ہے: یہ اللہ کا پہلا گھر ہے جو مکہ میں واقع ہے اور جو تمام عالم کیلئے سرچشمہ ہدایت ہے۔
حج کی فرضیت کا مقصد یہی ہے کہ نفس کا تزکیہ ہو ، تقویٰ کی روح پیدا ہو خدا سے تعلق استوارہو۔ اللہ کی اطاعت اس کی بندگی اور اس کی محبت ہر چیز پر غالب آجائے․․․․ جہاں تک فرضیت حج کی شرائط کا تعلق ہے تو حج کیلئے دو شرائط ہیں۔ ایک سواری اور دوسرا زادِراہ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس اتنا سرمایہ ہے کہ وہ آسانی سے حج کرسکتا ہے تو اس پر حج کرنا فرض ہے۔
آج کل سواری کا مطلب ہوائی جہاز کا کرایہ اور زادِراہ سے مراد ہوٹل وغیرہ کا خرچ ہے۔ اگر یہ دونوں چیزیں کوئی ادا کرسکتا ہے تو اس پر حج فرض ہے، اور نہ کرنے کی صورت میں اللہ تعالیٰ اس سے ناخوش ہوں گے۔ لاکھوں افراد پر مشتمل حج کا یہ عظیم منظر چشم فلک نے عرفات کے میدان کے سوا کہیں نہیں دیکھا۔ ہجرت کے 9 ویں سال حج کی فرضیت کی آیات نازل ہوئیں لیکن اس سال حضور نبی کریم ﷺ نے خود حج نہیں کیا بلکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی قیادت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو حج کیلئے بھیجا‘ اس طرح پہلے حج کی قیادت کی سعادت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئی جبکہ اگلے سال حضورﷺ کے حج کے اعلان کی سعادت حیدر کرار رضی اللہ عنہ کا مقدر بنی۔
یہ حضور ﷺ کا پہلا اور آخری حج تھا آپ ﷺ نے اپنی حیات ِمبارکہ میں چار حج کئے مگر یہ گنتی کے ہیں۔ فرضیت کے بعد آپ ﷺ نے صرف ایک حج کیا۔ سرکار دوعالم ﷺ نے حج کے فضائل ،اجروثواب اپنی امت کو بتائے اور اس عظیم فریضے سے غفلت برتنے پر سخت عذاب کی وعید بھی سنائی ہے۔ ارشاد نبویﷺ ہے” جسے کسی بیماری یا کسی واقعی ضرورت نے یا کسی ظالم حکمران نے روک نہ رکھا ہو اس کے باوجود وہ حج نہ کرے، تو چاہے وہ یہودی ہو کر مرے ، چاہے نصرانی ہوکر (گویا اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں)“اس حدیث میں وعید ہے کہ اگر کوئی شخص صاحب استطاعت ہو، لیکن وہ حج کا ارادہ نہیں کرتا تو یہ اسلامی تعلیمات کے منافی عمل ہے۔
جولوگ صاحب استطاعت ہیں، وہ اپنی دولت لہو ولعب میں تعیش اور تفریح پر لٹاتے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ اپنی کمائی اللہ کی راہ میں خرچ کریں اور حج کی سعادت حاصل کریں۔ کیونکہ حج اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کا موجب ہے۔ جس طرح حضرت ابراہیم نے اللہ کی دعوت پر لبیک کہا، اسی طرح ہر صاحب استطاعت شخص کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے تسلیم ورضا، فرماں برادری اور جذبہ اطاعت کے ساتھ اپنی گردن جھکا دینی چاہیے۔

Your Thoughts and Comments