Hajj Ke Paanch Din

حج کے پانچ دن

حج کا دوسرا دن ۔9 ذی الحجہ صبح مستحب وقت فجر کی نماز پڑھ کر لبیک، ذکر اور درودشریف میں مشغول رہیں۔ جب دھوپ جبل شبیرپر آجائے جو مسجد خیف کے سامنے ہے تو ناشتہ وغیرہ سے فارغ ہو کر عرفات کی طرف روانہ ہو

hajj ke paanch din

دوسرا دن ۔9 ذی الحجہ
صبح مستحب وقت فجر کی نماز پڑھ کر لبیک، ذکر اور درودشریف میں مشغول رہیں۔ جب دھوپ جبل شبیرپر آجائے جو مسجد خیف کے سامنے ہے تو ناشتہ وغیرہ سے فارغ ہو کر عرفات کی طرف روانہ ہو جائیں اور ظہر سے پہلے وہاں پہنچنے کی کوشش کریں۔ صرف عرفات میں بعض معلم دو پہر کے کھانے کا انتظام کرتے ہیں اور وہ بھی سب نہیں کرتے اس لئے ساتھ میں دو وقت کا کھانا لینا ضروری ہے تا کہ عرفات ومزدلفہ میں کام آئے اور عبادت میں خلل نہ پڑے۔

عرفات کی طرف جاتے ہوئے راستہ میں بے ضرورت کسی سے بات نہ کریں۔ لبیک ، دعا اور درود شریف کی کثرت کر یں۔
عرفات: عرفات ایک وسیع میدان کا نام ہے جس کا رقبہ تقریبا بیس ( 20) کلومیٹر مربع ہے۔ یہی وہ مبارک مقام ہے کہ 10ئھ میں عرفہ کے دن اسلام مکمل ہوایعنی حضورصلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے آخری حج کے موقع پر جب کہ آپ ایک لاکھ چودہ ہزار یا ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ کی عظیم جماعت کے ساتھ عرفات کے میدان میں تشریف فرما تھے اس وقت یہ آیت کر یمہ نازل ہوئی۔


آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔
اور یہی عرفات وہ مبارک مقام ہے کہ جہاں آج نویں ذی الحجہ کوزوال کے بعد سے دسویں کی صبح کے پہلے تک کسی وقت حاضر ہو نا خواہ ایک ہی گھڑی کے لئے کیوں نہ ہو۔ حج کا اہم فرض ہے کہ اگر یہ چھوٹ جائے تو اس سال حج ادا ہونے کی کوئی صورت ہی نہیں۔
یعنی قربانی وغیرہ کا کفارہ بھی اس کا بدل نہیں ہوسکتا۔
جب جبل رحمت پر نگاہ پڑے جو میدان عرفات میں ہے تو دعا کریں کہ مقبول ہونے کا وقت ہے۔ عرفات پہنچ کر آپ جہاں چاہیں ٹھہر سکتے ہیں مگر جبل رحمت کے پاس ٹھہرنا افضل ہے کہ حضورصلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس جگہ وقوف فرمایا تھا۔ لیکن اگر وہاں گنجائش نہ ہو یا آپ نے خیمہ کا کرایہ دیا ہو اور معلم نے خیمہ دوسری جگہ لگایا تو دوسری جگہ ٹھہرنے میں بھی حرج نہیں۔

دوپہر تک حسب طاقت صدقہ و خیرات ، ذکر و لبیک ، دعا و استغفار اور کلمہ توحید پڑھنے میں مشغول رہیں۔ ترمذی شریف کی حدیث ہے کہ نبی کریم علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا :کہ سب میں بہتر چیز جو آج کے دن میں نے اور مجھ سے پہلے انبیا نے کہی وہ یہ ہے
ترجمہ:اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کے لئے بادشاہت ہے اور اسی کے لئے تعریف ہے۔
وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے اور وہ زندہ ہے کبھی نہیں مرے گا۔ اسی کے ہاتھ میں ہر قسم کی بھلائی ہے اور وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔
اور دوپہر سے پہلے کھانے پینے اور دوسرے ضروری کاموں سے فارغ ہو جائیں اور جس طرح آج کے دن حاجی کو روزہ رکھنا مکروہ ہے اسی طرح پیٹ بھر کھانا بھی مناسب نہیں کے سستی کا باعث ہوگا۔
وقوف عرفہ: وقوف عرفہ کا طریقہ یہ ہے کہ دوپہر کے قریب غسل کریں کہ سنت ہے اورغسل نہ کر سکیں تو وضو کر یں پھر دو پہر ڈھلتے ہی مسجد نمرہ میں جائیں جوعرفات کے قریب ہے وہاں ظہر و عصر کی نماز ظہر کے وقت میں ملا کر پڑھیں اور پھر میدان عرفات میں داخل ہو جائیں لیکن مسجد نمرہ کی حاضری آسان نہیں اس لئے کہ خیمہ سے نکلنے کے بعد آٹھ دس لاکھ آدمیوں کی بھیٹر میں پھر اپنے ساتھیوں تک پہنچنا بہت مشکل بلکہ بعض حالات میں ناممکن ہو جا تا ہے اس طرح حاجی گم ہو جا تا ہے۔
جس سے وہ اور اس کے تمام ساتھی پریشان ہوتے ہیں اور عرفات کی حاضری کا مبارک وقت دعا و استغفار کے بجائے الجھنوں میں گزر جاتا ہے علاوہ ازیں مسجد نمرہ کا نجدی اما م مقیم ہونے کے با و جود نماز قصر پڑھتا ہے۔ لہذا ظہر کی نماز اپنے خیمہ ہی میں پڑھیں اور خیمہ میں پڑھنے کی صورت میں جمع بین الصلا تعین نہیں یعنی عصر کی نماز اس کے وقت سے پہلے پڑھنا جائز نہیں خواہ تنہا پڑھیں یا اپنی خاص جماعت کے ساتھ۔
(انوار البشارة ، بہارشریت)
نماز سے فارغ ہونے کے بعد دعاوٴں میں مشغول ہو جائیں ، درود شریف اور استغفار پڑھیں ، اپنے اور اپنے متعلقین نیز جملہ مومنین و مومنات کے لئے نہایت عاجزی و انکساری کے ساتھ دعا کریں کہ خدائے تعالی ان کی مغفرت فرمائے۔
بیہقی شریف کی حدیث ہے کہ حضورصلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مسلمان عرفہ کے دن زوال کے بعد وقوف کر کے پھر ایک سو مرتبہ کہے:
لاالہ الااللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد یحی ویمیت وھوحی لا یموت بیدہ الخیر،وھو علیٰ کل شئی قدیر۔

اور ایک سو مرتبہ پوری سورہ اخلاص پڑھے اور پھر ایک سو بار یہ درودشریف پڑھے۔
اللھم صل علی محمدکما صلیت علی ابراھیم وعلی آلابراھیم انک حمید مجید. وعلینا معھم .
تو اللہ تعالی فرماتا ہے اے میرے فرشتو! میرے اس بندے کو کیا ثواب دیا جائے جس نے میری تسبیح وتہلیل کی او تعظیم وتکبیر کیا مجھے پہچانا اور میری ثنا کی اور میرے نبی پر درود بھیجا۔
اے فرشتو! گواہ رہو کہ میں نے اسے بخش دیا اور اس کی شفاعت خود اس کے حق میں قبول کی۔ اور اگر میرا یہ بندہ مجھ سے سوال کرے تو میں اس کی شفاعت تمام اہل عرفات کے لئے قبول کروں گا۔
غرض کہ آج خدائے تعالی کی بے انتہانو ازشوں اور بے پایاں رحمتوں کی بارش کا دن ہے آج جس قد ردعا مانگ سکیں دل کھول کرما نگیں استغفار، درود شریف اور لبیک بھی پڑھتے رہیں جب سورج ڈوبنے میں آدھا گھنٹہ باقی رہ جائے تو مزدلفہ جانے کے لئے موٹر پر سوار ہو جائیں اگر چہ سورج ڈوبنے سے پہلے کسی بھی موٹر کو حد ودعرفات سے با ہر نہیں نکلنے دیا جا تا کہ نکلنے والوں پر کفارے کی قربانی لازم ہو جائے گی لیکن مغرب سے پہلے ہی سڑکوں پر ہزاروں موٹر میں قطار میں لگ جاتی ہیں اور سورج ڈوبنے کے بعد ہی فورا ان کی روانگی شروع ہو جاتی ہے۔

مزدلفہ کی روانگی: سورج ڈوبنے کے بعد مغرب کی نماز پڑھے بغیر مزدلفہ کی طرف روانہ ہو جائیں اور راستہ بھر ذکر درودشریف، دعا اور لبیک میں مصروف رہیں اور جب مزدلفہ میں داخل ہوں تو یہ دعا پڑھیں۔
ترجمہ:اے اللہ! میرے گوشت، ہڈی، چربی ، بال اور تمام اعضاء کو جہنم پر حرام کر دے اے سب مہر بانوں سے زیادہ مہربان۔
مزدلفہ پہنچ کرپہلے مغرب اور عشاء کی نماز عشاء کے وقت میں ایک ساتھ پڑھیں اگر مزدلفہ پہنچنے کے بعد مغرب کا وقت باقی رہے تو ابھی مغرب کی نماز ہر گز نہ پڑھیں کہ گناہ ہے۔
اگر کسی نے پڑھ لی تو عشاء کے وقت میں پھر پڑھنی پڑے گی۔ یہاں جمع بین الصلاتین اس طرح ہے کہ اذان و اقامت کے بعد مغرب کی فرض نماز ادا کی نیت سے پڑھیں اس کے بعد فوراََ بغیر اقامت عشاء کی فرض نماز پڑھیں پھر مغرب کی سنت ، پھر عشاء کی سنت اور پھر اس کے بعد وتر پڑھیں۔ یہاں دونوں نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کے لئے مسجد یا امام کی کوئی شرط نہیں۔
آپ تنہا پڑھیں یا جماعت سے ہر حال دونوں نماز عشاء کے وقت میں ایک ساتھ پڑھنی ہوگی۔
مزدلفہ میں پوری رات گذارنا سنت موٴکدہ ہے اور وقوف کا اصلی وقت صبح صادق سے لے کر اجالا ہونے تک ہے۔ لہذا جواس وقت کے بعد مزدلفہ پہنچے گا تو وقوف ادا نہ ہوگا اور کفارہ کی قربانی لازم ہوگی۔ اسی طرح جوشخص صبح صادق طلوع ہونے سے پہلے مزدلفہ چھوڑ کر چلا گیا اس پر بھی کفارہ کی قربانی لازم ہے۔
ہاں کمزور عورت یا بیماربھیٹر میں ضرر پہنچنے کے اندیشہ سے صبح صادق طلوع ہونے
سے پہلے ہی چلا گیا تو اس پر کچھ نہیں۔ (عالمگیری ، بہار شریعت)
مزدلفہ کی جگہ بہت مبارک اور یہ رات بہت افضل ہے لہذا نماز کے بعد دوسری ضروریات سے فارغ ہو کر باقی رات لبیک ، ذکر اور درودشریف پڑھنے میں گزارنا بہتر ہے اور دل چاہے تو تھوڑا آرام بھی کر لیں تا کہ تھکاوٹ دور ہو جائے۔
شیطان کو مارنے کے لئے اسی جگہ سے چنے برابر کنکر یاں چن کر دھولیں اگر تیرہویں ذی الحجہ تک کنکری مارنی ہے تو ستر (70) کنکریوں کی ضرورت پڑے گی اور بارہ تک مارنی ہے تو(49)کی۔ مزدلفہ میں صبح صادق طلوع ہوتے ہی توپ داغی جاتی ہے اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ باخبر ہو جائیں کہ وقوف کا واجب وقت اب شروع ہو گیا ہے۔

Your Thoughts and Comments