Hajj Ki Istalahat

حج کی اصطلاحات ومقامات اور فضائل ومسائل

حج کا لغوی معنی ہے ارادہ کرنا، زیارت کرنا، غالب آنا وغیرہ۔ لیکن اسلام میں حج ایک عبادت ہے جو خانہ کعبہ کے طواف اور مکہ مکرمہ شہر کے متعدد مقدس مقامات پرحاضر ہو کر کچھ آداب و اعمال بجالانے کا نام ہے۔ حج اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن ہے۔یہ ہر مسلما ن کیلئے زندگی میں ایک بار فرض ہے

Hajj Ki Istalahat
پیر محمد افضل قادری :
حج کا لغوی معنی ہے ارادہ کرنا، زیارت کرنا، غالب آنا وغیرہ۔ لیکن اسلام میں حج ایک عبادت ہے جو خانہ کعبہ کے طواف اور مکہ مکرمہ شہر کے متعدد مقدس مقامات پرحاضر ہو کر کچھ آداب و اعمال بجالانے کا نام ہے۔ حج اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن ہے۔یہ ہر مسلما ن کیلئے زندگی میں ایک بار فرض ہے۔ اس کیلئے مسلمان ہونا شرط ہے۔
2۔ اگر کفار کے ملک میں ہو تو حج کے فرض ہونے کا علم ہو۔ 3۔ عقلمند ہو یعنی پاگل نہ ہو۔ 4۔ بالغ ہو۔ 5۔ آزاد ہو اور تندرست ہونے کے علاوہ اعضاء سلامت ہوں۔
حج کی تین قسمیں ہیں: افراد: اس حاجی کو مفرد کہتے ہیں حج افراد یہ ہے کہ احرام باندھ کر صرف حج کیا جائے اور عمرہ نہ کیا جائے (عموما یہ حج اہل مکہ کیلئے ہے کیونکہ وہ سارا سال عمرہ کرتے رہتے ہیں لہٰذا ان کیلئے حج افراد کافی ہے)۔

حج قران: اس حاجی کو قارن کہتے ہیں۔ حج قران یہ ہے کہ عمرہ و حج کی اکٹھی نیت کر کے احرام باندھا جائے اور عمرہ (یعنی طواف وسعی) سے فارغ ہو کر احرام ختم نہ کیا جائے (یعنی حلق وتقصیرنہ کرائے) بلکہ اسی احرام سے حج کرے۔ یہ حج افضل ترین حج ہے، ”حجتہ الوداع“ میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج قران ہی کیا تھا۔
حج تمتع: اس حاجی کو متمتع کہا جاتا ہے۔
حج تمتع یہ ہے کہ عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ کیا جائے اور حلق یا تقصیر کر کے احرام ختم کر دے۔ پھر حج کیلئے علیحدہ احرام باندھ کر حج کرے۔ بشرطیکہ قربانی کا جانور ساتھ لے کر نہ گیا ہو۔ اور اگر قربانی کا جانور ساتھ لے گیا ہو تو اسکا اور قارن کا حکم یکساں ہے۔
حج قران اور حج تمتع میں قربانی واجب ہے۔ یہ قربانی ایام نحر یعنی 10، 11، 12، ذوالحج میں سے کسی یوم میں، حدود حرم کے اندر کرنا واجب ہے۔

عمرہ کا طریقہ: عمرہ یہ ہے کہ حسب دستور احرام باندھ کر خانہ کعبہ کا طواف کرے، پھر صفا و مروہ کی سعی کر کے حلق یا تقصیر کرالے۔
حج کا مختصر طریقہ: حج مفرد کرنے والا طواف قدوم اور پھر صفا ومروہ کی سعی بجا لائے،حج قران کرنے والا عمرہ کے افعال ادا کرکے بغیر سر منڈوائے حج کیلئے طواف قدوم اور سعی ادا کرے، حج تمتع کرنے والا صرف عمرہ کے افعال ادا کرے پھر قربانی ساتھ نہ لایا ہو تو سرمنڈوا کر احرام کھول دے، ورنہ احرام میں ہی رہے۔

8ذوالحج کو ہر قسم کے حاجی صبح کے وقت مکہ مکرمہ سے منیٰ جائیں اور پانچ نمازیں وہاں پڑھیں اور ۹ ذوالحج کی صبح کو عرفات روانہ ہو جائیں۔ عرفات میں بعد دوپہر کچھ ٹھہریں اسے وقوف عرفہ کہتے ہیں اور یہ حج کا رکن اعظم ہے اور نماز ظہر و عصر دونوں وقت ظہر میں ادا کریں بشرطیکہ جماعت کے ساتھ پڑھیں وگرنہ اپنے اپنے اوقات میں پڑھیں۔ غروب آفتاب کے بعد امام الحج کے ساتھ مزدلفہ آئیں اور یہاں عشاء کے وقت میں مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھیں اور پھر اندھیرے میں نماز فجر پڑھ کر مزدلفہ میں مشعر حرام یا جہاں ممکن ہو کچھ ٹھہریں جو کہ واجب ہے اور پھر 10ذوالحج کو طلوع آفتاب سے پہلے مزدلفہ سے منیٰ آئیں اور پھر منیٰ میں کم از کم 12ذوالحج سہ پہر رمی کرنے تک ٹھہریں اور اگر 13ذوالحج کو بھی ٹھہریں جو کہ زیادہ بہتر ہے تو 13ذوالحج دن کو زوال کے بعد رمی کر کے مکہ مکرمہ واپس جائیں۔

10ذوالحج کو منیٰ میں پہلے جمرہ کو زوال سے پہلے سات کنکریاں ماریں پھر قارن اور متمتع قربانی کریں اور حلق یا تقصیر کریں اور اس کے بعد 10، 11، 12ذوالحج کے اندر مکہ مکرمہ پہنچ کر طواف فرض کریں ۔ طواف فرض کے بعد متمتع حاجی سعی بھی کرے۔ اور مفرد و قارن حاجی جو طواف قدوم اور سعی پہلے کر چکے ہیں انہیں اب سعی کی ضرورت نہیں۔ عورت اگر حیض یا نفاس کی حالت میں ہو تو پاک ہو کر ان دنوں کے بعد طواف فرض ادا کرے۔

11اور 12ذوالحج کو زوال کے بعد تینوں جمروں کو سات سات کنکریاں ماریں اور اگر 13ذوالحج کو ٹھہرے تو اس روز بھی زوال کے بعد تینوں جمروں کو رمی کریں۔ اس کے بعد مکہ مکرمہ آئے وادی محصب میں کچھ دیر ٹھہرے اور طواف صدر کرے۔ طواف صدر پر حج مکمل ہو گیا۔
حج بدل: جس شخص پر حج فرض ہو جائے اور وہ اس کے بعد کمزوری یا معذور ہونے کی وجہ سے خود حج پر روانہ نہ ہو سکے تو اس کیلئے ضروری ہے کہ اس کی طرف سے کوئی اور حج کرے۔ ایسے ہی وہ عورت جس پر حج فرض ہو گیا ہو، اگر اسے محرم یا شوہر کے ساتھ حج کیلئے جانا ممکن نہ ہو تو وہ حج بدل کیلئے کسی کو بھیجے۔ اگر کوئی شخص وصیت کر گیا ہو، تو اس کے مال کے 1/3سے حج بدل ممکن ہو تو ورثاء پر وصیت پر عمل کرنا ضروری ہے۔

Your Thoughts and Comments