Manasik E Hajj

مناسک حج

ارکان اسلام میں عظیم رکن اسلام فریضہ حج کی ادائیگی ہےحج پر روانگی سے پہلے مناسک حج کی ضرورتربیت حاصل کریں

ہفتہ جون

Manasik e Hajj
علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر
حج زندگی میں ہر مسلمان پر ایک بار فرض ہوتا ہے زیادہ مرتبہ یہ سعادت حاصل انسان کی خوش نصیبی ہے ۔پاکستان سے عازمین حج سے ایک گزارش ہے کہ حج پر روانگی سے پہلے چند ایک امور پر بھر پور توجہ دیں۔
اس بات کا یقین کرلیں کہ جو پیسہ آپ فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے خرچ کررہے ہیں اور ہمراہ لے جارہے ہیں کیا اس میں فقراء ومساکین اور یتیموں کا خمس وزکوٰة کی صورت میں کوئی حق تو موجود نہیں؟گزارش ہے کہ اگر اس سرمایہ میں ایک پیسہ بھی خمس و زکوة کا ادا کرنا باقی ہو گا تو ادا کئے بغیر نہ صرف سارا مال غصبی ہو گا اور سفر حج سمیت حج بھی باطل ہو گا۔

خیال رہے کہیں و ہ حرام ذرائع سے تو کمایا ہوا نہیں؟حرام اور ناجائز منافع خوری ،رشوت ،چوری ،لوٹ مار کے مال سے حج جائز نہیں ہے۔

سفرحج پر روانگی سے پہلے جہاں پر آپ نے زادراہ کا انتظام کرنا ہے سرکاری سکیم یا پرائیویٹ سکیم کے ذریعے حج پر جانا ہے ۔ہر حالت میں آپ کا مطمع نظر اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل اس کی رضا وخوشنودی کاحصول اور اس کے رسول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق مناسک حج کی روانگی سے پہلے تربیت حاصل کرنا اور اس کے مطابق فریضہ حج کے مناسک کی انجام دہی پر توجہ دینا ہو ۔

فقہ جعفری کے پیروکارعازمین حج روانگی سے پہلے کسی مجتہد اعظم کی تقلید کی بھی نیت ضرور کرلیں۔ورنہ حج باطل ہو گا۔
آپ کی تمام ترتوجہات صحیح طریقہ سے مناسک حج کی ادائیگی پر ہونی چاہیں اور حج کی روحانی کیفیت اور حالت ہر صورت میں نہ صرف بر قرار رکھنا ہے بلکہ اس میں پہلے سے زیادہ اضافہ کرنے کی سعی اور کوشش کرنا ہے آپ کی توجہ آرام دہ ہوٹل بستروں ،لذیذ کھانوں،لگژری بسوں اور ائیر کندیشنڈ خیموں کے حصول پر نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ تمام نعمتیں آپ کو اپنے وطن میں بھی عطا فرمائی ہیں۔

حج کے اعمال اور مناسک عبادات میں سے سب سے زیادہ مشکل ترین”اعمال “ہیں جو صرف جان لینے اور پڑھ لینے سے بھی اچھی طرح سمجھ نہیں آتے لہٰذاکوشش کریں اپنے طور پر حج کے احکام کا نہ صرف مطالعہ کریں بلکہ پاکستان میں ہی حج تربیتی کیمپوں اور ماضی قریب میں پہلے سے فریضہ حج اداکئے ہوئے حجاج کرام سے رہنمائی حاصل کرلیں ،حج کی ویڈیوز دیکھیں اور مکہ مکرمہ داخلے سے پہلے میقات سے احرام باندھنے سے حج اور عمرہ کے آخری منسک کی ادائیگی تک علماء اور تجربہ کار حجاج کرام سے رہنمائی لیتے رہیں۔
ہر عمل حج کے فلسفہ اور روح کوجاننے اور اس کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
سفر حج تکلیفوں اور مشقتوں کا سفر ہے جس میں پڑھنے پڑھانے کی بہت کم چیزیں ہیں زیادہ تر اعمال کا تعلق پیدل چلنے کے ساتھ ہے لہٰذا پیدل چلنے کو ترجیح دیں اور راہ خدا میں آنے والی تکالیف کو نہ صرف خندہ پیشانی سے برداشت کریں بلکہ ان تکلیفوں سے لطف اندوزہوں کہ یہ تکالیف آپ کو فریضہ حج کی ادائیگی اور حکم خدا پر عمل کرنے کیلئے برداشت کرنا پڑ رہی ہیں۔

لہٰذا محترم حجاج کرام احرام باندھتے وقت تلبیہ پڑھتے وقت ان امور کی طرف بھی متوجہ رہیں ۔احرام کے بعد کئی ایک حلال چیزیں بھی محرم پر حرام ہو جاتی ہیں ۔جس سے سبق ملتا ہے کہ ہم کو حرام کا موں سے تو ہر حال میں ہر جگہ بچنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ ہم کاروان اور وفد کی صورت میں زائرین بن کر آئے ہیں اور زائرین کا آپ پر حق ہے لہٰذا اے ہمارے پروردگار اس پہلے ہی منسک حج کی ادائیگی پرہمارے سارے گناہ معاف فرمادے۔
ہمارے حج کو قبول فرما۔
اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقرر کردہ پانچ میقاتوں میں سے کسی بھی میقات یا محاذی میقات سے احرام باندھ کر تلبیہ پڑھتے ہوئے ۔حرم خدا سر زمین امن ،بیت عتیق ،بلدالامین مکہ مکرمہ جیسے جیسے قریب آتا جائے اور حدود حرم کو عبور کرکے مکہ مکرمہ میں داخل ہوں تو دعائیں کرتے گر یہ وزاری کرتے ہوئے طویل تاریخ ماضی میں سفر عشق کے راستے پر دوڑتے ہوئے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت ابراہیم وحضرت اسماعیل علیہ السلام تک حضرت اسماعیل علیہ السلام سے لے کر جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حج الوداع کے موقع تک طواف وسعی ووقوف عرفات ومشعر ومنیٰ میں اپنے آپ کو جوڑ کر پروکران کے نقش ہائے قدم پر قدم رکھتے ہوئے زبان کو درودوسلام اور دعاؤں سے معطر کرتے ہوئے طلب استغفار کی توفیق ہو جانے پر اس یقین کے ساتھ طواف کعبہ نماز طواف مقام ابراہیم علیہ السلام پر اور صفاومروہ کی سعی میں مشغول ہو جائیں،ماضی کے دریچوں میں بھی جھانکتے جائیں،آنسوؤں کی لڑیاں پر وتے ہوئے حجرا سود کو سلام واستلان کرکے اپنی حاضری کی سند حاصل کریں کیونکہ حجراسودروزقیامت حاجی کی آمد اور حاضر ی کی گواہی دے گا۔
مقام ابراہیم علیہ السلام دورکعت طواف پڑھتے ہوئے نقش ہائے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نیم دائرہ دیوار مقام اسماعیل علیہ السلام زم زم کے پانی کو پیتے ہوئے صفاومروہ کی سعی کو دیکھ کر اللہ کے ہاں جلیل القدر انبیاء کی قربانیوں اور خدمت اور عظمت کو یاد کرکے درود ابراہیمی علیہ السلام پڑھیں ۔رکن یمانی اور حجر اسود کو بوسہ دیں۔صفا پہاڑی پر وسعت رزق کیلئے اور مروہ پہاری پر اولاد کیلئے دعائیں کریں۔
اللہ کی کنیز حضرت ہاجرہ علیہ السلام جو ایک نبی خدا ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ اور ایک نبی خدا حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ہیں۔اپنی کی پیاس بجھانے کیلئے بے آب وگیاہ وادی میں تنہا پانی کی تلاش میں سعی کرتی رہیں کو یاد کرکے ایک خاتون کے نقش قدم پر چل کر سعی کریں۔
8ذی الحجہ یوم ترویہ حج کا مکہ مکرمہ سے ہی احرام باندھ کر وادی منیٰ ،میدان عرفات کی طرف تلبیہ پڑھتے ہوئے روانہ ہوجائیں۔
منیٰ ایک تنگ وادی ہے منیٰ کے خیموں میں جگہ بہت ہی کم ہوتی ہے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے ایڈجسٹ ہوں دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیں ۔باری باری آرام اور اعمال بجالانے سے آرام مل سکتا ہے۔
9ذی الحجہ روز عرفہ معرفت زوال آفتاب سے غروب تک باوضو،باطہارت بیداری کی حالت میں ذکرو اذکار اور توبہ واستغفار میں وقت گزاریں کوشش کریں اپنی ندامت اور شرمندگی وتوبہ کے آنسو سرزمین توبہ سرمیں معرفت سرزمین میزان وحساب عرفات کی مٹی میں بطور امانت چھوڑ کر آئی تاکہ روز قیامت اسی جگہ میدان محشر جب سجے اور میزان پر اعمال تلنے لگیں تو یہ آنسوہماری نیکیوں کے پلڑے کو بھاری کرنے کا سبب بنیں۔
ظہرین کی نماز یں ایک اذان اور دواقامت کے ساتھ ملا کر پڑھیں۔اپنے کاروان کے عالم کو درخواست کریں کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خطبہ حجتہ الوداع کو بیان کریں جو قیامت تک انسانیت کی فلاح وبہود کا ایک عظیم چارٹر ہے ۔جس میں آپ نے معرفت وعظمت کا معیار تقویٰ قرار دیا تھا۔گورے کالے کے فرق کو ختم کردیا تھا ،سود کو قیامت تک حرام فرمادیا تھا۔
آپ کے خطبہ کے ایک ایک حرف پر عمل کرنے کا عہد کریں۔
یہ توبہ کا دن ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ضمانت عطا فرمائی ہے ۔وقوف عرفات میں روز عرفہ
توبہ کرنے والا گناہوں سے اس طرح پاک ہوجاتا ہے گویا آج ہی شکم مادر سے باہر آیا ہے ۔حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا۔غروب آفتاب کے وقت حاجی کایہاں خیال کرنا بھی گناہ ہے کہ پتہ نہیں اب بھی میرے گناہ معاف ہو ئے ہیں یانہیں۔

دعائے غروب آفتاب پڑھ کر عرفات سے میدان مزدلفہ مشعر الحرام کے لئے روانہ ہو جائیں ،بسوں اور سواریوں کے حصول میں مشقت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے صبرسے کام لیں ۔زبان کو سختی سے کنٹرول رکھیں تمہارا ازلی دشمن شیطان تمہاری توبہ کو توڑنے کی پوری کوشش کرے گا۔مشعر الحرام مزدلفہ میں مغربین کی نمازیں ایک ساتھ ملا کر پڑھیں۔رمی جمرات کیلئے کنکریاں چنیں۔
اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کریں زمین پر لیٹ پر عجزوانکساری کی آخری حد کو چھولینے سے لطف اندوز ہوں مشعر شعور سے لیا گیا ہے اپنے شعور کو وسعت دیں۔
طلوع فجر تے آفتاب تک وقوف مشعر الحرام کی نیت سے قیام کریں نماز فجر بجالائیں اور عبادات اور دعاؤں میں مشغول رہیں طلوع آفتاب سے پہلے سوائے معذور افراد کے مزدلفہ سے نکلناجائز نہیں۔سورج طلوع ہونے کے بعد مزدلفہ کی وادی سے نکل کر منیٰ میں داخل ہوں۔
10ذی الحجہ کے دن مزدلفہ سے منیٰ روانہ ہو جائیں۔پیدل چل کر جانے میں بہت آسانی رہتی ہے۔البتہ جو لوگ ٹرین کا راستہ استعمال کر سکتے ہیں اس میں بھی آسانی ہے۔
عیدالاضحیٰ کے دن تین کام کرنا ہیں۔ سب سے پہلے بڑے شیطان (رمی جمرہ عقبہ)کو سات کنکریاں مار کر اپنے دشمن سے نفرت اور دوری کا اظہار برملا کریں۔قربانی کا جانور ذبح کریں اپنے اندر جذبہ قربانی وایثار سے پیداکریں۔
منیٰ میں حاجی کیلئے ایک جانور کا ذبح کرنا واجب ہے ۔ذبح خود کر یں یا کسی کو وکیل بنا کر ذبح کرالیں۔قربانی کے بعد ترتیب کا خیال رکھتے ہوئے سر منڈوائیں ،خواتین تقصیر ہی کریں گی۔پھر غسل کرکے سلاہوا لباس زیب تن کریں احرام سے آزاد ہو جائیں گے۔گیارہ اور بارہ کی راتوں کو منیٰ میں جاگ کریا سوکر گزار نا واجب ہے جسے بیتوتة منیٰ کہتے ہیں ۔دودنوں میں تینوں شیطانوں کو سات سات کنکریاں مارنا واجب ہے کنکریاں مارنے میں بھی ضعیف اور مریض کسی کو اپنا وکیل بنا سکتے ہیں۔

12ذی الحجہ کو واپس مکہ مکرمہ آئیں اور بقیہ ”مناسک حج“طواف ،نماز طواف ،سعی،طواف وادع اور طواف نساء بجالا کر شکرانے کے نوافل خانہ کعبہ کے چاروں کو نوں میں پڑھ کر آئندہ سال پھر حاضری کی دعائیں کریں۔
حج کی قبولیت اور وطن عزیز کی سالمیت امت مسلمہ کی وحدت،یہود ونصاریٰ اور اعدادء دین کی بربادی کی بددعا یا ہدایت کی دعا کریں۔اللہ رب العالمین آپ کے حج وزیارت کو قبول فرمائے۔۔۔

Your Thoughts and Comments