Adalat E Nabawi Ka Aik Waqiya

عدالت نبوی کا ایک واقعہ

ایک شخص حضرموت کا اور ایک شخص کندہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔

جمعرات مارچ

Adalat e nabawi ka aik waqiya
حافظ عزیز احمد
حضرت علقمہ بن وائل بن حجر الحضرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا:ایک شخص حضرموت کا اور ایک شخص کندہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔حضرمی نے کہا:اس شخص نے ایک زمین مجھ سے زبردستی چھین لی ہے جو میرے والد کی تھی ۔کندی نے کہا:یہ تو میری زمین ہے جس کو میں کاشت کرتاہوں ،اس کا اس میں کوئی حق نہیں ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرمی سے فرمایا:تمہارے پاس کوئی ثبوت ہے؟اس نے عرض کیا :نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:پھر تم اس کو قسم دلا سکتے ہو۔اُس (حضرمی شخص)نے کہا:یا رسول اللہ،یہ بدکردار شخص ہے ،اس کو کوئی پروا نہیں ہو گی کہ اس نے کیا قسم کھائی ہے ،یہ تو کسی چیز سے جھجھکتا ہی نہیں اور نہ اسے خوف خدا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں تو بہر حال اتنا ہی حق حاصل ہے (کہ اسے قسم دلاسکو) (رواہ ابو داؤد)
محترم سامعین !یہ ایک مقدمہ کی روداد ہے جو دنیا کی سب سے بڑی عدالت میں پیش ہوا ہے ۔

مدعی اور مدعیٰ علیہ دونوں بارگاہ رسالت میں حاضر ہیں۔ مدعی یعنی حضرمی نے اپنی زمین سے متعلق مدعیٰ علیہ یعنی کندی کے روبرو حقیقت حال کو سامنے رکھتے ہوئے پوری قوت سے اپنا مقدمہ پیش کیا ہے اور بتایا ہے کہ زمین میرے والد سے مجھے ملی مگر اس نے اس پر زبردستی قبضہ کر رکھا ہے ۔آپ یہ زمین مجھے واپس دلا دیجئے ۔اس کے جواب میں مدعیٰ علیہ نے کہا کہ جناب یہ زمین اس کی کیسے ہو سکتی ہے جبکہ اس پر قبضہ میرا ہے اور کاشت بھی میں کر رہا ہوں ۔
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ زمین میری ہے ،اس کی نہیں۔ حدیث شریف میں موجود آئندہ تفصیل سے بادی النظر میں محسوس ہوتاہے کہ مدعی کی بات میں وزن ہے اور وہی زمین کا حقیقی مالک ہے ۔مگر قانون کی پاسداری اور عملداری کے لئے اللہ رب العزت کا رسول ہونے کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدعی سے فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی ثبوت یا گواہ ہے جو تم اپنے مقدمہ کی تو ثیق وتائید کے لئے عدالت کے سامنے پیش کر سکو؟مدعی نے نفی میں جواب دیا۔

تب آپ نے ارشاد فرمایا کہ چونکہ تمہارے پاس گواہ نہیں ہیں اس لئے تم مدعیٰ علیہ سے قسم کھانے کا مطالبہ کر سکتے ہو کہ وہ حلفاً کہہ دے کہ یہ زمین اس کی ہے ۔اگر وہ ایسا کر دیتاہے تو دائر شدہ مقدمہ کا فیصلہ اس کے حق میں کر دیا جائے گا کہ واقعتہً یہ زمین اسی کی ہے ۔یہ سن کر مدعی نے کہا:یا رسول اللہ!میں اس کی قسم کا کیسے اعتبار کرلوں ،وہ تو بدکردار یعنی فاجر آدمی ہے ۔
اُسے کیا معلوم کہ قسم کی اہمیت کیا ہے اور اللہ جل مجدہ کے اسم گرامی کی کیا عظمت ہے ۔یہ تو قسم کھانے میں ذرہ بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا،اسے اللہ کا ڈر ہی نہیں ،یہ قسم کھالے گا۔نتیجے میں میرا حق مارا جائے گا ۔بین السطور لگتایہ ہے کہ مدعی کسی تیسری راہ نکالنے کا خواہش مند ہے ،لیکن رسول دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:جب تمہارے پاس کوئی گواہ نہیں ،کوئی ثبوت نہیں تو تمہارا حق تو بس اسی قدر ہے کہ تم اسے قسم کھانے کا کہو۔

حضرات گرامی!دیوانی مقدمہ کی اس ساری کار روائی میں کئی سبق آموز حقائق موجود ہیں جنہیں یاد رکھنے اور رُو بعمل لانے کی ضرورت ہے ۔اوّلاً یہ کہ مدعی خواہ کتنا ہی سچا، دیانتدار اور با کردار شخص ہو ،اُسے اپنے مقدمہ کی تائید میں عدالت کے سامنے ثبوت اور گواہ پیش کرنا ہوں گے ۔عدالت کا قاضی یا جج اپنی ذاتی معلومات کے باوجود بھی اُس کے حق میں فیصلہ صادر نہیں کر سکتا۔
اُسے بہر طور عدالت کے تقاضوں کو پورا کرنا ہو گا کیونکہ قانون کی عملداری صرف اسی طرح ہی ممکن ہے ۔حدیث مبارک کی تشریح میں آپ نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمین کے مقدمہ کے مدعی حضرمی شخص سے ثبوت طلب فرمایا۔ثانیاً یہ کہ مدعی کے پاس ثبوت نہ ہونے کی صورت میں مدعیٰ علیہ کے ذمے اللہ کی قسم کھانا ہے۔ اگر وہ قسم کھا لیتاہے تو فضاء فیصلہ اُس کے حق میں ہو جائے گا ۔
البتہ اگر وہ جھوٹی قسم کھا لیتا ہے تو دیانتہً وہ اللہ کے ہاں مجرم قرار پائے گا اور اس کی سزا اُسے جلد یا بدیر بھگتنا ہو گی۔
کیونکہ جھوٹی قسم کھانا بذات خود بہت بڑا گناہ ہے۔ثالثاً یہ کہ عدالت ظاہری حالات و واقعات کے مطابق ہی فیصلے صادر کرنے کی پابند ہوتی ہے ۔خدا نخواستہ مدعی جھوٹے گواہ پیش کر دے یا مدعیٰ علیہ جھوٹی قسم کھالے تو اس کا گناہ انہی کے سر ہو گا۔
فیصلے کے بعد عدالت اور قاضی کو مور د الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔زیر مطالعہ حدیث مبارک میں رسول دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدعی کو یہ فرما کر کہ تم صرف اس کو قسم ہی دلا سکتے ہو ،عدالت اس کے علاوہ اس صورت حال میں تمہارے لئے کوئی اور راہ نہیں نکال سکتی ۔حدیث شریف اس بارے میں خاموش ہے کہ مدعیٰ علیہ نے قسم کھائی یا نہیں اور یہ بھی معلوم نہیں کہ مدعی نے مدعیٰ علیہ سے قسم کھانے کو کہا بھی یا نہیں تاہم یہ بات واضح ہے کہ شارع علیہ السلام نے شرعی قانون کو اپنا فطری اور وضع کردہ راستہ اختیار کرنے کی کھلی راہ عطا فرمادی۔

گرامی قدر سامعین !ایسی ہی نوعیت کے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں مقدمات آج بھی عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں ۔معروضی حالات کی وجہ سے سالہا سال تک زیر التوارہتے ہیں ۔مناسب معلوم ہوتاہے کہ ارشادات رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے حوالے سے یہ بھی ذکر کر دیا جائے کہ کسی زمین کو زبردستی ہتھیا لینا یا اُس پر قبضہ کر لینا کتنا بڑا جرم ہے ۔
سب سے پہلے ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ایک مسلمان کا خون ،مال اور عزت دوسرے مسلمان کے لئے قابل احترام ہے ۔حجتہ الوداع کے خطبے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کی طرف بطور خاص توجہ دلائی تھی ۔دوم یہ کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سختی سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے کا مال مذاق یا سنجید گی میں ہتھیالے ۔چنانچہ مجمع الزوائد میں صحابی رسول حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں اگر کسی نے اپنے ساتھی کا کوئی سامان اس طرح لے لیا ہوتو اُسے چاہئے کہ وہ اسے واپس کردے ۔

سوم یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بڑی وضاحت سے فرمایا کہ کسی مسلمان کا مال اس کی خوشدلی کے بغیر حلال نہیں ۔یعنی دھونس اور دھاندلی سے اس کی رضا مندی کے بغیر اس کی کسی مجبوری یا کمزوری کی بنا پر قبضہ کر لینا قطعاً ناجائز ہے ۔یہ دن دیہاڑے یا راتوں رات قبضہ مافیا کے ہاتھوں جو کمزور اور مجبور لوگوں کے مال پر ہاتھ صاف کیا جاتاہے ،بہت بڑا ظلم اور نا انصافی ہے ۔
چہارم اور آخری یہ کہ محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمینوں پر اس طرح غاصبانہ قبضے کو ظلم کی انتہائی شکل قرار دیا ہے ۔سنتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک ارشاد گرامی کو جسے امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ نے اپنی مسند میں نقل فرمایا ہے ۔کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی:یا رسول اللہ !سب سے بڑا ظلم کیا ہے؟فرمایا:اگر ایک گز زمین بھی کوئی مسلمان شخص اپنے بھائی کے حق میں سے کم کرے تو اُسے قیامت کے دن زمین کی تہہ تک اس کی گردن کا طوق بنا دیا جائے گا اور زمین کی تہہ کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ،جس نے اسے پیدا کیا ہے “سچی بات یہ ہے کہ ایک سچا موٴمن جسے اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم کے فرامین پر مکمل ایمان ہے ،وہ یہ ارشاد گرامی سن کر لرز جاتاہے۔

اللہ رب العزت سے دعاء ہے کہ وہ اس قسم کی نا انصافیوں سے جو آئے دن ہمارے معاشرے میں ظہور پذیر ہوتی رہتی ہیں اور جن کی وجہ سے پورا معاشرہ کرب واضطراب کی چکی میں پستا رہتاہے ،ہم سب کو اپنی حفظ وامان میں رکھے ۔اور ہمیں تو فیق عطا فرمائے کہ اگر ہم کسی کے ساتھ نیکی کرنے کے جذبے سے محروم ہو گئے ہیں تو کم ازکم اس پر کوئی ظلم روا نہ رکھیں ۔آمین۔

Your Thoughts and Comments