Afuwadarguzar

عفوودرگزر

اس کے بغیر معاشرہ خیر سے خالی ہو جاتاہے

منگل اکتوبر

Afuwadarguzar

خالد حسین رضا
عفو کے لفظی معنی ہیں معاف کرنا ،درگزر کر نا یا چھوڑ دینا۔اللہ عزوجل کی صفات میں سے ایک صفت عفو بھی ہے۔ہمارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی اس صفت کے مکمل نمونہ اور آئینہ تھے۔ ہمارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صبر اور درگزر کے بارے میں کون نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھوں، مصیبتوں اور پریشانیوں سے دو چار کرنے والے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھروں سے لہو لہان کرنے والے ،کوڑا پھینکنے والے اور جان کے دشمن لوگ جب جنگی قیدیوں کے روپ میں بے بس ولا چار ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیش ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف انہیں معاف کر دیا بلکہ ان کو اپنے سینے سے لگالیا اور ان کیلئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کی۔


آپ کی اس عفوودرگزر کو اور رحم دلی کو دیکھتے ہوئے وہ لوگ جو کبھی اسلام کے مخالف تھے انہوں نے خود اسلام قبول کیا بلکہ دل وجان سے اسلام کیلئے کام کرنا شروع کر دیا اور اسلام نے ان کے دلوں میں ڈیرے ڈال لیے۔ایک حدیث پاک حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فرمایا ہمارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ رحم نہیں کرتا اس پر جورحم نہیں کرتا انسانوں پر ۔
ہمارے اسلامی معاشرے کی بنیاد چھوٹوں سے شفقت سے پیش آنا اور مصیبت زدہ اور بدحال انسانوں پر رحم کرنے پر قائم ہے۔ایک اور حدیث پاک ،جوکہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی :اے میرے پر وردگار تیرے بندوں میں سے کون تیری بار گاہ میں زیادہ عزت والا ہے؟اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :وہ بندہ جو بدلہ لینے پر قادر ہونے کے باوجود معاف کردے۔

یہاں میں عفوودرگزر کی ایک بہت ہی اعلیٰ مثال اور واقعہ بیان کرنے لگا ہوں جو کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں پیش آیا۔ایک دن دونو جوان حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دربار میں پیش ہوئے جہاں بہت سے لوگ موجود تھے اور اشارہ کرتے ہوئے عرض کیا اے امیر المومنین رضی اللہ عنہ یہ جو شخص بیٹھا ہے اس نے ہمارے والد کو قتل کیا ہے۔حضرت عمررضی اللہ عنہ نے اس شخص سے دریافت کیا کہ یہ نوجوان جو دعویٰ کر رہے ہیں کیا درست ہے اور تونے ان کے والد کا قتل کیا ہے؟تو اس شخص نے عرض کی کہ اے امیر المومنین رضی اللہ عنہ جی یہ درست کہہ رہے ہیں۔
مجھ سے یہ گناہ سر زد ہوا ہے ۔تو حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تونے کس طرح ان کے والد کا قتل کیا؟تو وہ شخص عرض کرنے لگا کہ اے امیر المومنین رضی اللہ عنہ ایک دن ان کا والد اپنے اونٹ سمیت میرے کھیتوں میں داخل ہو گیا اور میرے منع کرنے کے باوجود بھی نہ مانا تو میں نے ایک پتھر زورسے اس پر دے ماراجو سیدھا اس کے سر پر لگا جس کی وجہ سے وہ ہلاک ہو گیا۔

امیر المومنین حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ پھر تو تمہیں اسکا قصا ص دینا پڑے گا اور جان کے بدلے جان دینی پڑے گی۔وہ شخص عرض کرنے لگا کہ اے امیر المومنین رضی اللہ عنہ اس کے نام پر جس کے حکم سے یہ زمین و آسمان قائم کھڑے ہیں مجھے واپس اپنے گھر جانے دیا جائے تاکہ میں اپنے بیوی بچوں کو یہ بتا آؤں کہ میں قتل کردیا جاؤں گا۔اس کے بعد میں واپس آجاؤ ں گا کیونکہ اللہ کے سوا میرے بعد ان کا کوئی آسرانہ ہو گا۔
حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہاں کون ہے جو تمہارے واپس آنے کی ضمانت دے کہ تم صحرا میں جا کر واپس آجاؤ گے؟پوری محفل میں خاموشی چھاگئی اور کوئی بھی اس کی ضمانت دینے کیلئے نہ بولا کیونکہ اس کو وہاں موجود کوئی بھی شخص نہیں جانتا تھا اور یہ کوئی رقم کے ادھار یا زمین کے ٹکڑے یا کسی جانور کے سودے کی بات نہ تھی یہ تو ایک گردن کی ضمانت کا معاملہ ہے جسے تلوار سے کاٹ دیا جانا ہے اور کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے پر حضرت عمررضی اللہ عنہ سے اعتراض کرے یا کسی قسم کی سفارش کا سوچ سکے۔

محفل میں موجود تمام لوگ بشمول صحابہ کرام رضی اللہ عنہ پر ایک خاموشی طاری تھی۔اس صورتحال سے خود حضرت عمررضی اللہ عنہ بھی متاثر ہیں کیونکہ اس شخص کی حالت نے سب کو ہی حیرت میں ڈال دیا تھا۔کیس اس شخص کو واقعی قصاص کے طور پر قتل کر دیا جائے اور اس کے بچوں کو یتیم اور اس کی بیوی کو بیوہ کر دیا جائے اور ان کو بھوکا مرنے کیلئے چھوڑدیا جائے یا پھر اس کو بغیر ضمانت کے واپس جانے دیا جائے اور اگر وہ واپس نہ آیا تو مقتول کا خون رائیگاں جائے گا اور انصاف نہ ہو سکے گا۔
خود حضرت عمررضی اللہ عنہ سر جھکائے افسردہ بیٹھے ہیں اور اس صورتحال پر سراٹھا کر التجا بھری نظروں سے ان نوجوانوں کی جانب دیکھا اور فرمایا کہ کیا تم اس کو معاف نہیں کر سکتے۔
ان نوجوانوں کی جانب سے جواب آیا کہ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم اپنے والد کے قاتل کومعاف کردیں ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک بار پھر دربار کی جانب دیکھا اور بلند آواز سے پوچھا!اے لوگو کوئی ہے جو اس کی ضمانت دے ؟تو حضرت ابو ذررضی اللہ عنہ اپنے زہدو صدق سے بھر پور بڑھاپے سے کھڑے ہو کر فرمانے لگے اے امیر المومنین میں اس کی ضمانت دیتا ہوں۔
حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے ابو ذر کیا تم اس کو جانتے ہو اور اس نے قتل کیا ہے جس کی تم ضمانت دینے جارہے ہوتو حضرت ابو ذررضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ اے امیر المومنین میں اسے نہیں جانتا اور یہ میرا ٹل فیصلہ ہے چاہے اس نے قتل ہی کیوں نہ کیا ہو۔
حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر آپ اس کو جانے بغیر کس طرح ضمانت دے رہے ہیں ،تو حضرت ابو ذررضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ اے امیر المومنین رضی اللہ عنہ میں نے اس کے چہرے پر مومنوں والی صفات دیکھی ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ یہ شخص جھوٹ نہیں بول رہا اور انشاء اللہ یہ ضرور واپس آئے گا۔

حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابو ذررضی اللہ عنہ !دیکھ لو اگر یہ شخص تین دن میں واپس نہ آیاتو مجھے تمہاری جدائی کا صدمہ سہنا پڑے گا۔حضرت ابو ذررضی اللہ عنہ نے عرض کی اے امیر المومنین پھر اللہ مالک ہے اور میں اپنے فیصلہ پر قائم ہوں اور یوں حاکم وقت امیر المومنین حضرت عمررضی اللہ عنہ نے اس شخص کو تین دن کی مہلت لے کر رخصت کر دیا۔
تیسرے دن وقت عصر تمام شہر میں ان نوجوانوں نے منادی کرادی اور وہ اپنے والد کے قتل کا قصاص لینے کیلئے بے چین ہیں اور لوگ اللہ کی شریعت کی تنفیذ دیکھنے کیلئے جمع ہو جاتے ہیں ۔حضرت ابو ذررضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آتے ہیں اور حضر ت عمررضی اللہ عنہ کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں ۔حضرت عمررضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں کہ کہاں ہے وہ شخص تو حضرت ابو ذررضی اللہ عنہ مختصر سا جواب دیا کہ یا امیر المومنین رضی اللہ عنہ میں نہیں جانتا اور مجھے کچھ پتہ نہیں اور آسمان کی طرف دیکھتے ہیں جہاں سورج ڈوبنے کی جلدی میں آج معمول سے زیادہ تیزی کے ساتھ جاتا دکھائی دیتا ہے۔

محفل میں ہو کا عالم ہے اللہ کے سوا کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ آج کیا ہونے والا ہے۔مغرب سے چند لمحے پہلے وہ( قاتل)شخص آجاتا ہے ،حضرت عمررضی اللہ عنہ اس شخص سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں کہ اگر تم لوٹ کر نہ بھی آتے تو ہم نے تیرا کیا بگاڑلینا تھاتووہ شخص کہنے لگا کہ اے امیر المومنین رضی اللہ عنہ بات آپ کی نہیں ہے بات اس ذات کی ہے جو سب کے ظاہر وپوشیدہ کے بارے میں جانتا ہے اور دیکھ لیجئے میں اپنے بچوں کو تنہا صحرامیں اللہ کے آسرے پر چھوڑ کر قتل ہونے کیلئے آگیاہوں کیونکہ مجھے ڈرتھا کہ کہیں لوگ یہ نہ کہ دیں کہ اب لوگوں میں سے وعدہ کا ایفاء ہی اٹھ گیا ہے۔
حضرت عمررضی اللہ عنہ نے حضرت ابو ذررضی اللہ عنہ سے پوچھاکہ آپ نے کس بنیاد اور کیا سوچ کر اس کی ضمانت دی تھی؟ حضرت ابوذررضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے ڈر تھاکہ کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے خیر ہی اٹھالی گئی ہے۔
حضرت عمررضی اللہ عنہ نے ان نوجوانوں سے پوچھا کہو اب کیا کہتے ہو اب۔۔۔ان نوجوانوں نے روتے ہوئے عرض کی کہ اے امیر المومنین رضی اللہ عنہ ہم نے اسے اس کی صداقت کی وجہ سے معاف کردیا ہے اور ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں لوگ یہ نہ سمجھیں کہ اب لوگوں سے عفوودرگزر ہی اٹھالیا گیا ہے۔
حضرت عمررضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا تو پوری محفل سے بھی اللہ اکبر کے نعرہ لگنے لگے۔حضرت عمررضی اللہ عنہ نے روتے ہوئے فرمایاکہ اے نوجوانوں تمہاری عفوودرگزر پر اللہ تعالیٰ جزائے خیردے۔
کیا آجکل ہم لوگوں میں عفوودرگزر کرنے کی تھوڑی سے بھی روایت ہے اور ہم لوگ بھول گئے ہیں کہ عفوودرگزر کی کتنی بڑی فضیلت ہے ۔ہم لوگ تھوڑی سی غلطی پر ایسے لڑ پڑتے ہیں جیسے ہم لوگ انسان ہی نہ ہوں اور اسلام کا دیا ہوا درس بھول جاتے ہیں۔
ہم کسی اور سے کیا گلہ کریں گے آج کل سگے بہن بھائی آپس میں پیار محبت سے نہیں رہ سکتے اور لڑپڑتے ہیں بات بات پر اور سگے رشتے بھی عفوودرگزر کا خیال نہیں کرتے۔چھوٹی موٹی غلطیوں کو درگزر کرنا ہی بہتر ہوتاہے تاکہ معاشرے میں صلح جوئی کی بنیاد پڑے ۔اگر ہم اللہ پاک کی خاطرکسی کو معاف کردیں گے اور اس معاملے میں درگزر سے کام لیں گے تو اللہ پاک بھی ہمارے ساتھ رحم اور درگزر کا معاملہ فرمائے گا اور اس دنیا میں ہماری عزت پہلے سے زیادہ قائم کردے گا کیونکہ عزت دولت سب خدا کے ہاتھ میں ہے۔

Your Thoughts and Comments