Ghazwa Mota - Tareekh Islam Ki 19veen Jang

غزوہ موتہ تاریخ اسلام کی اُنیسویں جنگ

” موتہ“ ایک مقام کا نام ہے جو ” شام میں ”بلقا“ سے ایک طرف واقع ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف بادشاہوں کی طرف جو تبلیغی دعوت نامے ارسال فرمائے تھے

پیر جنوری

ghazwa mota - Tareekh Islam Ki 19veen Jang
مفتی محمد وقاص رفیع
” موتہ“ ایک مقام کا نام ہے جو ” شام میں ”بلقا“ سے ایک طرف واقع ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف بادشاہوں کی طرف جو تبلیغی دعوت نامے ارسال فرمائے تھے، اُن میں ایک خط حضرت حارث بن عمیر الازدی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ قیصرِ روم کی طرف بھی روانہ کیا تھا۔ عرب اور شام کے سرحدی علاقوں میں جوعرب رؤساء حکم ران تھے، اُن میں ایک شرحبیل بن عمروغسانی بھی تھا، جو اسی علاقہ بلقاء کا رئیس اور قیصرِ رُوم کے حکام میں سے ایک شخص تھا۔
یہ عربی خاندان ایک مدت سے عیسائی تھا۔ اور شام کے سرحدی مقامات پر حکم ران تھا۔ حضرت حارث بن عمر الازدی رضی اللہ عنہ یہ خط لے کر جب ” موتہ“ پہنچے تو شرحبیل بن عمروغسانی نے انہیں قتل کردیا۔

قاصدوں کا قتل کسی کے نزدیک بھی پسندیدہ نہیں تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بات بڑی گراں گزری ۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین ہزار کا ایک لشکر تجویز فرما کر اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ کو اُن پر امیر مقرر فرمایا۔

اور ارشاد فرمایا کہ اگر یہ شہید ہو جائیں تو حضرت جعفربن ابی طالب رضی اللہ عنہ امیر بنائے جائیں۔ وہ بھی شہید ہوجائیں تو حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ امیر بنائے جائیں۔ وہ بھی شہید ہوجائیں تو پھر مسلمان جس کو دل چاہے اپنا امیر بنالیں۔
یہ مہم اگرچہ قصاص لینے کی غرض سے بنائی گئی تھی، لیکن چو نکہ تمام مہمات کا اصلی محوردعوت وتبلیغ تھی، اس لئے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پہلے اُن لوگوں کو دین کی دعوت دی جائے، اگر وہ یہ دعوت قبول کرلیں تو اُن سے لڑائی کی کوئی ضرورت نہیں۔
اور اگر وہ دین کی دعوت سے انکار کردیں تو پھر اُن سے لڑائی کی جائے۔ (طبقات ابن سعد )
اس کے بعد حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سفید رنگ کا جھنڈا بنا کر حضرت زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا۔ اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوج کی مشایعت کے لئے ” ثنیتہ الوداع“ تک تشریف لے گئے اور فوج کو مدینہ منورہ سے جہاد کے لئے روانہ فرمایا۔
ابھی یہ فوج مدینہ سے روانہ ہوئی ہی تھی کہ اُدھر شرحبیل غسانی کوجاسوسوں نے خبر کردی اور وہ ایک لاکھ فوج تیار کرکے مقابلہ کے کھڑا ہوگیا۔ جب یہ حضرات تھوڑا آگے جاچکے تو انہیں کسی طرح سے اس بات کا علم ہوا کہ خود ” ہرقل “ (یعنی قیصرِ رُوم) عرب قبائل کی ایک لاکھ فوج لے کر ” بلقاء “ کے ضلع ” تاب “ میں مقابلہ کے لئے خیمہ زن ہوچکا ہے۔
ان حضرات نے جب یہ حالات سنے تو انہیں تردّدہوا کہ اتنی بڑی فوج کا مقابلہ کیاجائے یا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو یہاں کے حالات سے آگاہ کیا جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کا انتظار کیا جائے؟ لیکن حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے للکار کر فرمایا کہ ہمارا مقصود فتح وکامرانی نہیں بلکہ ہمارا اصل مطلوب شہادت ہے۔ (سیرت ابن ہشام )
علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے خوب کہا ہے:
شہادت ہے مقصود مطلوب مومن
نہ ” مال غنیمت “ نہ ” کشورکشائی “
لہٰذا آگے کی جانب بڑھیے ! دو کامیابیوں میں سے ایک تو ضرور ملے گی، یا شہادت یا غلبہ۔
یہ سن کر مسلمانوں نے ہمت باندھی اور آگے کی جانب بڑھے۔ یہاں تک کہ ” موتہ “ پہنچ کر لڑائی شروع ہوگئی۔ حضرت زید بن حارث رضی اللہ عنہ نے جھنڈا اپنے ہاتھ میں لیا اور میدان میں کودپڑے۔ گھمسان کا رن پڑا، لڑائی کے شعلے بھڑکنے لگے، جس سے شرحبیل غسانی کا ایک بھائی قتل ہوگیااور اُس کے ساتھی بھاگ گئے۔ خود شرحبیل غسانی بھاگ کر ایک قلعہ میں چھپ گیا۔
اور ”ہرقل“ (یعنی قیصرِ رُوم ‘)کے پاس مدد کے لئے آدمی بھیجا۔ اُس نے تقریباً دو لاکھ فوج بھیجی تو لڑائی کی آگ شعلے بھڑکانے لگی اور حضرت زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے۔ (حکایاتِ صحابہ رضی اللہ عنہ)
حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت جعفربن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے پہلے جھنڈا اپنے دائیں ہاتھ میں تھام لیا، کافروں نے دایاں ہاتھ کاٹ دیا تاکہ جھنڈا گر جائے، لیکن اُنہوں نے فوراًاپنے بائیں ہاتھ میں لے لیا، انہوں نے وہ کاٹ دیا تو اُنہوں نے دونوں بازوؤں سے اُس کو تھامااور منہ سے مضبوط پکڑلیا، تو ایک ایک شخص نے پیچھے سے اُن کے دو ٹکڑے کردئیے جس سے وہ گر پڑے اور شہید ہوگئے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے بعد میں نعشوں میں سے حضرت جعفربن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو جب اُٹھایا تو اُن کے بدن کے اگلے حصے میں نوے زخم تھے۔ اُس وقت اُن کی عمر تینتیس برس تھی۔ (حکایات صحابہ رضی اللہ عنہ )
حضرت جعفربن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شہادت کی بعد مسلمانوں نے حضرت عبداللہ بن ابی رواحہ رضی اللہ عنہ کو آزادی،وہ لشکر کے ایک کو نہ میں گوشت کا ایک ٹکڑا نوش فرمارہے تھے کہ تین دن سے کچھ چکھنے کو بھی نہ ملاتھا۔
وہ آواز سنتے ہی گوشت کے ٹکڑے کو پھینک کر آگے بڑھے اور تلوارلے کر قتل شروع کیااور شہید ہونے تک لڑتے رہے۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مسلمانوں کی فوج کے امیراور سپہ سالار مقرر ہوئے ، اُنہوں نے بھی تلوار ہاتھ میں لی اور اتنی بے جگری سے لڑے کہ آٹھ تلواریں اُن کے ہاتھ سے ٹوٹ ٹوٹ کرگریں۔ اس لڑائی میں عیسائی فوج کے لوگ مسلمانوں سے سخت مرعوب ہوئے، اُن کے پاؤں میدان جنگ سے اُکھڑ گئے۔ اور مسلمانوں کی ایک چھوٹی سے جماعت کو اللہ تعالیٰ نے کافروں کے ایک جم غفیر کے مقابلے میں فتح وکامیابی سے ہم کنار فرمایا کر سرخ رُو کردیا۔ (سیرة النبی صلی اللہ علیہ وسلم )

Your Thoughts and Comments