Hazrat Abdullah Bin Zubair RA

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن العوام بن خویلد،قریشی النسل ہیں، آپ کی والدہ اسماء بنت ابی بکرالصدیق تھیں اور آپ کے باپ زبیر بن العوام تھے جو عشرہ مبشرہ میں سے تھے۔

جمعرات ستمبر

Hazrat Abdullah Bin Zubair RA

محمد طاہر الکردی
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن العوام بن خویلد،قریشی النسل ہیں، آپ کی والدہ اسماء بنت ابی بکرالصدیق تھیں اور آپ کے باپ زبیر بن العوام تھے جو عشرہ مبشرہ میں سے تھے۔
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہجرت کے سال پیدا ہوئے ،آپ مدینہ میں سب سے پہلے مسلمان بچے ہیں، جب آپ پیدا ہوئے تو صحابہ نے نعرہ تکبیر بلند کیا۔

آپ کی والدہ حضرت اسماء سے روایت ہے کہ مکہ میں ایسی حالت میں نکلیں کہ پورے دنوں تھیں۔جب مدینہ کی طرف آئیں تو قبا میں اتریں اور وہیں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے۔حضرت اسماء کہتی ہیں کہ ”میں آپ کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ صلعم کی خدمت میں لائی اور آپ کی گود میں رکھ دیا۔

آپ نے کھجور منگائی اور چبا کر آپ کے منہ میں تھتکار دیا لہٰذا آپ کے پیٹ میں سب سے پہلی چیز جو داخل ہوئی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب دہن تھا۔

پھر آپ نے کھجور کے ساتھ آپ کی تحنیک کی(تالو میں ذراسی کھجورلگادی)پھر آپ کے لئے دعاکی پھر آپ کے جسم پر ہاتھ پھیرا اور عبداللہ نام رکھا“۔
جب آ پ سات یا آٹھ سال کے ہوئے تو آپ کے پدر بزر گوار یعنی حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو حکم دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کریں جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے تو آپ انہیں دیکھ کر مسکرائے اور بیعت کر لیا۔

حضرت ابن عباس نے ان الفاظ میں آپ کی توصیف کی ہے
”وہ مصنف الاسلام ،قاری قرآن ،رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ صلعم کے حواری کے بیٹے،حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نواسے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی حضرت صفیہ کے پوتے ہیں،حضرت خدیجہ بنت خویلد آپ کے باپ کی پھوپھی تھیں۔
حضرت عمروبن دینار سے روایت ہے:
”میں نے ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے زیادہ اچھا نمازی کوئی نہیں دیکھا۔
’“مجاہد فرماتے ہیں ”عبادت کی کوئی بھی ایسی راہ نہیں جس پر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہ چلے ہوں ،ایک دفعہ خانہ کعبہ میں سیلاب کا پانی جمع ہو گیا تھا تو میں نے دیکھا کہ عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تیر کر طواف کر رہے ہیں“۔
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب کہ وہ ابھی چھوٹے سے تھے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ حدیثیں روایت کی ہیں،اپنے باپ،حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت سفیان بن زہیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی حدیثیں روایت کی ہیں۔

اسلام میں جو چار عبداللہ مشہور ہیں آپ ان میں سے ایک ہیں اور مشہور وبہادر صحابی ہیں،آپ کی کنیت ابو خبیب تھی،خبیب آپ کے بیٹے کا نام تھا۔
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ کے ساتھ جنگ یر موک میں شریک تھے،افریقہ کی جنگ میں بھی شریک ہوئے ،حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں فتح افریقہ کی خوشخبری آپ ہی لائے تھے،یوم الدارمیں بھی آپ شریک تھے،حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے فتنے میں آپ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جانب سے مدافعت کررہے تھے،جنگ جمل میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے۔
پھر آپ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ومعاویہ کی جنگ سے علیحدہ رہے ،بعدازاں حضرت معاویہ کے ہاتھ پر بیعت کی مگر جب حضرت معاویہ نے یہ چاہا کہ آپ یزید کے ہاتھ پر بیعت کریں تو آپ اس کی بیعت سے باز رہے،مکہ شریف چلے آئے اور حرم میں پناہ گزین ہوگئے۔یزید نے سلیمان کو آپ کی خدمت میں بھیجا کہ بیعت کرلیں مگر آپ نے انکار کر دیا اور آپ کے لئے عائذ اللہ (خدا کا پناہ گیر)کا لقب اختیار کیا۔

جب جنگ حرہ ہوئی اور شامیوں نے اہل مدینہ کا قتل عام کر دیا تو پھر شامی مکہ کی طرف متوجہ ہوئے اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے لڑے ،اس محاصرے کے دوران میں خانہ کعبہ کو آگ لگ گئی تھی۔
محاصرہ کے دوران انہیں معلوم ہواکہ یزید کا انتقال ہوگیاہے تو انہوں نے محاصرہ اٹھالیا اور وہ مکہ سے واپس ہو گئے،اور اہل مکہ نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔

جب مروان مر گیا اور عبدالملک بن مروان اس کی جگہ خلفیہ ہوا تو عبدالملک نے حجاج بن یوسف ثقفی کو آپ کے ساتھ لڑنے کے لئے بھیجا،حجاج نے آپ سے جنگ کی اور شکست دی،جمادی الاول 37ھ میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید کر دئیے گئے۔
یہاں تک ہم نے جو کچھ لکھا ہے وہ الاصابہ فی تمیز الصحابہ سے منقول ہے۔
امام ابن کثیر نے اپنی تاریخ کی آٹھویں جلد میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق ایک طویل بیان دیا ہے،ابن کثیر لکھتاہے۔

ثابت بنانی سے مروی ہے کہ ”میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مقام ابراہیم علیہ السلام کے پاس نماز پڑھتے دیکھا،آپ اس طرح کھڑے تھے جیسے کسی نے لکڑی گاڑدی ہو“۔
یحییٰ بن وثاب نے بیان کیا،کہ”ابن زبیررضی اللہ تعالیٰ عنہ جب سجدہ کرتے تو چڑیاں آپ کی پشت پر بیٹھ جاتیں اور خوب دوڑتی پھر تیں وہ یہ خیال کرتی تھیں کہ یہ بھی دیوار کا ایک حصہ ہے“۔

بعض لوگوں نے بیان کیا ہے کہ”ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رات بھر کھڑے رہتے حتیٰ کہ صبح ہو جاتی اور کبھی تمام رات رکوع ہی میں گزار دیتے اور کبھی ساری رات سجدہ ہی میں پڑے رہتے۔“
ابن منکدر سے روایت ہے۔
”میں نے ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جیسے کوئی شاخ ہو اسے جھوم رہی ہو۔درآں حالیکہ گوپھن کے پتھر آپ کے آس پاس آ آکر گر رہے تھے۔
”سفیان نے کہا ہے کہ مراد اس قول سے یہ ہے کہ آپ گو پھن کے پتھروں کی پروانہ کرتے تھے۔
بعض لوگوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عبدالعزیز سے روایت کی ہے کہ ”گو پھن کا ایک پتھر،مسجد حرام کے کنگرے پر لگا اور اس کا ایک کونہ گر گیا،یہ پتھرحضرت عبداللہ بن زبیر کے حلق کے پاس سے ہو کر گیا تھا،مگر آپ نے کچھ بھی پروانہ کی اور نہ آپ کے چہرہ پر کسی قسم کا کوئی تاثر ظاہر ہوا۔
“حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عبدالعزیز نے یہ بات سنی تو کہا ”لا الہ الا اللہ وہ ایسے ہی تھے جیسے تو نے بیان کیا“۔
جب ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز پڑھتے تو دنیاکی ہر چیز سے فارغ البال ہو کر پڑھتے۔رکوع کرتے تو پرندے آپ کی پشت پر اترتے اور سجدہ کرتے تو ایسامعلوم ہوتاجیسے کوئی کپڑا پڑاہے۔
روایت ہے کہ ایک دن آپ نماز پڑھ رہے تھے ایک سانپ چھت سے گرا اور آپ کے بیٹے ابن ہاشم کے پیٹ سے لپٹ گیا ،عورتیں چلائیں،گھر والے گھبراگئے اور سب سانپ مارنے پر لگ گئے،سب نے مل کر سانپ کو مارڈالاا اور بچہ صحیح سلامت بچ گیا،یہ سب کچھ ہوتارہا اور آپ ذرا بھی متوجہ نہ ہوئے۔
نماز ہی پڑھتے رہے آپ کو پتا تک نہ چلا کہ کیا ہوا۔
ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ متواتر سات دن روزہ رکھا کرتے۔جمعہ کے دن روزہ رکھتے اور دوسرے جمعہ کی شب میں افطار کرتے،مدینہ میں روزہ رکھتے اور مکہ میں افطار کرتے اور مکہ میں روزہ رکھتے اور مدینہ میں افطار کرتے۔
ایک شخص نے بیان کیا ہے کہ”آپ پورے رمضان کے مہینہ میں صرف پندرھویں رمضان کو کچھ کھالیا کرتے تھے“۔

خالد بن ابی عمران سے روایت ہے کہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مہینے میں صرف تین دن افطار کرتے تھے ،بعض لوگوں نے کہا ہے کہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تین چیزوں میں کوئی ہمسرنہ تھایعنی عبادت ،شجاعت اور فصاحت میں۔
لیث نے مجاہد سے روایت کی ہے”کہ ”ابن زبیررضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسی سخت عبادتیں کرتے اس طرح کوئی بھی مشقت برداشت نہیں کر سکتا“۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو ان لوگوں میں شامل کیا تھا جو کلام پاک لکھا کرتے تھے۔آپ بڑے بلند آواز تھے،جب خطبہ دیتے تو ابوقبیس اور زوراء پہاڑ گونج جاتے۔
آپ کی خلافت 46ھ میں قائم ہوئی ،پوری مدت خلافت برابر حج کرتے رہے،آپ نے دوران خلافت میں کعبہ کی تعمیر کرائی اور حریر کا غلاف چڑھوایا۔اس سے پیشتر خانہ کعبہ پر ٹاٹ اور چمڑا چڑھا رہتا تھا،آپ خانہ کعبہ کو خوشبو لگوایا کرتے تھے۔
یہ خوشبو دور سے لوگوں کومحسوس ہوتی تھی،آپ کی شہادت منگل کے دن 17جمادی الاول37ھ میں ہوئی صحیح قول یہی ہے۔آپ کی والدہ آپ کی شہادت کے سو دن بعد تک زندہ رہیں ،اس وقت آپ کی والدہ کی عمر سو سال ہو چکی تھی اور ان کا ایک بھی دانت خراب نہیں ہوا تھا اور نہ بصارت کمزور ہوئی تھی ،رضوان اللہ علیہم اجمعین ،یہ بیان تاریخ ابن کثیر سے ملخصاً لیا ہے۔

Your Thoughts and Comments