Hazrat Imam Jaffar Sadiq Razi Allah Talah Anhu

حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ

علم وحکمت کے بحر بیکراں ،سر چشمہ دین ودانش

جمعہ جون

Hazrat Imam Jaffar Sadiq Razi allah talah anhu
آغا سید حامد علی شاہ موسوی
امام جعفر صادق کا نام آتے ہی قلوب واذہان میں علم و حکمت کی روشنیاں جگمگانے لگتی ہیں،ہر صاحب ایمان کا سر فخر سے بلند ہونے لگتا ہے کہ آج دنیا جس سائنس ٹیکنالوجی کی بنیاد پر خلاؤں کو تسخیرکررہی ہے اس کی بنیاد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند حضرت امام جعفر صادق نے علوم مصطفویٰ صلی اللہ علیہ وسلم ومرتضوی کو دنیا کے سامنے آشکار کرکے رکھی اور ایک ایسا علمی وفکری انقلاب برپاکیا جس کی کرنوں نے اسلامی ممالک کو پوری دنیا میں روشن رخشاں کردیا وہاں یورپ کی تاریکی وپسماندگی دور کرنے کا سامان کردیا۔

امام جعفر صادق نے 17ربیع الاول80ہجری میں مدینہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں صفحہ ارضی پر قدم رکھا۔

آپ کے والد امام محمد با قر اور دادا عبادت گزاروں کی زینت امام زین العابدین تھے۔آپ کی والدہ بزرگوارفاطمہ (کنیت ام فروہ)بنت قاسم بنت محمد بن حضرت ابوبکر تھیں۔جو اپنے زمانے کی خواتین میں بلند مقام رکھتی تھیں۔امام جعفر صادق کے نانا قاسم بن محمد ابن ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ کے سات عظیم فقہا میں شامل تھے ۔

امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنیت ابو عبداللہ‘ابو اسماعیل ‘
ابوموسیٰ اور القاب صادق ‘فاضل‘طاہر‘منجی زیادہ مشہور ہیں۔
امام جعفر صادق نے اسلامی تعلیمات کی ترویج کے لئے بے پناہ کوششیں انجام دیں اور مدینے میں مسجد نبوی اور کوفہ شہر میں مسجد کوفہ کو جامعات میں تبدیل کردیا جہاں انہوں نے ہزاروں شاگردوں کی تربیت کی اور ایک عظیم علمی وفکری تحریک کی بنیادڈالی اس تحریک کو خوب پھلنے پھولنے کے مواقع ملے۔
ان جامعات کے مختلف مدارس میں لا تعداد افراد علوم فنون اسلامی کے گونا گوں شعبہ جات میں مصروف درس وتدریس تھے ۔صرف کوفہ کی مساجد میں امام جعفر صادق کے حوزو علمیہ سے منسلک ہزار ہاطلاب فقہ اور معروف علوم اسلامی میں مصروف تھے جو امام کے بیانات ‘فرمودات یاد کرتے اور ان کے بارے میں تحقیق اور بحث وتمحیص فرماتے۔
تشنگان علم وحکمت دور دروازے سے آتے اور امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فیضیاب ہوا کرتے تھے۔
مورخین آپ سے روایت کرتے اور دانشور کتابی صورت میں آپ کے فرمودات جمع کرتے تھے حتیٰ کہ حفاظ اورمحدثین جب کچھ بیان کرتے تو حوالہ دیتے کہ امام جعفر صادق نے یہ ارشاد فرمایا ہے ۔
مورخین اس بات پر متفق ہیں امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ نے کسی مدرسہ میں تعلیم حاصل نہیں کی اور نہ کسی اُستاد کے سامنے زانوئے اَدب تہہ کیا۔آپ کا علم نسل در نسل آپ کے سینے میں منتقل ہوا جس سے ثابت ہو ا کہ امام صادق نے جس علم کی روشنی بکھیری وہ دراصل علم مصطفوی ومرتضوی ہے۔

چار ہزار سے زائد گردوں نے بیک وقت اور ایک ہی دور میں آپ کی بار گاہ سے کسب علوم اور نقل روایت کا شرف حاصل کیا۔جن علوم کی تعلیم آپ کی درسگاہ سے دی جاتی ان میں فقہ کے علاوہ ریاضی فلکیات فزکس کیمسٹری سمیت تمام جدید علوم شامل تھے۔آپ کی درسگاہ کے فیض سے جہاں قدیم علوم کا احیاء ہوا وہاں جدید علوم کی بھی بنیاد رکھی گئی۔مسلمانوں میں نابغہ روزگار ہستیاں پیدا ہوئیں۔
احادیث ومعروف دین و شریعت میں امام جعفر صادق کے وضع کردہ چار سواصول ہی کتب اربع کا منبع ومدرک ہیں۔امام جعفر صادق کے گراں قدر‘بیانات‘فرمودات ‘ارشادات نے جہالت اور گمراہی وضلالت کے پردوں کو چاک کر دیا۔آپ نے پیغمبر اسلام کے الہامی وآفاقی دستور حیات کو لوگوں کے سامنے اس طرح پیش فرمایا کہ لوگ پھر سے دین وشریعت سے روشناس ہونا شروع ہو گئے۔

آپ کے ممتاز شاگردوں میں ہشام بن حکم ،محمد بن مسلم،ابان بن تفلب ،ہشام بن سالم،مفصل بن عمر اور جابر بن حیان کا نام خاص طور سے لیا جا سکتا ہے ۔ان میں سے ہر ایک نے بڑا نام پیدا کیا مثال کے طور پر ہشام بن حکم نے اکتیس کتابیں اور جابربن حیان نے دوسو سے زائد کتابیں مختلف علوم وفنون میں تحریر کی ہیں۔ جابربن حیان کوعلم کیمیا میں بڑی شہرت حاصل ہوئی اور وہ بابائے علم کیمیا کے نام سے مشہور ہیں۔
الجبراکے بانی ابوموسی الخوارزمی نے بھی بالواسطہ امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعلیمات سے فیض حاصل کیا۔اہل سنت کے چاروں مکاتب فکر کے امام بلاواسطہ یا بالواسطہ امام جعفر صادق کے شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں خاص طور پر امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تقریباً دو سال تک براہ راست آپ سے کسب فیض کیا۔آپ کے علمی مقام کا اعتراف کرتے ہوئے امام ابوحنیفہ نے کہا ہے،میں نے جعفر ابن محمد سے زیادہ عالم کوئی اور شخص نہیں دیکھا۔

ایک اور مقام پر امام ابوحنیفہ نے امام جعفر صادق کی خدمت میں گزارے ہوئے دو سالوں کے بارے میں کہا:اگر یہ دوسال نہ ہوتے تو نعمان ہلاک ہوجاتا مالک بن انس حضرت امام جعفر صادق کی علمی اور اخلاقی عظمت کے بارے میں کہتے ہیں کہ میں ایک مدت تک جعفر ابن محمد کی خدمت میں زانوئے ادب تہہ کیا کرتا تھا آپ مزاح بھی فرمایا کرتے تھے ہمیشہ آپ کے لبوں پر تبسم رہتا تھا۔
جب آپ کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کانام مبارک لیا جاتا تو آپ کے چہرے کا رنگ سبز اور زرد ہو جاتا تھا ۔میں نے نہیں دیکھا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی ہو اور وضو سے نہ ہوں۔میں جب تک ان کے پاس آیا جایا کرتا تھا میں نے نہیں دیکھا کہ وہ ان تین حالتوں سے خارج ہوں یا وہ نماز پڑھتے رہتے تھے ،یا قرآن کی تلاوت کررہے ہوتے تھے یا پھر روزہ سے ہوتے تھے۔

مالک بن انس حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام عظمت کے بارے میں ان خیالات نے سمندر کو کوزے میں بند کر دیا کہ ”کسی آنکھ نے نہیں دیکھا،کسی کان نے نہیں سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں خیال آیا کہ کوئی جعفر ابن محمد سے بھی افضل ہو سکتا ہے۔“
ابن خلکان لکھتے ہیں کہ امام صادق علیہ السلام کیمیا میں ید طولی رکھتے تھے ،ابو موسیٰ جابر بن حیان طرطوسی ان کے شاگردوں میں سے ہیں۔
جابر نے ایک ہزار ورق پر مشتمل ایک کتاب لکھی ہے جس میں جعفر ابن محمد کی تعلیمات تھیں۔
صاحب سیر النبلاء حضرات امام جعفر صادق کے بارے میں لکھتے ہیں کہ جعفر ابن محمد بن علی ابن الحسین ریحانہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ان کے سامنے بہت سے لوگوں نے زانوے ادب تہہ کیا ہے اور ان سے علمی فیض حاصل کیا ہے ۔ان میں ان کے بیٹے موسی کا ظم علیہ السلام ،یحی بن سعید انصاری ،یزیدبن عبداللہ ،ابوحنیفہ ،ابان بن تغلب،ابن جریح،معاویہ بن عمار ،ابن اسحاق ،سفیان،شبعہ،مالک ،اسماعیل بن جعفر ،دھب بن خالد،حاتم بن اسماعیل، ،سلیمان بن بلال،سفیان بن عینیہ،حسن بن صالح،حسن بن عیاش،زھیر بن محمد ،جفص بن غیاث،زید بن حسن،انماطی،سعید بن سفیان اسلمیٰ،عبداللہ بن میمون،عبدالعزیز بن عمران زھری،عبدالعزیز در آوری،عبدالوہاب ثقفی،عثمان بن فرقد،محمد بن ثابت بنانی،محمد بن میمون زعفرانی،مسلم زنجی ،یحی قطان،ابوعاصم نبیل سمیت ہزاروں شامل ہیں۔

شہاب الدین ابو العباس احمد بن بد ر الدین شافعی معروف بہ ابن حجر ہیتمی امام صادق کے بارے میں لکھتے ہیں کہ لوگوں نے آپ سے بہت سے علوم سیکھے ہیں اس یہ علوم مدینہ آنے والے زائرین وحجاج کے ذریعے ساری دنیا میں پھیل گئے اور ساری دنیا میں جعفر ابن محمد کے علم کا ڈنکا بجنے لگا۔
اہل سنت کے بزرگ علماء میں سے ایک میر علی ہندی حضرت امام جعفر صادق کی علمی اور اخلاقی عظمت کے بارے میں کہتے ہیں اس زمانے میں علم کی ترقی نے سب کو کشتہ بحث وجستجو بنادیا تھا اور فلسفیانہ گفتگو ہر جگہ رائج ہو چکی تھی۔
قابل ذکر ہے کہ اس فکر ی تحریک کی رہبری اس مرکز علمی کے ہاتھ میں تھی جو مدینہ میں پھل پھول رہا تھا اور اس مرکز کا سر براہ علی ابن ابی طالب کا پوتا تھا جس کا نام جعفر صادق تھا۔وہ ایک بڑے مفکر اور سرگرم محقق تھے اور اس زمانے کے علوم پر عبور رکھتے تھے وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اسلام میں فلسفے کے مدارس قائم کئے۔ان کے درس میں صرف وہ لوگ شرکت نہیں کرتے تھے جو بعد میں فقہی مکاتب کے امام کہلائے بلکہ فلاسفہ ،فلسفہ کے طلبہ بھی دور دراز سے آکر ان کے درس میں شرکت کرتے تھے۔

سٹراسبرگ میں 25مغربی محققین نے امام جعفر صادق کی علمی وسائنسی خدمات پر ایک مقالہ مرتب کیا جو سپر میں ان اسلام ‘کے عنوان کے تحت شائع ہوا ہے اس مقالہ میں ان دریافتوں کا احاطہ کیا گیا ہے جن کی بنیاد امام جعفر صادق کے دروس سے آشکار ہوئی۔
امام جعفر صادق کی شہادت 25شوال اور بعض روایات میں 15سوال 148ہجری کو منصور عباس خلیفہ کے دور میں واقعہ ہوئی جو ظلم و بربریت کا دور تھا۔
جہاں کلمہ حق کہنا مشکل تھا جسے فتنوں کا دور کہا جائے تو بے جانہ ہو گا۔آپ علیہ السلام نے جام شہادت نوش کرنا قبول کر لیا مگر باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا۔آپ کی قبراطہر جنت البقیع میں اپنی جدہ خاتون جنت حضرت سیدہ فاطمہ الزھرا اور اپنے اجداد امام حسن علیہ السلام‘امام زین العابدین علیہ السلام اور امام باقر کے پہلو میں واقع ہے۔

Your Thoughts and Comments