Hazrat Umar Farooq RA

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

22لاکھ مربع میل پر پھیلی مملکت خداداد کا انتظام وانصرام مراد رسول ہاشمی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں میں تھا

جمعہ اکتوبر

Hazrat Umar Farooq RA
ڈاکٹر شاہ نوازتارڑ
زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم(خیرالقرون قرنی)کے سلسلہ ذھبیہ کی دوسر ی کڑی تھی،صفہ کی درسگاہ کے فارغ التحصیل ،نبوی صلی اللہ علیہ وسلم تربیت گاہ کے تربیت یا فتگان ،عقیدہ،ایمان،عمل اورا مانت ودیانتداری میں قدوسیوں کے لیے قابل رشک ٹھہرنے والوں،بدر،احد،حنین وخیبر اور غزوہ تبوک کے غازیوں ،مجاہدوں ،بیعت رضوان کے جا نثاروں کی کثیر تعداد اعلائے کلمة اللہ کے لیے اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھارہی تھی،ریاست مدینہ کی سرحدیں ایران،مصر ،فلسطین تک توسیع پا چکی تھیں،22لاکھ مربع میل پر پھیلی مملکت خداداد کا انتظام وانصرام مراد رسول ہاشمی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں میں تھا جو تقاضا کرتا تھا کہ مملکت خداداد میں عدل وانصاف اور احتساب کا نظام اتنا سخت ہو کہ بیت المال سمیت کسی ادارے محکمے یا شعبے کے سربراہ کو اختیارات سے تجاوز کی جرأت ہو نہ کسی صوبے کا سربراہ اپنی ذمہ داریوں سے صرف نظر کر سکے نہ ہی اس کا طرز زندگی ایسا ہو جو اس کورعایا کی نگہبانی سے بے خبر کردے ،گورنروں کی نامزدگی کرتے وقت حلف لیتے کہ وہ ترکی گھوڑے پر سوار نہیں ہونگے، باریک کپڑے نہیں پہنیں گے،چھناہوا آٹا نہیں کھائیں گے،گھر اور دفتر پر دربان نہیں رکھیں گے(حلف میں دور حاضر کے سارے پروٹوکول سے مکمل اعلان برأت ہوتا تھا)اور وہ(حضرت عمر رضی اللہ عنہ)اس حلف کی پاسداری کرانا بھی خوب جانتے تھے اور اس میں کسی قرابت داری کی پرواہ بھی نہیں کرتے تھے چنانچہ اس کے لیے سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے احتساب کا ایک مضبوط نظام وضع کیا اور انصار کے قبیلہ اوس کے ایک ممتاز فرد حضرت محمد بن مسلمہ کو نگران مقرر کیا۔


سیدنا عمررضی اللہ عنہ کو جب کسی گورنر کے بارے میں شکایت پہنچتی تو تحقیق اور تفتیش کے لیے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو ہی بھیجتے،چنانچہ فاتح وگورنرمصر حضرت عمروبن عاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں دربار خلافت تک خبر پہنچی کہ آپ نے بہت سی دولت اکٹھی کر لی ہے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ مصر پہنچے اور مقصد آمد سے آگاہ کیا توگورنر مصر عمروبن عاص رضی اللہ عنہ کہنے لگے ”زمانے کا براہو،ہم عمر رضی اللہ عنہ کے نوکر بن گئے ،میں نے خطاب اور اس کے بیٹے کو بطحا کی گھاٹیوں میں اونٹ چراتے دیکھا ہے،وہ دونوں صرف ایک ایک کرتہ پہنے ہوتے تھے اور عمروبن عاص رضی اللہ عنہ کا باپ(عاص بن وائل)نہایت قیمتی لباس پہنتا تھا“۔
محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے گورنر کی بات کاٹتے ہوئے کہا کہ ”تمھارااور عمررضی اللہ عنہ کا باپ دونوں جہنمی ہیں اور اگر عمر رضی اللہ عنہ تمھیں گورنر نہ بناتے تو تم بھی مکہ کی کسی گھاٹی میں بکریوں کا دودھ دوھ رہے ہوتے“۔
پھر مال ومتاع کا جائزہ لیا ،تحقیق کی اور خلیفہ کے حکم کے مطابق آدھا مال بیت المال میں جمع کرانے کے احکامات جاری کیے ،اسی طرح مورخین نے ایک اور واقعہ بھی تاریخ کے اوراق کی زینت بنایا ہے کہ مصر کے ایک گورنر عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ کے بارے میں حلف کی پاسداری نہ کرنے ،باریک کپڑے پہننے ،دربان رکھنے کی شکایات ملیں اور محتسب خلافت عمررضی اللہ عنہ(حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ) تحقیق کے لیے پہنچے تو واقعی شکایات درست پائیں،حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے خلیفہ کے ہاں پیشی کا کہا،حضرت عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ نے گھر جانے کی خواہش کی تو محتسب نے انکار کر دیا اور اسی (باریک)لباس میں خلیفہ کے سامنے لے جا کھڑا کیا پھر خلیفہ نے ایک ادنی چغہ،ایک لاٹھی اور بیت المال کی تین سو بکریاں لانے کا حکم دیا۔
فرمایا”چغہ پہنو،لاٹھی لو اور جنگل میں بکریاں چراؤ۔
کسی سائل کو ان کے دودھ سے نہ روکنا اور یہ بھی جان لو کہ عمررضی اللہ عنہ اور اس کے گھر والوں نے زکوٰة کی بکریوں سے کوئی فائدہ اٹھایا نہ دودھ پیا اور نہ ہی گوشت کھایا“۔عیاض رضی اللہ عنہ حواس باختہ ہو کر زمین پر گر پڑے۔”اس سے تو مرجانا بہتر ہے‘بے شک میری گردن اڑادیں“۔
مگر عمررضی اللہ عنہ کا فیصلہ اٹل تھا اور وہ اپنی سزانافذ کرکے رہے۔چند روز بعد عیاض رضی اللہ عنہ کو طلب کیا اور کہا کہ”اگر میں تمہیں اپنے منصب پر بحال کردوں تو اب تمہارا طرز عمل کیسا رہے گا؟تو عیاض رضی اللہ عنہ نے جواب دیا”امیر المومنین رضی اللہ عنہ جیسا آپ چاہیں گے؟“حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عیاض رضی اللہ عنہ کو مصر کی گورنری پر بحال کر دیا۔
عمررضی اللہ عنہ کے احتساب نے ان کے سارے کس بل نکال دئیے تھے۔
احتساب کے فاروقی رضی اللہ عنہ نظام کا سامنا ایک بار فاتح ایران،گورنر کو فہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ(جو آقا علیہ السلام کے ننھیالی قرابت دار تھے)کو بھی کرنا پڑا تھا،حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے متعلق خبر ملی کہ انہوں نے اپنی رہائشگاہ پر ڈیوڑھی بنالی اور دربان رکھا ہے۔
محتسب ریاست مدینہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو حکم ہوا کہ جاؤ اور اس ڈیوڑھی کو آگ لگا دو ‘کوفہ پہنچتے ہی حکم کی تعمیل کی۔حضرت سعد رضی اللہ عنہ اندر تھے‘شعلے بلند ہوتے دیکھ کر دوسرے دروازے سے نکلے تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو کھڑے پایا۔سمجھ گئے ،امیر المومنین رضی اللہ عنہ تک شکایت پہنچ گئی ہے اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ امیر المومنین رضی اللہ عنہ کے حکم پر ہی آئے ہیں۔
نا چار سعد رضی اللہ عنہ ڈیوڑھی کو جلتا دیکھتے رہے۔
اسی طرح دور فاروقی رضی اللہ عنہ میں بیت المال کی حفاظت کا بھی زبردست انتظام تھا،ایک بار خازن بیت المال نے حساب کتاب سے بچا ہوا ایک درہم آپ رضی اللہ عنہ کے بیٹے کو دیدیا تو آپ رضی اللہ عنہ سخت برہم ہوئے کہ ”کیا پورے مدینے میں آل عمررضی اللہ عنہ کے سوا آپ کو کوئی مستحق نظر نہیں آیا“ تاریخ کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ”کیا پورے مدینہ میں آپ رضی اللہ عنہ کو کوئی ایسا نہیں ملا جو اس حرام مال کو کھا سکے“ایک مرتبہ ایک موٹا تازہ اونٹ دیکھا تو استفسار پر پتہ چلا کہ یہ آپ رضی اللہ عنہ کے بیٹے کا ہے اور سرکاری چراگاہ میں چرتے چرتے موٹا تازہ ہو گیا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے اونٹ بیچ کر جتنے میں خریدا گیا تھا وہ رقم اپنے بیٹے کو دیدی اور منافع بیت المال میں جمع کرادیا،اسی طرح آپ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ محترمہ سیدہ طیبہ طاہرہ حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہ(بنت حضرت علی رضی اللہ عنہ)نے کسی سر براہ مملکت کی اہلیہ کو تحائف بھیجے تو اس نے بھی شایان شان تحائف بھجوائے تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ محترمہ بنت شیر خدا سے فرمایا ٹھیک ہے تحائف آپ رضی اللہ عنہ کے ذاتی تھے لیکن سرکاری ملازم لے کر گیا تھا جس پر آپ رضی اللہ عنہ نے وہ بیت المال میں جمع کر ادئیے۔

احتساب کا یہی نظام جس کو نافذ کرکے اسلام مخالفین ترقی کے زینے چڑھتے جارہے ہیں،فلاحی ریاست کے یہی زریں اصول تھے جن کو اپنا کر دنیا نے ترقی ورعایا کی خوشحالی کاراز پایا،عمررضی اللہ عنہ کا عدل وانصاف اور نظام احتساب دنیا میں ضرب المثل بن گیا،بیگانوں نے فائدہ اٹھایا اور اپنے محروم رہ گئے۔ آج ضرورت ہے کہ دور فاروقی رضی اللہ عنہ جیسا نظام عدل وانصاف اور احتساب ہو تاکہ مدینہ طرز کی ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر ہو۔

Your Thoughts and Comments