Islami Afwad Ki Pehli Tareekhsaz Fateh Ghazwa E Badr

اسلامی افواج کی پہلی تاریخ سازفتح غزوہ بدر

جنگ کیلئے اسلام پر بہتان تراشی باطل قوتوں کا ازلی وابدی حربہ ٹھہرا

جمعرات مئی

Islami Afwad Ki Pehli Tareekhsaz Fateh Ghazwa e Badr
پیر فاروق بہاؤالحق شاہ
غزوہ بدر تاریخ اسلام کا وہ پہلا معرکہ ہے جب اسلام اور کفر،حق اور باطل پہلی باربراہ راست آمنے سامنے تھے۔اس معرکہ کے دوران مسلمان بہت قلیل تعداد میں جبکہ کفار کثرت تعداد میں ان سے کئی گنازیادہ تھے۔غزوہ بدر 2ہجری بمطابق 13مارچ624ء کو مدینہ منورہ کے جنوب مغرب میں واقع بدر کے مقام پر ہوا۔
اسے اللہ تعالیٰ نے یوم الفرقان کے لقب سے یاد فرمایا ہے یعنی وہ دن جب حق اور باطل کے درمیان فرق ظاہر ہو گیا۔اس غزوہ کو بدر العظمیٰ اور بدرالقتال بھی کہتے ہیں۔
چراگاہ مدینہ پر حملہ۔غزوہ بنی صفوان 10ربیع الاول کو مشرکین نے مدینہ کے نواح میں ایک چراگاہ پر حملہ کر دیا۔اس چراگاہ کے کئی درخت کاٹ دےئے اور دھاک بٹھانے کیلئے چروا ہے کو قتل کرکے جتنے بھیڑ بکریاں ہانک کر لے جاسکتے تھے لے گئے ۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ملی تو آپ نے صحابہ کی ایک جماعت کے ہمراہ ان کاتعاقب کیا اور وادی صفوان تک ان کے پیچھے گئے تاہم وہ بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئے ۔
ابوسفیان جو اسلام دشمنی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتا تھا غزوہ بدر کی فوری وجہ بنا۔وہ ایک تجارتی قافلہ لیکر بغرض تجارت شام کی طرف روانہ ہوا۔ابو سفیان سے مسلمانوں کو خیر کی توقع نہ تھی۔
چنانچہ اللہ کے نبی نے گھر بیٹھ کر اس کے حملے کا انتظار کرنے کی بجائے قافلے کی واپسی پر خود پیش قدمی کرکے اس پر حملہ کا فیصلہ کیا۔ہجرت کے انیس ماہ بعد بارہ رمضان المبارک بروز ہفتہ ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین سو پندرہ جانثاروں کو لیکر مدینہ طیبہ سے روانہ ہوئے۔
ابو سفیان کو اپنے جاسوس کے ذریعے مسلمانوں کی سرگرمیوں کی اطلاع مل گئی ۔
اس نے ایک شخص ضمضم بن عمروالغفاری کو باطل قوتوں کی ازلی وابدی روش پر 1200وقیہ چاندی بطور معاوضہ دے کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بہتان تراشی کیلئے استعمال کیا۔اس کی زبانی حملے کا واویلاسن کر کفار مکہ نے تقریباً ہزار افراد پر مشتمل قافلہ مکہ مکرمہ سے روانہ کیا۔جبکہ ابوسفیان سمندر سے متصل ایک طویل راستہ اختیار کرکے بخیریت پہنچ گیا اور کفارمکہ کے سردار مسلمانوں کو سبق سکھانے کیلئے جمع ہونے لگے۔

سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم جب زفران کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجلس مشاورت مطلب کی ۔کفار مکہ کا لشکر پیش قدمی کررہا تھا کہ مشاورت کے بعد313مجاہدین70اونٹوں اور 2گھوڑوں پر مشتمل قافلہ روانہ ہوا۔راستہ میں کم عمر بچوں کو واپس بھیج دیا گیا لیکن کچھ معصوم صحابہ کرام شوق شہادت سے سر شار ہو کر لشکر کے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔
یہ ایک ایسا لشکر تھا جس کے پاس ہتھیار پورے نہ تھے ۔
گھوڑے اور تلواریں بھی پوری نہ تھیں لیکن اللہ اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بھروسے کی طاقت سے مالا مال تھے۔یوں اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کرتا ہوا یہ اپنی نوعیت کا منفرد جنگی لشکر میدان بدر پہنچ گیا۔سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم عدوة الدنیا کی طرف سے میدان بدر میں داخل ہوئے اور ایک جگہ پر خیمہ زن ہونے کاحکم ارشاد فرمایا۔

حضرت خباب بن منذر اور حضرت سعدبن معاذ کے مشورے سے سرکار نے خیمہ گاہ تبدیل کردی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کے لئے ایک اونچی جگہ منتخب کی گئی جہاں پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تشریف فرماہوئے۔اور حضرت سعدبن معاذ خود تلوار لے کر آپ کی حفاظت کے لئے کھڑے ہوگئے۔
جنگ سے پہلے کی رات کے حالات :یہ جمعہ کی رات تھی تمام مجاہدین تھکن سے چور تھے اللہ تعالیٰ نے تمام لشکر پر نیند غالب کردی اور سارا لشکر خوب سویا یہاں تک کہ وہ تروتازہ ہو گئے ۔
سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم ساری رات جاگتے رہے اور اللہ کے حضور سر بسجودہر لمحہ اللہ کے حضور دعا کرتے رہے۔جبکہ لشکر کفار ساری رات شراب پیتا رہا اور داد عیش دیتا رہا رقص وسرود کی محفلیں سرگرم رہیں۔حضرت علی شیر خداراوی ہیں کہ جس روز بدرکی جنگ شروع ہو گئی تو حضور کی زباں پر یاحیی یاقیوم کا ورد تھا۔
حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ میں نے اس دن اس کثرت اور قوت سے کسی کو اپنے حق کا واسطے دیتے نہیں سنا۔
حضور عرض کرتے رہے اے اللہ اگر تو اس گروہ کو ہلاک کردے گا تو پھر تیری عبادت بھی نہیں کی جائے گی۔حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ بدر کے دن حضور اپنے قبہ میں تشریف فرماتھے اور یہ دعا مانگ رہے تھے کہ اے اللہ میں تجھے اس عہد اور وعدہ کا واسطہ دیتا ہوں جوتونے میرے ساتھ کیا ہے۔
اے اللہ اگر تو اسے پورا نہیں کرے گا تو پھر تا ابدتیری عبادت نہ کی جائے گی۔
مشرکین کی تعداد دیکھ کر حضور قبلہ رو کھڑے ہوئے اور رب کے حضور فریاد شروع کردی ۔حضور کے کندھے سے چادر گرگئی تو حضرت صدیق اکبر نے چادر دوبارہ آپ کے کندھے پر رکھی اور آپ کو پیچھے سے سینے سے لگا لیا اور عرض کی اے اللہ کے پیارے نبی آپ نے واسطہ دینے کی حد کردی ہے ۔یہاں تک کہ جبرائیل امین یہ آیت لے کر حاضر ہوئے سورة الانفال نمبر 9(ترجمہ)اور یاد کروجب تم فریاد کر رہے تھے تو اپنے رب سے اس نے تمہاری فریاد سن لی میں مدد کرنے والا ہوں تمہاری ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ جوپے درپے آنے والے ہیں۔

17رمضان المبارک 17مارچ 624فجر کی نماز کے بعدحضور نے صف بندی فرمائی اور روایات کے مطابق انفرادی مقابلہ جات شروع ہوئے۔سب سے پہلے عمر بن الحضرمی کا بھائی نکلا جس کو حضرت عمر کے غلام نے چشم زدن میں قتل کر دیا۔اس کے بعد عتبہ بن ربیعہ،شیبہ بن ربیع اور ولیدبن عتبہ میدان میں اترے ان کے مقابلے میں حضرت حمزہ،حضرت علی میدان میں اترے حضرت حمزہ نے شیبہ کو قتل کیا اور حضرت علی نے ولیدکو قتل کیا،اس دوران عتبہ اور حضرت عبیدہ کی لڑائی شروع ہوئی اور حضرت علی نے ایک ہی ضرب سے اس کا کام تمام کر دیا پھر گھمسان کی جنگ شروع ہوئی اس جنگ کے دوران دوننھے مجاہدین معاذ اور معوذ نے حضرت عبدالرحمان بن عوف سے ابوجہل کے متعلق پوچھا۔

آپ کی نشاندہی پر دونوں ننھے مجاہدین ابوجہل کی طرف لپکے اس کو گھوڑے سے گرادیا ۔معاذ بن عفرا کے بھائی معوذ نے ابوجہل کا سرتن سے جدا کر دیا۔بعض روایات کے مطابق حضرت عبداللہ بن معوذ نے اس کا سرتن سے جدا کیا۔اس گھمسان کی جنگ میں مسلمانوں کے 14افراد شہید ہوئے جبکہ قریش کے70
افرادقتل ہوگئے جس میں بعض روایات کے مطابق 36حضرت علی کے ہاتھوں قتل ہوئے۔

70سے زائد افراد گرفتار ہوئے ان گرفتار شدگان میں عرب کے چوٹی کے معززین بھی تھے جس میں سے عباس بن عبدالمطلب ،عقیل بن ابی طالب اور اسود بن عامر ،سہیل بن عمرو اور عبداللہ بن زمعہ وغیرہ شامل تھے ۔معرکہ بدر نیحق اور باطل میں فرق واضح کر دیا۔اس جنگ کی طرف روانہ ہونے سے قبل ابوجہل اور دیگر سردار ان مکہ نے کعبہ کا غلاف پکڑ کر دعا کی تھی کہ خدا یادونوں جماعتوں میں جو بہتر ہے اس کوفتح عطا فرما اور جو ظلم پر ہو اس کو تباہ کر دے۔

سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسیران جنگ کے حوالے سے مشاورت طلب کی تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سب قیدیوں کو قتل کرنے کی تجویز دی جبکہ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جزیہ دے کررہا کرنے کی تجویز دی۔حضور نے اس تجویز کو پسند فرمایا اور قیدیوں کوفدیہ لے کر رہا کرنے کا حکم دیا۔جو قیدی بوجہ غربت فدیہ نہیں دے سکتے تھے ان کو حکم ہوا کہ دس دس مسلمانوں کو تعلیم دیں۔

Your Thoughts and Comments