Muqaam E Ibrahim AS

مقام ابراہیم علیہ السلام

جب ہم نے گھر کو لوگوں کے لیے مرجع اور امن کی جگہ بنایا۔بناؤ مقام ابراہیم علیہ السلام کو نماز کی جگہ۔

ہفتہ ستمبر

Muqaam e Ibrahim AS

محمد طاہر الکردی
خانہ کعبہ ومسجد حرام کا ہم تفصیلی ذکر کر چکے ہیں۔اب ہم مقام ابراہیم علیہ السلام کا ذکر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
جب ہم نے گھر کو لوگوں کے لیے مرجع اور امن کی جگہ بنایا۔بناؤ مقام ابراہیم علیہ السلام کو نماز کی جگہ۔
بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے یہاں من تبعیضہ (جوبعض کے معنی دیتا ہے)بعض نے اسے زائد کہا ہے جیسا کہ اخفش کا مذہب ہے بعض نے کہا ہے کہ یہ من فی(میں کے)معنی میں ہے مگر یہ تمام اقوال بعید ہیں ،قریب ترین بات یہ ہے کہ یہ عند(نزدیک)کے معنی میں ہے اور مقام میم کے فتح اور میم کے پیش دونوں سے ہے۔


مقام سے آیت میں کیا مراد ہے؟اس کے بارے میں اختلاف ہے،بعض نے کہا ہے کہ پوری مسجد مقام ابراہیم علیہ السلام ہے،بعض نے کہا ہے کہ پورا حرم مقام ابراہیم علیہ السلام ہے ،بعض نے کہا ہے کہ منیٰ ومزدلفہ اور عرفہ بھی مقام ابراہیم علیہ السلام میں داخل ہے،بعض کے نزدیک مقام ابراہیم علیہ السلام وہ پتھر ہے جو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بیوی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا سردُھلاتے وقت ان کے قدموں کے نیچے دھرا تھا۔

بعض نے کہا ہے مقام ابراہیم علیہ السلام وہ پتھر ہے جس پر آپ نے بنائے خانہ کعبہ کے وقت کھڑے ہو کر تعمیر کی تھی،یہ پتھر خود بخود حسب ضرورت اونچا ہوتا جاتا تھا۔
اسی کے بارے میں صاحب نظم عمودلانسب کہتاہے:
جس قدر تعمیربلند ہوتی یہ پتھر اسی قدر بلند ہوتا جاتا۔
بہر حال یہ آخری قول زیادہ صحیح ہے کیونکہ آیت سے محسوس ہوتا ہے کہ کسی خاص مقام کا تذکرہ کیا جارہا ہے اور اس کے پاس نماز ادا کرنے کے لیے کہا جارہا ہے۔
ویسے اگر ہم اس کے لغوی معنی پر غور کریں تو ہر اس مقام کو مقام ابراہیم علیہ السلام کہہ سکتے ہیں جہاں کہیں بھی آپ کھڑے ہوئے مگر مندرجہ ذیل آیتوں پر غورکرنے سے صاف واضح ہو جاتا ہے کہ مقام ابراہیم علیہ السلام سے کوئی مخصوص مقام مراد ہے۔
پہلا گھر جو مکہ میں قائم کیا گیا وہ مبارک ہے اور لوگوں کے لیے ہدایت والا ہے ۔اس میں واضح نشانیاں ہیں اور وہاں مقام ابراہیم علیہ السلام بھی ہے۔

نیزیہ آیت بھی ملا حظہ ہو۔
بنا لو مقام ابراہیم کو جائے نماز۔
اس امر کی تائید حضرت جابر کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے،”جب نبی علیہ السلام نے طواف کیا تو حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دریافت کیا ”کیا یہ ہمارے باپ کا مقام ہے؟“آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’ہاں‘حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا”کیا ہم اسے جائے نماز نہ بنا لیں؟“تو یہ آیت نازل ہوئی”واتخذوامن مقام ابراہیم مصلّٰے۔

ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقام کے پاس سے گزرے،حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے ساتھ تھے،انہوں نے دریافت کیا”یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ ہمارے باپ ابراہیم علیہ السلام کا مقام نہیں ہے؟“آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”ہاں۔“حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دریافت کیا ”کیا ہم اسے مصلّٰی نہ بنا لیں؟“آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھے اس کے بارے میں حکم نہیں دیا گیا ہے۔
“مگر سورج غرو ب نہ ہوا تھا کہ یہ آیت نازل ہوئی۔
بخاری میں حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا”میں نے پروردگارکے ساتھ تین باتوں میں موافقت کی یاپروردگار نے میرے ساتھ تین باتوں میں موافقت کی،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تھا کہ کیا ہم مقام ابراہیم علیہ السلام کو مصلّٰی نہ بنا لیں تو یہ آیت نازل ہوئی:
واتخذوامن مقام ابراہیم مصلّٰے۔
(الحدیث)
حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکن کو چوما ۔پھر آپ نے تین بار رمل کیا اور چار بار سادہ طور سے چلے پھر مقام ابراہیم علیہ السلام پر آئے اور یہ آیت پڑھی واتخذوامن مقام ابراہیم مصلّٰے اور وہاں دورکعت پڑھیں۔
ابن کثیر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ یہ ٹکڑا ایک بڑی حدیث کا ہے ۔جسے مسلم نے اپنی صحیح میں حاتم بن اسماعیل سے روایت کیا ہے۔

خلاصہ یہ کہ مقام ابراہیم علیہ السلام کے پیچھے نماز پڑھی جائے ،اس کا سامنا ضروری نہیں ہے کیونکہ مقام ابراہیم علیہ السلام ہاتھ بھر کا چھوٹا سا پتھر ہے۔اس پر ایک شخص بھی نماز نہیں پڑھ سکتا۔
حدیث میں ہے کہ رکن اور مقام جنت کے یا قوت ہیں،اللہ نے ان کے نور کو کم کر دیا ہے ورنہ یہ بڑے منور ہوتے۔یہ روایت تر مذی ،احمد، حاکم اور ابن حبان نے کی ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے معجزات سے یہ بات ہے کہ اس پتھر پر آپ کے قدم کے نشان پڑ گئے جو آج تک باقی ہیں،اگر چہ لوگوں کے چھونے کی وجہ سے اس کی اصلی ہیئت میں بہت کچھ تغیر پیدا ہو گیا ہے ،اہل عرب جاہلیت کے دور میں بھی اس بات کا ذکر کرتے تھے۔چنانچہ حضرت ابو طالب نے اپنے لامیہ قصیدہ میں اس کا ذکر کیا ہے۔
ابراہیم کے نقش قدم پتھر میں پڑ گئے حالانکہ آپ ننگے پاؤں تھے
لہٰذا مقام ابراہیم علیہ السلام یہی پتھر ہے اور حجراسود بھی ہمیشہ سے محترم رہا ہے گو ہمارے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے درمیان چار ہزار سال کا فاصلہ ہو گیا ہے۔

عجیب بات یہ ہے کہ اہل مکہ اور اہل عرب اگر چہ پتھر وں کو پوجتے تھے مگرکبھی کسی نے حجراسود یا مقام ابراہیم علیہ السلام کو نہیں پوجا اگر چہ ان دونوں کا وہ احترام کرتے چلے آئے ہیں۔
شاید اس میں اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت ہو کہ ان کی جاہلیت میں عبادت ہوئی اور اسلام ان کے احترام کو باقی رکھتا تو کافر کہتے کہ دیکھو اسلام بھی شرک سے پاک نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان دونوں پتھروں کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور سے آج تک محفوظ کر دیا ہے ۔جس طرح کہ بیت اللہ کو اس کے پوجے جانے سے ہمیشہ محفوظ رکھا۔

Your Thoughts and Comments