Quresh

قریش

اہل عرب انسانوں میں سب سے افضل ہیں اور قریش اہل عرب میں سب سے افضل ہیں

منگل ستمبر

Quresh

محمد طاہر الکردی
اہل عرب انسانوں میں سب سے افضل ہیں اور قریش اہل عرب میں سب سے افضل ہیں،ہم تفصیل کے ساتھ ان کے پورے نسب کا بیان نہیں کر سکتے۔ذیل میں العقد الفرید سے مختصراً بیان درج کرتے ہیں۔
قریش نضربن کتانہ کہلاتے تھے،یہ لوگ بنو کتانہ میں پھیلے ہوئے تھے،سب سے پہلے انہیں،قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہربن مالک نے بیت اللہ کے پاس جمع کیا،قریش کے معنی جمع کرنے کے ہیں اسی لئے قصی کو مجمع یعنی جمع کرنے والا کہتے ہیں چنانچہ شاعر کہتاہے۔


ترجمہ:تمہارے باپ قصی کو مجمع کہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعہ فہرکے قبائل کو جمع کیا۔
قریش،آل اللہ جیران اللہ اور سکان اللہ کہلاتے تھے،اسی کے بارے میں عبدالمطلب کہتے ہیں۔


ترجمہ:ہم آل خدا ہیں اور اس کی نگرانی میں ہیں قدیم زمانے سے اس کی حفاظت میں چلے آتے ہیں وہ خانہ کعبہ کی حفاظت کرتاہے۔جو کوئی اس میں کسی گناہ کا ارادہ کرے گا ذلیل ہو گا۔

ہمیشہ ہم اللہ کا احترام کرتے چلے آئے ہیں ۔اللہ ہم سے مصائب کو دور رکھے۔
قریش کی فضیلت میں بہت سی احادیث آئی ہیں۔رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ صلعم نے فرمایاہے:
”امام اہل قریش سے ہوں گے،نیک لوگوں کے امام نیک ہوں گے اور بروں کے برے امراء ہوں گے۔اگر تمہارے اوپر اہل قریش کسی نکٹے حبشی غلام کو سردار بنائیں تو اس کی اطاعت کرنا اور اس کی فرماں برداری کرنا جب تک کہ وہ اسلام اور سراڑ وادینے کے درمیان تمہیں اختیار نہ دے۔
اگر ایسی صورت ہو جائے کہ وہ یہ کہے کہ یا اسلام کو چھوڑ دو ورنہ سر قلم کروا لو تو تم اپنا سر پیش کر دینا“۔
(حاکم نے مستدرک میں اور بہیقی نے اپنی سنن میں اس روایت کو نقل کیا ہے)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
”قریش کو آگے بڑھاؤ اور ان سے آگے نہ بڑھو“۔نیز فرمایا ہے”اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو چنا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے بنو کنا نہ کو منتخب کیا اور بنو کنانہ سے اہل قریش کو پسند کیا اور قریش سے بنو ہاشم کو چنا اور مجھے بنو ہاشم میں سے چنا“۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا اور مجھے بہترین گروہ میں پیدا کیا اور (عرب وعجم)دو فریقوں میں سے بہترین لوگوں میں پیدا کیا،پھر قبائل میں سے بہترین قبیلے میں پیدا کیا اور ان میں سے بھی بہترین گھرانے میں پیدا کیا۔لہٰذا میں ان کے نفوس میں سب سے بہتر ہوں اور ان کے گھرانے میں سب سے بہتر گھرانے والا ہوں“۔

جس زمانے میں اہل قریش خانہ کعبہ کی تعمیر کررہے تھے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ شریک تھے ،آپ قریشیوں کے ساتھ پتھر ڈھورہے تھے،اور قریش کے سب سردار شریک تعمیر تھے،جن میں یہ لوگ شامل تھے۔ولید بن مغیر ہ،ابو جہم ،عباس بن عبد المطلب،ابوامیة بن المغیرہ،عتبہ بن ربیعہ،ابو زمعة بن الاسود بن المطلب ،عاص بن وائل ،ابو حذیفہ بن المغیرہ ،ابو وہب بن عمروبن عائذ بن عمران بن مخزوم ابو سفیان اور ابواحیة سعید بن العاص۔

ولید سب سے پہلا شخص تھا جو خانہ کعبہ پر چڑھا اور اسے منہدی کرنا شروع کیا۔ورنہ قریش خانہ کعبہ کو گراتے ڈرتے تھے،پھر اس کی دیکھا دیکھی قریشیوں نے بھی انہدام میں حصہ لیا،کعبہ کو منہدہم کرتے وقت ولید یہ کہتا جاتا تھا۔
”اے اللہ ہم صرف اصلاح کی غرض سے یہ کام کررہے ہیں“۔
ابو جہم ،ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعمیر خانہ کعبہ میں بھی شریک ہوئے تھے،عنقریب ہم ان کے سوانح ذکر کریں گے۔
مذکورہ بالا سرداروں کے علاوہ اور لوگ بھی شریک تھے ،ہم نے صرف بڑے بڑے لوگوں کے نام ذکر کر دیئے ہیں اور ان سب کے سوانح بھی خوف طوالت کی وجہ سے ذکر نہیں کئے۔

Your Thoughts and Comments