Sahih Bukhari Hadees Number 349 - Chapter 8 - Chapter Belief Faith

Hadees Number 349 - Chapter 8 from As-salat (the Prayer). of Sahih Bukhari. Read the authentic Hadith by Imam Bukhari in Arabic, with complete translation in English and Urdu. All references of the Hadees are given for authenticity of it. This chapter As-salat (the Prayer). has total 172 Hadees, and the whole book has 7558 Ahadees, search easily online or download the books in PDF format.
  • Hadith No 349
  • Book Name Sahih Bukhari
  • Chapter Name As-salat The Prayer
  • Writer Imam Bukhari
  • Writer Death 256 ھ

Hadith in Arabic

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ أَبُو ذَرٍّ يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فُرِجَ عَنْ سَقْفِ بَيْتِي وَأَنَا بِمَكَّةَ ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَرَجَ صَدْرِي ، ثُمَّ غَسَلَهُ بِمَاءِ زَمْزَمَ ، ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا ، فَأَفْرَغَهُ فِي صَدْرِي ، ثُمَّ أَطْبَقَهُ ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَعَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، فَلَمَّا جِئْتُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، قَالَ جِبْرِيلُ لِخَازِنِ السَّمَاءِ : افْتَحْ ، قَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا جِبْرِيلُ ، قَالَ : هَلْ مَعَكَ أَحَدٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، مَعِي مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أُرْسِلَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَلَمَّا فَتَحَ عَلَوْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا ، فَإِذَا رَجُلٌ قَاعِدٌ عَلَى يَمِينِهِ أَسْوِدَةٌ وَعَلَى يَسَارِهِ أَسْوِدَةٌ ، إِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَسَارِهِ بَكَى ، فَقَالَ : مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ ، قُلْتُ لِجِبْرِيلَ : مَنْ هَذَا ؟ قَال : هَذَا آدَمُ ، وَهَذِهِ الْأَسْوِدَةُ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ نَسَمُ بَنِيهِ ، فَأَهْلُ الْيَمِينِ مِنْهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَالْأَسْوِدَةُ الَّتِي عَنْ شِمَالِهِ أَهْلُ النَّارِ ؟ فَإِذَا نَظَرَ عَنْ يَمِينِهِ ضَحِكَ ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى حَتَّى عَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ ، فَقَالَ لِخَازِنِهَا : افْتَحْ ، فَقَالَ لَهُ خَازِنِهَا مِثْلَ مَا قَالَ الْأَوَّلُ ، فَفَتَحَ ، قَالَ أَنَسٌ : فَذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ فِي السَّمَوَات آدَمَ ، وَإِدْرِيسَ ، وَمُوسَى ، وَعِيسَى ، وَإِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ ، وَلَمْ يُثْبِتْ كَيْفَ مَنَازِلُهُمْ ، غَيْرَ أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ آدَمَ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، وَإِبْرَاهِيمَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ ، قَالَ أَنَسٌ : فَلَمَّا مَرَّ جِبْرِيلُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِدْرِيسَ ، قَالَ : مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا إِدْرِيسُ ، ثُمَّ مَرَرْتُ بِمُوسَى ، فَقَالَ : مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ ، قُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا مُوسَى ، ثُمَّ مَرَرْتُ بِعِيسَى ، فَقَالَ : مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ ، قُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا عِيسَى ، ثُمَّ مَرَرْتُ بِإِبْرَاهِيمَ ، فَقَالَ : مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ ، قُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ هَذَا إِبْرَاهِيمُ عليه وسلم ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَأَخْبَرَنِي ابْنُ حَزْمٍ ، أَنَّابْنَ عَبَّاسٍ ، وَأَبَا حَبَّةَ الْأَنْصَارِيَّ كَانَا يَقُولَانِ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ثُمَّ عُرِجَ بِي حَتَّى ظَهَرْتُ لِمُسْتَوًى أَسْمَعُ فِيهِ صَرِيفَ الْأَقْلَامِ ، قَالَ ابْنُ حَزْمٍ ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَفَرَضَ اللَّهُ عَلَى أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلَاةً ، فَرَجَعْتُ بِذَلِكَ حَتَّى مَرَرْتُ عَلَى مُوسَى ، فَقَالَ : مَا فَرَضَ اللَّهُ لَكَ عَلَى أُمَّتِكَ ؟ قُلْتُ : فَرَضَ خَمْسِينَ صَلَاةً ، قَالَ : فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ ، فَرَاجَعْتُ فَوَضَعَ شَطْرَهَا ، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى ، قُلْتُ : وَضَعَ شَطْرَهَا ، فَقَالَ : رَاجِعْ رَبَّكَ ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ، فَرَاجَعْتُ : فَوَضَعَ شَطْرَهَا ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ ، فَرَاجَعْتُهُ ، فَقَالَ : هِيَ خَمْسٌ وَهِيَ خَمْسُونَ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ ، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى ، فَقَالَ : رَاجِعْ رَبَّكَ ، فَقُلْتُ : اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِي حَتَّى انْتَهَى بِي إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى ، وَغَشِيَهَا أَلْوَانٌ لَا أَدْرِي مَا هِيَ ، ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا فِيهَا حَبَايِلُ اللُّؤْلُؤِ وَإِذَا تُرَابُهَا الْمِسْكُ " .

Urdu Translation

´ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے یونس کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے انس بن مالک سے، انہوں نے فرمایا کہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے گھر کی چھت کھول دی گئی، اس وقت میں مکہ میں تھا۔ پھر جبرائیل علیہ السلام اترے اور انہوں نے میرا سینہ چاک کیا۔ پھر اسے زمزم کے پانی سے دھویا۔ پھر ایک سونے کا طشت لائے جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا۔ اس کو میرے سینے میں رکھ دیا، پھر سینے کو جوڑ دیا، پھر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آسمان کی طرف لے کر چلے۔ جب میں پہلے آسمان پر پہنچا تو جبرائیل علیہ السلام نے آسمان کے داروغہ سے کہا کھولو۔ اس نے پوچھا، آپ کون ہیں؟ جواب دیا کہ جبرائیل، پھر انہوں نے پوچھا کیا آپ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟ جواب دیا، ہاں میرے ساتھ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا ان کے بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ کہا، جی ہاں! پھر جب انہوں نے دروازہ کھولا تو ہم پہلے آسمان پر چڑھ گئے، وہاں ہم نے ایک شخص کو بیٹھے ہوئے دیکھا۔ ان کے داہنی طرف کچھ لوگوں کے جھنڈ تھے اور کچھ جھنڈ بائیں طرف تھے۔ جب وہ اپنی داہنی طرف دیکھتے تو مسکرا دیتے اور جب بائیں طرف نظر کرتے تو روتے۔ انہوں نے مجھے دیکھ کر فرمایا، آؤ اچھے آئے ہو۔ صالح نبی اور صالح بیٹے! میں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ آدم علیہ السلام ہیں اور ان کے دائیں بائیں جو جھنڈ ہیں یہ ان کے بیٹوں کی روحیں ہیں۔ جو جھنڈ دائیں طرف ہیں وہ جنتی ہیں اور بائیں طرف کے جھنڈ دوزخی روحیں ہیں۔ اس لیے جب وہ اپنے دائیں طرف دیکھتے ہیں تو خوشی سے مسکراتے ہیں اور جب بائیں طرف دیکھتے ہیں تو (رنج سے) روتے ہیں۔ پھر جبرائیل مجھے لے کر دوسرے آسمان تک پہنچے اور اس کے داروغہ سے کہا کہ کھولو۔ اس آسمان کے داروغہ نے بھی پہلے کی طرح پوچھا پھر کھول دیا۔ انس نے کہا کہ ابوذر نے ذکر کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان پر آدم، ادریس، موسیٰ، عیسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام کو موجود پایا۔ اور ابوذر رضی اللہ عنہ نے ہر ایک کا ٹھکانہ نہیں بیان کیا۔ البتہ اتنا بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدم کو پہلے آسمان پر پایا اور ابراہیم علیہ السلام کو چھٹے آسمان پر۔ انس نے بیان کیا کہ جب جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادریس علیہ السلام پر گزرے۔ تو انہوں نے فرمایا کہ آؤ اچھے آئے ہو صالح نبی اور صالح بھائی۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ جواب دیا کہ یہ ادریس علیہ السلام ہیں۔ پھر موسیٰ علیہ السلام تک پہنچا تو انہوں نے فرمایا آؤ اچھے آئے ہو صالح نبی اور صالح بھائی۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ پھر میں عیسیٰ علیہ السلام تک پہنچا، انہوں نے کہا آؤ اچھے آئے ہو صالح نبی اور صالح بھائی۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ پھر میں ابراہیم علیہ السلام تک پہنچا۔ انہوں نے فرمایا آؤ اچھے آئے ہو صالح نبی اور صالح بیٹے۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ ابن شہاب نے کہا کہ مجھے ابوبکر بن حزم نے خبر دی کہ عبداللہ بن عباس اور ابوحبۃ الانصاری رضی اللہ عنہم کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پھر مجھے جبرائیل علیہ السلام لے کر چڑھے، اب میں اس بلند مقام تک پہنچ گیا جہاں میں نے قلم کی آواز سنی (جو لکھنے والے فرشتوں کی قلموں کی آواز تھی) ابن حزم نے (اپنے شیخ سے) اور انس بن مالک نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ پس اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس وقت کی نمازیں فرض کیں۔ میں یہ حکم لے کر واپس لوٹا۔ جب موسیٰ علیہ السلام تک پہنچا تو انہوں نے پوچھا کہ آپ کی امت پر اللہ نے کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا کہ پچاس وقت کی نمازیں فرض کی ہیں۔ انہوں نے فرمایا آپ واپس اپنے رب کی بارگاہ میں جائیے۔ کیونکہ آپ کی امت اتنی نمازوں کو ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتی ہے۔ میں واپس بارگاہ رب العزت میں گیا تو اللہ نے اس میں سے ایک حصہ کم کر دیا، پھر موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور کہا کہ ایک حصہ کم کر دیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ دوبارہ جائیے کیونکہ آپ کی امت میں اس کے برداشت کی بھی طاقت نہیں ہے۔ پھر میں بارگاہ رب العزت میں حاضر ہوا۔ پھر ایک حصہ کم ہوا۔ جب موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا تو انہوں نے فرمایا کہ اپنے رب کی بارگاہ میں پھر جائیے، کیونکہ آپ کی امت اس کو بھی برداشت نہ کر سکے گی، پھر میں باربار آیا گیا پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ نمازیں (عمل میں) پانچ ہیں اور (ثواب میں) پچاس (کے برابر) ہیں۔ میری بات بدلی نہیں جاتی۔ اب میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے پھر کہا کہ اپنے رب کے پاس جائیے۔ لیکن میں نے کہا مجھے اب اپنے رب سے شرم آتی ہے۔ پھر جبرائیل مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک لے گئے جسے کئی طرح کے رنگوں نے ڈھانک رکھا تھا۔ جن کے متعلق مجھے معلوم نہیں ہوا کہ وہ کیا ہیں۔ اس کے بعد مجھے جنت میں لے جایا گیا، میں نے دیکھا کہ اس میں موتیوں کے ہار ہیں اور اس کی مٹی مشک کی ہے۔

English Translation

Narrated Abu Dhar: Allah's Apostle said, "While I was at Mecca the roof of my house was opened and Gabriel descended, opened my chest, and washed it with Zamzam water. Then he brought a golden tray full of wisdom and faith and having poured its contents into my chest, he closed it. Then he took my hand and ascended with me to the nearest heaven, when I reached the nearest heaven, Gabriel said to the gatekeeper of the heaven, 'Open (the gate).' The gatekeeper asked, 'Who is it?' Gabriel answered: 'Gabriel.' He asked, 'Is there anyone with you?' Gabriel replied, 'Yes, Muhammad I is with me.' He asked, 'Has he been called?' Gabriel said, 'Yes.' So the gate was opened and we went over the nearest heaven and there we saw a man sitting with some people on his right and some on his left. When he looked towards his right, he laughed and when he looked toward his left he wept. Then he said, 'Welcome! O pious Prophet and pious son.' I asked Gabriel, 'Who is he?' He replied, 'He is Adam and the people on his right and left are the souls of his offspring. Those on his right are the people of Paradise and those on his left are the people of Hell and when he looks towards his right he laughs and when he looks towards his left he weeps.' Then he ascended with me till he reached the second heaven and he (Gabriel) said to its gatekeeper, 'Open (the gate).' The gatekeeper said to him the same as the gatekeeper of the first heaven had said and he opened the gate. Anas said: "Abu Dhar added that the Prophet met Adam, Idris, Moses, Jesus and Abraham, he (Abu Dhar) did not mention on which heaven they were but he mentioned that he (the Prophet ) met Adam on the nearest heaven and Abraham on the sixth heaven. Anas said, "When Gabriel along with the Prophet passed by Idris, the latter said, 'Welcome! O pious Prophet and pious brother.' The Prophet asked, 'Who is he?' Gabriel replied, 'He is Idris." The Prophet added, "I passed by Moses and he said, 'Welcome! O pious Prophet and pious brother.' I asked Gabriel, 'Who is he?' Gabriel replied, 'He is Moses.' Then I passed by Jesus and he said, 'Welcome! O pious brother and pious Prophet.' I asked, 'Who is he?' Gabriel replied, 'He is Jesus. Then I passed by Abraham and he said, 'Welcome! O pious Prophet and pious son.' I asked Gabriel, 'Who is he?' Gabriel replied, 'He is Abraham. The Prophet added, 'Then Gabriel ascended with me to a place where I heard the creaking of the pens." Ibn Hazm and Anas bin Malik said: The Prophet said, "Then Allah enjoined fifty prayers on my followers when I returned with this order of Allah, I passed by Moses who asked me, 'What has Allah enjoined on your followers?' I replied, 'He has enjoined fifty prayers on them.' Moses said, 'Go back to your Lord (and appeal for reduction) for your followers will not be able to bear it.' (So I went back to Allah and requested for reduction) and He reduced it to half. When I passed by Moses again and informed him about it, he said, 'Go back to your Lord as your followers will not be able to bear it.' So I returned to Allah and requested for further reduction and half of it was reduced. I again passed by Moses and he said to me: 'Return to your Lord, for your followers will not be able to bear it. So I returned to Allah and He said, 'These are five prayers and they are all (equal to) fifty (in reward) for My Word does not change.' I returned to Moses and he told me to go back once again. I replied, 'Now I feel shy of asking my Lord again.' Then Gabriel took me till we '' reached Sidrat-il-Muntaha (Lote tree of; the utmost boundary) which was shrouded in colors, indescribable. Then I was admitted into Paradise where I found small (tents or) walls (made) of pearls and its earth was of musk."

نماز کے احکام و مسائل سے مزید احادیث

حدیث نمبر 370

´ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابی الموال نے محمد بن منکدر سے، کہا` میں جابر بن عبداللہ انصاری کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ ایک کپڑا اپنے بدن پر لپیٹے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے، حالانکہ ان کی چادر الگ رکھی ہوئی تھی۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے کہا اے ابوعبداللہ! آپ کی چادر رکھی ہوئی ہے اور آپ (اسے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 383

´ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے عقیل سے، انہوں نے ابن شہاب سے، ان کو عروہ نے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے بچھونے پر نماز پڑھتے اور عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے درمیان اس طرح لیٹی ہوتیں جیسے (نماز ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 512

´ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے باپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطے سے بیان کیا، وہ فرماتی تھیں کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہتے اور میں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے) بچھونے پڑ آڑی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 489

´اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نافع سے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے راستے کے بائیں طرف ان گھنے درختوں کے پاس قیام فرمایا جو ہرشی پہاڑ کے نزدیک نشیب میں ہیں۔ یہ ڈھلوان جگہ ہرشی کے ایک کنارے سے ملی ہوئی ہے۔ یہاں سے عام راستہ تک پہنچنے کے لیے تیر کی مار کا فاصلہ ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس بڑے درخت کی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 490

´اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نافع سے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس نالے میں اترا کرتے تھے جو وادی مرالظہران کے نشیب میں ہے۔ مدینہ کے مقابل جب کہ مقام صفراوات سے اترا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس ڈھلوان کے بالکل نشیب میں قیام کرتے تھے۔ یہ راستے کے بائیں جانب پڑتا ہے جب کوئی شخص مکہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 376

´ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمر ابن ابی زائدہ نے بیان کیا عون بن ابی حجیفہ سے، انہوں نے اپنے والد ابوحجیفہ وہب بن عبداللہ سے کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سرخ چمڑے کے خیمہ میں دیکھا اور میں نے یہ بھی دیکھا کہ بلال رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرا رہے ہیں اور ہر ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 357

´ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک بن انس نے عمر بن عبیداللہ کے غلام ابونضر سالم بن امیہ سے کہ ام ہانی بنت ابی طالب کے غلام ابومرہ یزید نے بیان کیا کہ انہوں نے ام ہانی بنت ابی طالب سے یہ سنا۔ وہ فرماتی تھیں کہ` میں فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ میں نے دیکھا کہ آپ غسل ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 374

´ہم سے ابومعمر عبداللہ بن عمرو نے بیان کیا کہ کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ` عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک رنگین باریک پردہ تھا جسے انہوں نے اپنے گھر کے ایک طرف پردہ کے لیے لٹکا دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے سامنے سے اپنا یہ پردہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 473

´ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا کہ کہا ہم سے حماد بن زید نے، انہوں نے ایوب سختیانی سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ` ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خطبہ دے رہے تھے آنے والے نے پوچھا کہ رات کی نماز کس طرح پڑھی جائے؟ آپ صلی اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 381

´ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہ کہا ہم سے شعبہ نے، کہا ہم سے سلیمان شیبانی نے عبداللہ بن شداد کے واسطے سے، انہوں نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے کہا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ گاہ (یعنی چھوٹے مصلے) پر نماز پڑھا کرتے تھے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 406

´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے امام مالک نے نافع کے واسطہ سے روایت کیا، کہا انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطہ سے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلے کی دیوار پر تھوک دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھرچ ڈالا پھر (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 392

´ہم سے نعیم بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ ابن مبارک نے حمید طویل کے واسطہ سے، انہوں نے روایت کیا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ جنگ کروں یہاں تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کہیں۔ پس جب وہ اس کا اقرار کر لیں اور ہماری طرح نماز پڑھنے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 491

´اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نافع سے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ذی طویٰ میں قیام فرماتے اور رات یہیں گزارا کرتے تھے اور صبح ہوتی تو نماز فجر یہیں پڑھتے۔ مکہ جاتے ہوئے۔ یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ ایک بڑے سے ٹیلے پر تھی۔ اس مسجد میں نہیں جواب وہاں بنی ہوئی ہے بلکہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 351

´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ابراہیم نے بیان کیا، وہ محمد سے، وہ ام عطیہ سے، انہوں نے فرمایا کہ` ہمیں حکم ہوا کہ ہم عیدین کے دن حائضہ اور پردہ نشین عورتوں کو بھی باہر لے جائیں۔ تاکہ وہ مسلمانوں کے اجتماع اور ان کی دعاؤں میں شریک ہو سکیں۔ البتہ حائضہ عورتوں کو نماز پڑھنے کی جگہ سے دور رکھیں۔ ایک عورت نے کہا یا رسول اللہ! ہم ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 464

´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہمیں امام مالک رحمہ اللہ علیہ نے محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل سے خبر دی، انہوں نے عروہ بن زبیر سے۔ انہوں نے زینب بنت ابی سلمہ سے، انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ سے، وہ کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (حجۃ الوداع میں) اپنی بیماری کا شکوہ کیا (میں نے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 498

´ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے عبیداللہ کے واسطے سے بیان کیا، کہا مجھے نافع نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطہ سے خبر دی کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے برچھا گاڑ دیا جاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف نماز پڑھتے تھے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 397

´ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا سیف ابن ابی سلیمان سے، انہوں نے کہا میں نے مجاہد سے سنا، انہوں نے کہا کہ` ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں ایک آدمی آیا اور کہنے لگا، اے لو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آن پہنچے اور آپ کعبہ کے اندر داخل ہو گئے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں جب آیا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 378

´ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا کہ کہا ہم سے یزید بن ہارون نے، کہا ہم کو حمید طویل نے خبر دی انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (5 ھ میں) اپنے گھوڑے سے گر گئے تھے۔ جس سے آپ کی پنڈلی یا کندھا زخمی ہو گئے اور آپ نے ایک مہینے تک اپنی بیویوں کے پاس نہ جانے کی قسم کھائی۔ آپ اپنے بالاخانہ پر بیٹھ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 495

´ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا عون بن ابی حجیفہ سے، کہا میں نے اپنے باپ (وہب بن عبداللہ) سے سنا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بطحاء میں نماز پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عنزہ (ڈنڈا جس کے نیچے پھل لگا ہوا ہو) گاڑ دیا گیا تھا۔ مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 457

´ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عثمان بن عمر عبدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے یونس بن یزید نے زہری کے واسطہ سے، انہوں نے عبداللہ بن کعب بن مالک سے، انہوں نے اپنے باپ کعب بن مالک سے کہ` انھوں نے مسجد نبوی میں عبداللہ ابن ابی حدرد سے اپنے قرض کا تقاضا کیا اور دونوں کی گفتگو بلند آوازوں سے ہونے لگی۔ یہاں تک کہ رسول اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے