Sahih Bukhari Hadees Number 4086 - Chapter 64 - Chapter Belief Faith

Hadees Number 4086 - Chapter 64 from Al- Maghazi. of Sahih Bukhari. Read the authentic Hadith by Imam Bukhari in Arabic, with complete translation in English and Urdu. All references of the Hadees are given for authenticity of it. This chapter Al- Maghazi. has total 523 Hadees, and the whole book has 7558 Ahadees, search easily online or download the books in PDF format.
  • Hadith No 4086
  • Book Name Sahih Bukhari
  • Chapter Name Al- Maghazi
  • Writer Imam Bukhari
  • Writer Death 256 ھ

Hadith in Arabic

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى , أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : " بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً عَيْنًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتٍ وَهُوَ جَدُّ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ عُسْفَانَ وَمَكَّةَ ذُكِرُوا لِحَيٍّ مِنْ هُذَيْلٍ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو لَحْيَانَ , فَتَبِعُوهُمْ بِقَرِيبٍ مِنْ مِائَةِ رَامٍ , فَاقْتَصُّوا آثَارَهُمْ حَتَّى أَتَوْا مَنْزِلًا نَزَلُوهُ فَوَجَدُوا فِيهِ نَوَى تَمْرٍ تَزَوَّدُوهُ مِنْ الْمَدِينَةِ , فَقَالُوا : هَذَا تَمْرُ يَثْرِبَ فَتَبِعُوا آثَارَهُمْ حَتَّى لَحِقُوهُمْ , فَلَمَّا انْتَهَى عَاصِمٌ وَأَصْحَابُهُ لَجَئُوا إِلَى فَدْفَدٍ , وَجَاءَ الْقَوْمُ فَأَحَاطُوا بِهِمْ , فَقَالُوا : لَكُمُ الْعَهْدُ وَالْمِيثَاقُ إِنْ نَزَلْتُمْ إِلَيْنَا أَنْ لَا نَقْتُلَ مِنْكُمْ رَجُلًا , فَقَالَ عَاصِمٌ : أَمَّا أَنَا فَلَا أَنْزِلُ فِي ذِمَّةِ كَافِرٍ , اللَّهُمَّ أَخْبِرْ عَنَّا نَبِيَّكَ فَقَاتَلُوهُمْ حَتَّى قَتَلُوا عَاصِمًا فِي سَبْعَةِ نَفَرٍ بِالنَّبْلِ وَبَقِيَ خُبَيْبٌ وَزَيْدٌ وَرَجُلٌ آخَرُ فَأَعْطَوْهُمُ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ , فَلَمَّا أَعْطَوْهُمُ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ نَزَلُوا إِلَيْهِمْ , فَلَمَّا اسْتَمْكَنُوا مِنْهُمْ حَلُّوا أَوْتَارَ قِسِيِّهِمْ فَرَبَطُوهُمْ بِهَا , فَقَالَ الرَّجُلُ الثَّالِثُ الَّذِي مَعَهُمَا : هَذَا أَوَّلُ الْغَدْرِ , فَأَبَى أَنْ يَصْحَبَهُمْ فَجَرَّرُوهُ وَعَالَجُوهُ عَلَى أَنْ يَصْحَبَهُمْ فَلَمْ يَفْعَلْ فَقَتَلُوهُ , وَانْطَلَقُوا بِخُبَيْبٍ وَزَيْدٍ حَتَّى بَاعُوهُمَا بِمَكَّةَ فَاشْتَرَى خُبَيْبًا بَنُو الْحَارِثِ بْنِ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلٍ وَكَانَ خُبَيْبٌ هُوَ قَتَلَ الْحَارِثَ يَوْمَ بَدْرٍ , فَمَكَثَ عِنْدَهُمْ أَسِيرًا حَتَّى إِذَا أَجْمَعُوا قَتْلَهُ اسْتَعَارَ مُوسًى مِنْ بَعْضِ بَنَاتِ الْحَارِثِ لِيَسْتَحِدَّ بِهَا , فَأَعَارَتْهُ , قَالَتْ : فَغَفَلْتُ عَنْ صَبِيٍّ لِي فَدَرَجَ إِلَيْهِ حَتَّى أَتَاهُ فَوَضَعَهُ عَلَى فَخِذِهِ , فَلَمَّا رَأَيْتُهُ فَزِعْتُ فَزْعَةً عَرَفَ ذَاكَ مِنِّي وَفِي يَدِهِ الْمُوسَى , فَقَالَ : أَتَخْشَيْنَ أَنْ أَقْتُلَهُ مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ ذَاكِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ , وَكَانَتْ تَقُولُ : مَا رَأَيْتُ أَسِيرًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ خُبَيْبٍ لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ مِنْ قِطْفِ عِنَبٍ وَمَا بِمَكَّةَ يَوْمَئِذٍ ثَمَرَةٌ وَإِنَّهُ لَمُوثَقٌ فِي الْحَدِيدِ , وَمَا كَانَ إِلَّا رِزْقٌ رَزَقَهُ اللَّهُ , فَخَرَجُوا بِهِ مِنَ الْحَرَمِ لِيَقْتُلُوهُ , فَقَالَ : دَعُونِي أُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْهِمْ , فَقَالَ : لَوْلَا أَنْ تَرَوْا أَنَّ مَا بِي جَزَعٌ مِنَ الْمَوْتِ لَزِدْتُ , فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ سَنَّ الرَّكْعَتَيْنِ عِنْدَ الْقَتْلِ هُوَ , ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ أَحْصِهِمْ عَدَدًا , ثُمَّ قَالَ : مَا أُبَالِي حِينَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا عَلَى أَيِّ شِقٍّ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَشَأْ يُبَارِكْ عَلَى أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ عُقبَةُ بْنُ الْحَارِثِ فَقَتَلَهُ , وَبَعَثَتْ قُرَيْشٌ إِلَى عَاصِمٍ لِيُؤْتَوْا بِشَيْءٍ مِنْ جَسَدِهِ يَعْرِفُونَهُ , وَكَانَ عَاصِمٌ قَتَلَ عَظِيمًا مِنْ عُظَمَائِهِمْ يَوْمَ بَدْرٍ , فَبَعَثَ اللَّهُ عَلَيْهِ مِثْلَ الظُّلَّةِ مِنَ الدَّبْرِ فَحَمَتْهُ مِنْ رُسُلِهِمْ فَلَمْ يَقْدِرُوا مِنْهُ عَلَى شَيْءٍ " .

Urdu Translation

´مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں معمر بن راشد نے، انہیں زہری نے، انہیں عمرو بن ابی سفیان ثقفی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جاسوسی کے لیے ایک جماعت (مکہ، قریش کی خبر لانے کے لیے) بھیجی اور اس کا امیر عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بنایا، جو عاصم بن عمر بن خطاب کے نانا ہیں۔ یہ جماعت روانہ ہوئی اور جب عسفان اور مکہ کے درمیان پہنچی تو قبیلہ ہذیل کے ایک قبیلے کو جسے بنو لحیان کہا جاتا تھا، ان کا علم ہو گیا اور قبیلہ کے تقریباً سو تیر اندازوں نے ان کا پیچھا کیا اور ان کے نشانات قدم کو تلاش کرتے ہوئے چلے۔ آخر ایک ایسی جگہ پہنچنے میں کامیاب ہو گئے جہاں صحابہ کی اس جماعت نے پڑاؤ کیا تھا۔ وہاں ان کھجوروں کی گٹھلیاں ملیں جو صحابہ مدینہ سے لائے تھے۔ قبیلہ والوں نے کہا کہ یہ تو یثرب کی کھجور (کی گھٹلی) ہے اب انہوں نے پھر تلاش شروع کی اور صحابہ کو پا لیا۔ عاصم رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے جب یہ صورت حال دیکھی تو صحابہ کی اس جماعت نے ایک ٹیلے پر چڑھ کر پناہ لی۔ قبیلہ والوں نے وہاں پہنچ کر ٹیلہ کو اپنے گھیرے میں لے لیا اور صحابہ سے کہا کہ ہم تمہیں یقین دلاتے ہیں اور عہد کرتے ہیں کہ اگر تم نے ہتھیار ڈال دیئے تو ہم تم میں سے کسی کو بھی قتل نہیں کریں گے۔ اس پر عاصم رضی اللہ عنہ بولے کہ میں تو کسی کافر کی حفاظت و امن میں خود کو کسی صورت میں بھی نہیں دے سکتا۔ اے اللہ! ہمارے ساتھ پیش آنے والے حالات کی خبر اپنے نبی کو پہنچا دے۔ چنانچہ ان صحابہ نے ان سے قتال کیا اور عاصم اپنے سات ساتھیوں کے ساتھ ان کے تیروں سے شہید ہو گئے۔ خبیب، زید اور ایک اور صحابی ان کے حملوں سے ابھی محفوظ تھے۔ قبیلہ والوں نے پھر حفاظت و امان کا یقین دلایا۔ یہ حضرات ان کی یقین دہانی پر اتر آئے۔ پھر جب قبیلہ والوں نے انہیں پوری طرح اپنے قبضے میں لے لیا تو ان کی کمان کی تانت اتار کر ان صحابہ کو انہیں سے باندھ دیا۔ تیسرے صحابہ جو خبیب اور زید کے ساتھ تھے، انہوں نے کہا کہ یہ تمہاری پہلی غداری ہے۔ انہوں نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔ پہلے تو قبیلہ والوں نے انہیں گھسیٹا اور اپنے ساتھ لے جانے کے لیے زور لگاتے رہے لیکن جب وہ کسی طرح تیار نہ ہوئے تو انہیں وہیں قتل کر دیا اور خبیب اور زید کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ پھر انہیں مکہ میں لا کر بیچ دیا۔ خبیب رضی اللہ عنہ کو تو حارث بن عامر بن نوفل کے بیٹوں نے خرید لیا کیونکہ خبیب رضی اللہ عنہ نے بدر کی جنگ میں حارث کو قتل کیا تھا۔ وہ ان کے یہاں کچھ دنوں تک قیدی کی حیثیت سے رہے۔ جس وقت ان سب کا خبیب رضی اللہ عنہ کے قتل پر اتفاق ہو چکا تو اتفاق سے انہیں دنوں حارث کی ایک لڑکی (زینب) سے انہوں نے موئے زیر ناف صاف کرنے کے لیے استرہ مانگا اور انہوں نے ان کو استرہ بھی دے دیا تھا۔ ان کا بیان تھا کہ میرا لڑکا میری غفلت میں خبیب رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا۔ انہوں نے اسے اپنی ران پر بٹھا لیا۔ میں نے جو اسے اس حالت میں دیکھا تو بہت گھبرائی۔ انہوں نے میری گھبراہٹ کو جان لیا، استرہ ان کے ہاتھ میں تھا۔ انہوں نے مجھ سے کہا، کیا تمہیں اس کا خطرہ ہے کہ میں اس بچے کو قتل کر دوں گا؟ ان شاءاللہ میں ہرگز ایسا نہیں کر سکتا۔ ان کا بیان تھا کہ خبیب رضی اللہ عنہ سے بہتر قیدی میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ میں نے انہیں انگور کا خوشہ کھاتے ہوئے دیکھا حالانکہ اس وقت مکہ میں کسی طرح کا پھل موجود نہیں تھا جبکہ وہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے بھی تھے، تو وہ اللہ کی بھیجی ہوئی روزی تھی۔ پھر حارث کے بیٹے قتل کرنے کے لیے انہیں لے کر حرم کے حدود سے باہر گئے۔ خبیب رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ مجھے دو رکعت نماز پڑھنے کی اجازت دو (انہوں نے اجازت دے دی اور)۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو ان سے فرمایا کہ اگر تم یہ خیال نہ کرنے لگتے کہ میں موت سے گھبرا گیا ہوں تو اور زیادہ نماز پڑھتا۔ خبیب رضی اللہ عنہ ہی پہلے وہ شخص ہیں جن سے قتل سے پہلے دو رکعت نماز کا طریقہ چلا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے ان کے لیے بددعا کی، اے اللہ! انہیں ایک ایک کر کے ہلاک کر دے اور یہ اشعار پڑھے جب کہ میں مسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جا رہا ہوں تو مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ کس پہلو پر اللہ کی راہ میں مجھے قتل کیا جائے گا۔ یہ سب کچھ اللہ کی راہ میں ہے اور اگر وہ چاہے گا تو جسم کے ایک ایک کٹے ہوئے ٹکڑے میں برکت دے گا۔ پھر عقبہ بن حارث نے کھڑے ہو کر انہیں شہید کر دیا اور قریش نے عاصم رضی اللہ عنہ کی لاش کے لیے آدمی بھیجے تاکہ ان کے جسم کا کوئی بھی حصہ لائیں جس سے انہیں پہچانا جا سکے۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے قریش کے ایک بہت بڑے، سردار کو بدر کی لڑائی میں قتل کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے بھڑوں کی ایک فوج کو بادل کی طرح ان کے اوپر بھیجا اور ان بھڑوں نے ان کی لاش کو قریش کے آدمیوں سے محفوظ رکھا اور قریش کے بھیجے ہوئے یہ لوگ (ان کے پاس نہ پھٹک سکے) کچھ نہ کر سکے۔

English Translation

Narrated Abu Huraira: The Prophet sent a Sariya of spies and appointed `Asim bin Thabit, the grandfather of `Asim bin `Umar bin Al-Khattab, as their leader. So they set out, and when they reached (a place) between 'Usfan and Mecca, they were mentioned to one of the branch tribes of Bani Hudhail called Lihyan. So, about one-hundred archers followed their traces till they (i.e. the archers) came to a journey station where they (i.e. `Asim and his companions) had encamped and found stones of dates they had brought as journey food from Medina. The archers said, "These are the dates of Medina," and followed their traces till they took them over. When `Asim and his companions were not able to go ahead, they went up a high place, and their pursuers encircled them and said, "You have a covenant and a promise that if you come down to us, we will not kill anyone of you." `Asim said, "As for me, I will never come down on the security of an infidel. O Allah! Inform Your Prophet about us." So they fought with them till they killed `Asim along with seven of his companions with arrows, and there remained Khubaib, Zaid and another man to whom they gave a promise and a covenant. So when the infidels gave them the covenant and promise, they came down. When they captured them, they opened the strings of their arrow bows and tied them with it. The third man who was with them said, "This is the first breach in the covenant," and refused to accompany them. They dragged him and tried to make him accompany them, but he refused, and they killed him. Then they proceeded on taking Khubaib and Zaid till they sold them in Mecca. The sons of Al-Harith bin `Amr bin Naufal bought Khubaib. It was Khubaib who had killed Al-Harith bin `Amr on the day of Badr. Khubaib stayed with them for a while as a captive till they decided unanimously to kill him. (At that time) Khubaib borrowed a razor from one of the daughters of Al- Harith to shave his pubic hair. She gave it to him. She said later on, "I was heedless of a little baby of mine, who moved towards Khubaib, and when it reached him, he put it on his thigh. When I saw it, I got scared so much that Khubaib noticed my distress while he was carrying the razor in his hand. He said 'Are you afraid that I will kill it? Allah willing, I will never do that,' " Later on she used to say, "I have never seen a captive better than Khubaib Once I saw him eating from a bunch of grapes although at that time no fruits were available at Mecca, and he was fettered with iron chains, and in fact, it was nothing but food bestowed upon him by Allah." So they took him out of the Sanctuary (of Mecca) to kill him. He said, "Allow me to offer a two-rak`at prayer." Then he went to them and said, "Had I not been afraid that you would think I was afraid of death, I would have prayed for a longer time." So it was Khubaib who first set the tradition of praying two rak`at before being executed. He then said, "O Allah! Count them one by one," and added, 'When I am being martyred as a Muslim, I do not care in what way I receive my death for Allah's Sake, because this death is in Allah's Cause. If He wishes, He will bless the cut limbs." Then `Uqba bin Al-Harith got up and martyred him. The narrator added: The Quraish (infidels) sent some people to `Asim in order to bring a part of his body so that his death might be known for certain, for `Asim had killed one of their chiefs on the day of Badr. But Allah sent a cloud of wasps which protected his body from their messengers who could not harm his body consequently.

غزوات کے بیان میں سے مزید احادیث

حدیث نمبر 4417

´ہم سے عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بکر نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ میں نے عطاء سے سنا، انہوں نے خبر دیتے ہوئے کہا کہ مجھے صفوان بن یعلٰی بن امیہ نے خبر دی اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ` میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ عسرت میں شریک تھا۔ بیان کیا کہ یعلٰی رضی اللہ عنہ کہا کرتے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4152

´ہم سے یوسف بن عیسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن فضیل نے ‘ کہا ہم سے حصین بن عبدالرحمٰن نے ‘ ان سے سالم بن ابی الجعد نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` غزوہ حدیبیہ کے موقع پر سارا ہی لشکر پیاسا ہو چکا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک چھاگل تھا ‘ اس کے پانی سے آپ نے وضو کیا۔ پھر صحابہ آپ کی خدمت میں حاضر ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4242

´مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے حرمی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے عمارہ نے خبر دی ‘ انہیں عکرمہ نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` جب خیبر فتح ہوا تو ہم نے کہا اب کھجوروں سے ہمارا جی بھر جائے گا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4358

´ہم سے اسحاق بن شاہین نے بیان کیا، کہا ہم کو خالد بن عبداللہ نے خبر دی، انہیں خالد حذاء نے، انہیں ابوعثمان نہدی رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو غزوہ ذات السلاسل کے لیے امیر لشکر بنا کر بھیجا۔ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (غزوہ سے واپس آ کر) میں نبی کریم ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4182

´ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` آیت «يا أيها النبي إذا جاءك المؤمنات‏» کے نازل ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے آنے والی عورتوں کو پہلے آزماتے تھے اور ان کے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4032

´ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو حبان نے خبر دی، انہیں جویریہ بن اسماء نے، انہیں نافع نے، انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کے باغات جلوا دیئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اسی کے متعلق یہ شعر کہا تھا (ترجمہ) بنو لوی (قریش) ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4119

´ہم سے محمد بن عبداللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` غزوہ احزاب کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام مسلمان عصر کی نماز بنو قریظہ تک پہنچنے کے بعد ہی ادا کریں۔ بعض حضرات کی عصر کی نماز کا وقت راستے ہی میں ہو ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4276

´مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ کہا مجھے زہری نے خبر دی ‘ انہیں عبیداللہ بن عبداللہ اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (فتح کے لیے) مدینہ سے روانہ ہوئے۔ آپ کے ساتھ (دس یا بارہ ہزار کا) لشکر تھا۔ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4111

´ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن حسان نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن سیرین نے ‘ ان سے عبیدہ سلمانی نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے موقع پر فرمایا کہ جس طرح ان کفار نے ہمیں صلوٰۃ وسطیٰ (نماز عصر) نہیں پڑھنے دی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4428

´اور یونس نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عروہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض وفات میں فرماتے تھے کہ خیبر میں (زہر آلود) لقمہ جو میں نے اپنے منہ میں رکھ لیا تھا، اس کی تکلیف آج بھی میں محسوس کرتا ہوں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میری شہ رگ اس زہر کی تکلیف سے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4420

´ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب حجر کے متعلق فرمایا کہ اس «معذب» قوم کی بستی سے جب تمہیں گزرنا ہی ہے تو تم روتے ہوئے گزرو، کہیں تم پر بھی وہ عذاب نہ آ جائے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4003

´ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس بن یزید نے خبر دی، (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا ہم کو احمد بن صالح نے خبر دی، ان سے عنبسہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، ان سے زہری نے، انہیں علی بن حسین (امام زین العابدین) نے خبر دی، انہیں حسین بن علی رضی اللہ عنہما ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4177

´مجھ سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ‘ انہیں زید بن اسلم نے اور انہیں ان کے والد اسلم نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر یعنی (سفر حدیبیہ) میں تھے، رات کا وقت تھا اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ ساتھ تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے کچھ پوچھا لیکن (اس وقت آپ وحی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4088

´ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ستر صحابہ کی ایک جماعت تبلیغ اسلام کے لیے بھیجی تھی۔ انہیں قاری کہا جاتا تھا۔ راستے میں بنو سلیم کے دو قبیلے رعل اور ذکوان نے ایک کنویں کے قریب ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4109

´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق سبیعی نے ‘ ان سے سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احزاب کے موقع پر (جب کفار کا لشکر ناکام واپس ہو گیا) فرمایا کہ اب ہم ان سے لڑیں گے۔ آئندہ وہ ہم پر چڑھ کر کبھی نہ آ سکیں گے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4339

´مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی۔ (دوسری سند) اور مجھ سے نعیم بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے اور ان سے ان کے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4427

´ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے اور ان سے سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے کہ` مجھے یاد ہے، جب میں بچوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کرنے گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس تشریف لا رہے تھے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3958

´ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے اسحاق نے، انہوں نے براء رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ` ہم اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپس میں یہ گفتگو کرتے تھے کہ اصحاب بدر کی تعداد بھی اتنی ہی تھی جتنی اصحاب طالوت کی۔ جنہوں نے آپ کے ساتھ نہر فلسطین پار کی تھی اور ان کے ساتھ نہر کو پار کرنے والے صرف ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4033

´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں مالک بن اوس بن حدثان نصری نے خبر دی کہ` عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں بلایا تھا۔ (وہ بھی امیرالمؤمنین) کی خدمت میں موجود تھے کہ امیرالمؤمنین کے چوکیدار یرفاء آئے اور عرض کیا کہ عثمان بن عفان اور عبدالرحمٰن بن عوف، زبیر بن عوام اور سعد بن ابی وقاص ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4122

´ہم سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` غزوہ خندق کے موقع پر سعد رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے تھے۔ قریش کے ایک کافر شخص ‘ حسان بن عرفہ نامی نے ان پر تیر چلایا تھا اور وہ ان کے بازو کی رگ میں آ کے لگا تھا۔ نبی کریم ..مکمل حدیث پڑھیئے