Surah Ash-Shuara سورة الشعراء Audio Tilawat in Arabic with Urdu Translation

Audio Recitation of Surah Ash-Shuara سورة الشعراء in Arabic with Urdu translation by Shaikh Abd-ur Rahman As-Sudais, Surah Ash-Shuara surah number is 1, and its called Makki Surah of Quran Majeed. You can listen the beautiful Tilawat of this Surah online and also read the Arabic & Urdu text including translation. Download Surah Ash-Shuara MP3 by clicking on the link to share via mobile phone, whatsApp or Facebook etc.
Surah Ash-Shuara In ArabicSurah Ash-Shuara English Translation

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

﴿۱﴾ طٰسٓمٓ

﴿۲﴾ یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں

﴿۳﴾ (اے پیغمبرﷺ) شاید تم اس (رنج) سے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے اپنے تئیں ہلاک کردو گے

﴿۴﴾ اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے نشانی اُتار دیں۔ پھر ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں

﴿۵﴾ اور ان کے پاس (خدائے) رحمٰن کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

﴿۶﴾ سو یہ تو جھٹلا چکے اب ان کو اس چیز کی حقیقت معلوم ہوگی جس کی ہنسی اُڑاتے تھے

﴿۷﴾ کیا انہوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا کہ ہم نے اس میں ہر قسم کی کتنی نفیس چیزیں اُگائی ہیں

﴿۸﴾ کچھ شک نہیں کہ اس میں (قدرت خدا کی) نشانی ہے مگر یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں

﴿۹﴾ اور تمہارا پروردگار غالب (اور) مہربان ہے

﴿۱۰﴾ اور جب تمہارے پروردگار نے موسیٰ کو پکارا کہ ظالم لوگوں کے پاس جاؤ

﴿۱۱﴾ (یعنی) قوم فرعون کے پاس، کیا یہ ڈرتے نہیں

﴿۱۲﴾ انہوں نے کہا کہ میرے پروردگار میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں

﴿۱۳﴾ اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے تو ہارون کو حکم بھیج کہ میرے ساتھ چلیں

﴿۱۴﴾ اور ان لوگوں کا مجھ پر ایک گناہ (یعنی قبطی کے خون کا دعویٰ) بھی ہے سو مجھے یہ بھی خوف ہے کہ مجھ کو مار ہی ڈالیں

﴿۱۵﴾ فرمایا ہرگز نہیں۔ تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ ہم تمہارے ساتھ سننے والے ہیں

﴿۱۶﴾ تو دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہان کے مالک کے بھیجے ہوئے ہیں

﴿۱۷﴾ (اور اس لئے آئے ہیں) کہ آپ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دیں

﴿۱۸﴾ (فرعون نے موسیٰ سے کہا) کیا ہم نے تم کو کہ ابھی بچّے تھے پرورش نہیں کیا اور تم نے برسوں ہمارے ہاں عمر بسر (نہیں) کی

﴿۱۹﴾ اور تم نے وہ کام کیا تھا جو کیا اور تم ناشکرے معلوم ہوتے ہو

﴿۲۰﴾ (موسیٰ نے) کہاں (ہاں) وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں تھا

﴿۲۱﴾ تو جب مجھے تم سے ڈر لگا تو تم میں سے بھاگ گیا۔ پھر خدا نے مجھ کو نبوت وعلم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا

﴿۲۲﴾ اور (کیا) یہی احسان ہے جو آپ مجھ پر رکھتے ہیں کہ آپ نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے

﴿۲۳﴾ فرعون نے کہا کہ تمام جہان مالک کیا

﴿۲۴﴾ کہا کہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا مالک۔ بشرطیکہ تم لوگوں کو یقین ہو

﴿۲۵﴾ فرعون نے اپنے اہالی موالی سے کہا کہ کیا تم سنتے نہیں

﴿۲۶﴾ (موسیٰ نے) کہا کہ تمہارا اور تمہارے پہلے باپ دادا کا مالک

﴿۲۷﴾ (فرعون نے) کہا کہ (یہ) پیغمبر جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے باؤلا ہے

﴿۲۸﴾ موسیٰ نے کہا کہ مشرق اور مغرب اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا مالک، بشرطیکہ تم کو سمجھ ہو

﴿۲۹﴾ (فرعون نے) کہا کہ اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تمہیں قید کردوں گا

﴿۳۰﴾ (موسیٰ نے) کہا خواہ میں آپ کے پاس روشن چیز لاؤں (یعنی معجزہ)

﴿۳۱﴾ فرعون نے کہا اگر سچے ہو تو اسے لاؤ (دکھاؤ)

﴿۳۲﴾ پس انہوں نے اپنی لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت صریح اژدہا بن گئی

﴿۳۳﴾ اور اپنا ہاتھ نکالا تو اسی دم دیکھنے والوں کے لئے سفید (براق نظر آنے لگا)

﴿۳۴﴾ فرعون نے اپنے گرد کے سرداروں سے کہا کہ یہ تو کامل فن جادوگر ہے

﴿۳۵﴾ چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو (کے زور) سے تمہارے ملک سے نکال دے تو تمہاری کیا رائے ہے؟

﴿۳۶﴾ انہوں نے کہا کہ اسے اور اس کے بھائی (کے بارے) میں کچھ توقف کیجیئے اور شہروں میں ہرکارے بھیج دیجیئے

﴿۳۷﴾ کہ سب ماہر جادوگروں کو (جمع کرکے) آپ کے پاس لے آئیں

﴿۳۸﴾ تو جادوگر ایک مقررہ دن کی میعاد پر جمع ہوگئے

﴿۳۹﴾ اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکھٹے ہو کر جانا چاہیئے

﴿۴۰﴾ تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہوجائیں

﴿۴۱﴾ جب جادوگر آگئے تو فرعون سے کہنے لگے اگر ہم غالب رہے تو ہمیں صلہ بھی عطا ہوگا؟

﴿۴۲﴾ فرعون نے کہا ہاں اور تم مقربوں میں بھی داخل کرلئے جاؤ گے

﴿۴۳﴾ موسیٰ نے ان سے کہا کہ جو چیز ڈالنی چاہتے ہو، ڈالو

﴿۴۴﴾ تو انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں اور کہنے لگے کہ فرعون کے اقبال کی قسم ہم ضرور غالب رہیں گے

﴿۴۵﴾ پھر موسیٰ نے اپنی لاٹھی ڈالی تو وہ ان چیزوں کو جو جادوگروں نے بنائی تھیں یکایک نگلنے لگی

﴿۴۶﴾ تب جادوگر سجدے میں گر پڑے

﴿۴۷﴾ (اور) کہنے لگے کہ ہم تمام جہان کے مالک پر ایمان لے آئے

﴿۴۸﴾ جو موسیٰ اور ہارون کا مالک ہے

﴿۴۹﴾ فرعون نے کہا کیا اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے، بےشک یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔ سو عنقریب تم (اس کا انجام) معلوم کرلو گے کہ میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں اطراف مخالف سے کٹوا دوں گا اور تم سب کو سولی پر چڑھوا دوں گا

﴿۵۰﴾ انہوں نے کہا کہ کچھ نقصان (کی بات) نہیں ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ جانے والے ہیں

﴿۵۱﴾ ہمیں امید ہے کہ ہمارا پروردگار ہمارے گناہ بخش دے گا۔ اس لئے کہ ہم اول ایمان لانے والوں میں ہیں

﴿۵۲﴾ اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو رات کو لے نکلو کہ (فرعونیوں کی طرف سے) تمہارا تعاقب کیا جائے گا

﴿۵۳﴾ تو فرعون نے شہروں میں نقیب راونہ کئے

﴿۵۴﴾ (اور کہا) کہ یہ لوگ تھوڑی سی جماعت ہے

﴿۵۵﴾ اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں

﴿۵۶﴾ اور ہم سب باسازو سامان ہیں

﴿۵۷﴾ تو ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا

﴿۵۸﴾ اور خزانوں اور نفیس مکانات سے

﴿۵۹﴾ (ان کے ساتھ ہم نے) اس طرح (کیا) اور ان چیزوں کا وارث بنی اسرائیل کو کر دیا

﴿۶۰﴾ تو انہوں نے سورج نکلتے (یعنی صبح کو) ان کا تعاقب کیا

﴿۶۱﴾ جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے ساتھی کہنے لگے کہ ہم تو پکڑ لئے گئے

﴿۶۲﴾ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں میرا پروردگار میرے ساتھ ہے وہ مجھے رستہ بتائے گا

﴿۶۳﴾ اس وقت ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی دریا پر مارو۔ تو دریا پھٹ گیا۔ اور ہر ایک ٹکڑا (یوں) ہوگیا (کہ) گویا بڑا پہاڑ (ہے)

﴿۶۴﴾ اور دوسروں کو وہاں ہم نے قریب کردیا

﴿۶۵﴾ اور موسیٰ اور ان کے ساتھ والوں کو تو بچا لیا

﴿۶۶﴾ پھر دوسروں کو ڈبو دیا

﴿۶۷﴾ بےشک اس (قصے) میں نشانی ہے۔ لیکن یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں

﴿۶۸﴾ اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

﴿۶۹﴾ اور ان کو ابراہیم کا حال پڑھ کر سنا دو

﴿۷۰﴾ جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ تم کس چیز کو پوجتے ہو

﴿۷۱﴾ وہ کہنے لگے کہ ہم بتوں کو پوجتے ہیں اور ان کی پوجا پر قائم ہیں

﴿۷۲﴾ ابراہیم نے کہا کہ جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمہاری آواز کو سنتے ہیں؟

﴿۷۳﴾ یا تمہیں کچھ فائدے دے سکتے یا نقصان پہنچا سکتے ہیں؟

﴿۷۴﴾ انہوں نے کہا (نہیں) بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے

﴿۷۵﴾ ابراہیم نے کہا کیا تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو

﴿۷۶﴾ تم بھی اور تمہارے اگلے باپ دادا بھی

﴿۷۷﴾ وہ میرے دشمن ہیں۔ مگر خدائے رب العالمین (میرا دوست ہے)

﴿۷۸﴾ جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی مجھے رستہ دکھاتا ہے

﴿۷۹﴾ اور وہ جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے

﴿۸۰﴾ اور جب میں بیمار پڑتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے

﴿۸۱﴾ اور جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا

﴿۸۲﴾ اور وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ قیامت کے دن میرے گناہ بخشے گا

﴿۸۳﴾ اے پروردگار مجھے علم ودانش عطا فرما اور نیکوکاروں میں شامل کر

﴿۸۴﴾ اور پچھلے لوگوں میں میرا ذکر نیک (جاری) کر

﴿۸۵﴾ اور مجھے نعمت کی بہشت کے وارثوں میں کر

﴿۸۶﴾ اور میرے باپ کو بخش دے کہ وہ گمراہوں میں سے ہے

﴿۸۷﴾ اور جس دن لوگ اٹھا کھڑے کئے جائیں گے مجھے رسوا نہ کیجیو

﴿۸۸﴾ جس دن نہ مال ہی کچھ فائدہ دے سکا گا اور نہ بیٹے

﴿۸۹﴾ ہاں جو شخص خدا کے پاس پاک دل لے کر آیا (وہ بچ جائے گا)

﴿۹۰﴾ اور بہشت پرہیزگاروں کے قریب کردی جائے گی

﴿۹۱﴾ اور دوزخ گمراہوں کے سامنے لائی جائے گی

﴿۹۲﴾ اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم پوجتے تھے وہ کہاں ہیں؟

﴿۹۳﴾ یعنی جن کو خدا کے سوا (پوجتے تھے) کیا وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں

﴿۹۴﴾ تو وہ اور گمراہ (یعنی بت اور بت پرست) اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دیئے جائیں گے

﴿۹۵﴾ اور شیطان کے لشکر سب کے سب (داخل جہنم ہوں گے)

﴿۹۶﴾ وہ آپس میں جھگڑیں گے اور کہیں گے

﴿۹۷﴾ کہ خدا کی قسم ہم تو صریح گمراہی میں تھے

﴿۹۸﴾ جب کہ تمہیں (خدائے) رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے

﴿۹۹﴾ اور ہم کو ان گنہگاروں ہی نے گمراہ کیا تھا

﴿۱۰۰﴾ تو (آج) نہ کوئی ہمارا سفارش کرنے والا ہے

﴿۱۰۱﴾ اور نہ گرم جوش دوست

﴿۱۰۲﴾ کاش ہمیں (دنیا میں) پھر جانا ہو تم ہم مومنوں میں ہوجائیں

﴿۱۰۳﴾ بےشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں

﴿۱۰۴﴾ اور تمہارا پروردگار تو غالب اور مہربان ہے

﴿۱۰۵﴾ قوم نوح نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

﴿۱۰۶﴾ جب ان سے ان کے بھائی نوح نے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں

﴿۱۰۷﴾ میں تو تمہارا امانت دار ہوں

﴿۱۰۸﴾ تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

﴿۱۰۹﴾ اور اس کام کا تم سے کچھ صلہ نہیں مانگتا۔ میرا صلہ تو خدائے رب العالمین ہی پر ہے

﴿۱۱۰﴾ تو خدا سے ڈرو اور میرے کہنے پر چلو

﴿۱۱۱﴾ وہ بولے کہ کیا ہم تم کو مان لیں اور تمہارے پیرو تو رذیل لوگ ہوتے ہیں

﴿۱۱۲﴾ نوح نے کہا کہ مجھے کیا معلوم کہ وہ کیا کرتے ہیں

﴿۱۱۳﴾ ان کا حساب (اعمال) میرے پروردگار کے ذمے ہے کاش تم سمجھو

﴿۱۱۴﴾ اور میں مومنوں کو نکال دینے والا نہیں ہوں

﴿۱۱۵﴾ میں تو صرف کھول کھول کر نصیحت کرنے والا ہوں

﴿۱۱۶﴾ انہوں نے کہا کہ نوح اگر تم باز نہ آؤ گے تو سنگسار کردیئے جاؤ گے

﴿۱۱۷﴾ نوح نے کہا کہ پروردگار میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا

﴿۱۱۸﴾ سو تو میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا فیصلہ کردے اور مجھے اور جو میرے ساتھ ہیں ان کو بچا لے

﴿۱۱۹﴾ پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے، ان کو بچا لیا

﴿۱۲۰﴾ پھر اس کے بعد باقی لوگوں کو ڈبو دیا

﴿۱۲۱﴾ بےشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

﴿۱۲۲﴾ اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

﴿۱۲۳﴾ عاد نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

﴿۱۲۴﴾ جب ان سے ان کے بھائی ہود نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں

﴿۱۲۵﴾ میں تو تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں

﴿۱۲۶﴾ تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

﴿۱۲۷﴾ اور میں اس کا تم سے کچھ بدلہ نہیں مانگتا۔ میرا بدلہ (خدائے) رب العالمین کے ذمے ہے

﴿۱۲۸﴾ بھلا تم ہر اونچی جگہ پر نشان تعمیر کرتے ہو

﴿۱۲۹﴾ اور محل بناتے ہو شاید تم ہمیشہ رہو گے

﴿۱۳۰﴾ اور جب (کسی کو) پکڑتے ہو تو ظالمانہ پکڑتے ہو

﴿۱۳۱﴾ تو خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

﴿۱۳۲﴾ اور اس سے جس نے تم کو ان چیزوں سے مدد دی جن کو تم جانتے ہو۔ ڈرو

﴿۱۳۳﴾ اس نے تمہیں چارپایوں اور بیٹوں سے مدد دی

﴿۱۳۴﴾ اور باغوں اور چشموں سے

﴿۱۳۵﴾ مجھ کو تمہارے بارے میں بڑے (سخت) دن کے عذاب کا خوف ہے

﴿۱۳۶﴾ وہ کہنے لگے کہ ہمیں خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو ہمارے لئے یکساں ہے

﴿۱۳۷﴾ یہ تو اگلوں ہی کے طریق ہیں

﴿۱۳۸﴾ اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا

﴿۱۳۹﴾ تو انہوں نے ہود کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔ بےشک اس میں نشانی ہے۔ اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

﴿۱۴۰﴾ اور تمہارا پروردگار تو غالب اور مہربان ہے

﴿۱۴۱﴾ (اور) قوم ثمود نے بھی پیغمبروں کو جھٹلا دیا

﴿۱۴۲﴾ جب ان سے ان کے بھائی صالح نے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں؟

﴿۱۴۳﴾ میں تو تمہارا امانت دار ہوں

﴿۱۴۴﴾ تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

﴿۱۴۵﴾ اور میں اس کا تم سے بدلہ نہیں مانگتا۔ میرا بدلہ (خدا) رب العالمین کے ذمے ہے

﴿۱۴۶﴾ کیا وہ چیزیں (تمہیں یہاں میسر) ہیں ان میں تم بےخوف چھوڑ دیئے جاؤ گے

﴿۱۴۷﴾ (یعنی) باغ اور چشمے

﴿۱۴۸﴾ اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف ونازک ہوتے ہیں

﴿۱۴۹﴾ اور تکلف سے پہاڑوں میں تراش خراش کر گھر بناتے ہو

﴿۱۵۰﴾ تو خدا سے ڈرو اور میرے کہنے پر چلو

﴿۱۵۱﴾ اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو

﴿۱۵۲﴾ جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے

﴿۱۵۳﴾ وہ کہنے لگے کہ تم تو جادو زدہ ہو

﴿۱۵۴﴾ تم اور کچھ نہیں ہماری طرح آدمی ہو۔ اگر سچے ہو تو کوئی نشانی پیش کرو

﴿۱۵۵﴾ صالح نے کہا (دیکھو) یہ اونٹنی ہے (ایک دن) اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمہاری باری

﴿۱۵۶﴾ اور اس کو کوئی تکلیف نہ دینا (نہیں تو) تم کو سخت عذاب آ پکڑے گا

﴿۱۵۷﴾ تو انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے

﴿۱۵۸﴾ سو ان کو عذاب نے آن پکڑا۔ بےشک اس میں نشانی ہے۔ اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

﴿۱۵۹﴾ اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

﴿۱۶۰﴾ (اور قوم) لوط نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

﴿۱۶۱﴾ جب ان سے ان کے بھائی لوط نے کہا کہ تم کیوں نہیں ڈرتے؟

﴿۱۶۲﴾ میں تو تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں

﴿۱۶۳﴾ تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

﴿۱۶۴﴾ اور میں تم سے اس (کام) کا بدلہ نہیں مانگتا۔ میرا بدلہ (خدائے) رب العالمین کے ذمے ہے

﴿۱۶۵﴾ کیا تم اہل عالم میں سے لڑکوں پر مائل ہوتے ہو

﴿۱۶۶﴾ اور تمہارے پروردگار نے جو تمہارے لئے تمہاری بیویاں پیدا کی ہیں ان کو چھوڑ دیتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم حد سے نکل جانے والے ہو

﴿۱۶۷﴾ وہ کہنے لگے کہ لوط اگر تم باز نہ آؤ گے تو شہر بدر کردیئے جاؤ گے

﴿۱۶۸﴾ لوط نے کہا کہ میں تمہارے کام کا سخت دشمن ہوں

﴿۱۶۹﴾ اے میرے پروردگار مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں (کے وبال) سے نجات دے

﴿۱۷۰﴾ سو ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو سب کو نجات دی

﴿۱۷۱﴾ مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی

﴿۱۷۲﴾ پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا

﴿۱۷۳﴾ اور ان پر مینھہ برسایا۔ سو جو مینھہ ان (لوگوں) پر (برسا) جو ڈرائے گئے برا تھا

﴿۱۷۴﴾ بےشک اس میں نشانی ہے۔ اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

﴿۱۷۵﴾ اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے۔

﴿۱۷۶﴾ اور بن کے رہنے والوں نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

﴿۱۷۷﴾ جب ان سے شعیب نے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں؟

﴿۱۷۸﴾ میں تو تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں

﴿۱۷۹﴾ تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

﴿۱۸۰﴾ اور میں اس کام کا تم سے کچھ بدلہ نہیں مانگتا میرا بدلہ تو خدائے رب العالمین کے ذمے ہے

﴿۱۸۱﴾ (دیکھو) پیمانہ پورا بھرا کرو اور نقصان نہ کیا کرو

﴿۱۸۲﴾ اور ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو

﴿۱۸۳﴾ اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور ملک میں فساد نہ کرتے پھرو

﴿۱۸۴﴾ اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور پہلی خلقت کو پیدا کیا

﴿۱۸۵﴾ وہ کہنے لگے کہ تم جادو زدہ ہو

﴿۱۸۶﴾ اور تم اور کچھ نہیں ہم ہی جیسے آدمی ہو۔ اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو

﴿۱۸۷﴾ اور اگر سچے ہو تو ہم پر آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر گراؤ

﴿۱۸۸﴾ شعیب نے کہا کہ جو کام تم کرتے ہو میرا پروردگار اس سے خوب واقف ہے

﴿۱۸۹﴾ تو ان لوگوں نے ان کو جھٹلایا، پس سائبان کے عذاب نے ان کو آ پکڑا۔ بےشک وہ بڑے (سخت) دن کا عذاب تھا

﴿۱۹۰﴾ اس میں یقیناً نشانی ہے۔ اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

﴿۱۹۱﴾ اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

﴿۱۹۲﴾ اور یہ قرآن (خدائے) پروردگار عالم کا اُتارا ہوا ہے

﴿۱۹۳﴾ اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اُترا ہے

﴿۱۹۴﴾ (یعنی اس نے) تمہارے دل پر (القا) کیا ہے تاکہ (لوگوں کو) نصیحت کرتے رہو

﴿۱۹۵﴾ اور (القا بھی) فصیح عربی زبان میں (کیا ہے)

﴿۱۹۶﴾ اور اس کی خبر پہلے پیغمبروں کی کتابوں میں (لکھی ہوئی) ہے

﴿۱۹۷﴾ کیا ان کے لئے یہ سند نہیں ہے کہ علمائے بنی اسرائیل اس (بات) کو جانتے ہیں

﴿۱۹۸﴾ اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اُتارتے

﴿۱۹۹﴾ اور وہ اسے ان (لوگوں کو) پڑھ کر سناتا تو یہ اسے (کبھی) نہ مانتے

﴿۲۰۰﴾ اسی طرح ہم نے انکار کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کردیا

﴿۲۰۱﴾ وہ جب تک درد دینے والا عذاب نہ دیکھ لیں گے، اس کو نہیں مانیں گے

﴿۲۰۲﴾ وہ ان پر ناگہاں آ واقع ہوگا اور انہیں خبر بھی نہ ہوگی

﴿۲۰۳﴾ اس وقت کہیں گے کیا ہمیں ملہت ملے گی؟

﴿۲۰۴﴾ تو کیا یہ ہمارے عذاب کو جلدی طلب کر رہے ہیں

﴿۲۰۵﴾ بھلا دیکھو تو اگر ہم ان کو برسوں فائدے دیتے رہے

﴿۲۰۶﴾ پھر ان پر وہ (عذاب) آ واقع ہو جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے

﴿۲۰۷﴾ تو جو فائدے یہ اٹھاتے رہے ان کے کس کام آئیں گے

﴿۲۰۸﴾ اور ہم نے کوئی بستی ہلاک نہیں کی مگر اس کے لئے نصیحت کرنے والے (پہلے بھیج دیتے) تھے

﴿۲۰۹﴾ نصیحت کردیں اور ہم ظالم نہیں ہیں

﴿۲۱۰﴾ اور اس (قرآن) کو شیطان لے کر نازل نہیں ہوئے

﴿۲۱۱﴾ یہ کام نہ تو ان کو سزاوار ہے اور نہ وہ اس کی طاقت رکھتے ہیں

﴿۲۱۲﴾ وہ (آسمانی باتوں) کے سننے (کے مقامات) سے الگ کر دیئے گئے ہیں

﴿۲۱۳﴾ تو خدا کے سوا کسی اور معبود کو مت پکارنا، ورنہ تم کو عذاب دیا جائے گا

﴿۲۱۴﴾ اور اپنے قریب کے رشتہ داروں کو ڈر سنا دو

﴿۲۱۵﴾ اور جو مومن تمہارے پیرو ہوگئے ہیں ان سے متواضع پیش آؤ

﴿۲۱۶﴾ پھر اگر لوگ تمہاری نافرمانی کریں تو کہہ دو کہ میں تمہارے اعمال سے بےتعلق ہوں

﴿۲۱۷﴾ اور (خدائے) غالب اور مہربان پر بھروسا رکھو

﴿۲۱۸﴾ جو تم کو جب تم (تہجد) کے وقت اُٹھتے ہو دیکھتا ہے

﴿۲۱۹﴾ اور نمازیوں میں تمہارے پھرنے کو بھی

﴿۲۲۰﴾ بےشک وہ سننے اور جاننے والا ہے

﴿۲۲۱﴾ (اچھا) میں تمیں بتاؤں کہ شیطان کس پر اُترتے ہیں

﴿۲۲۲﴾ ہر جھوٹے گنہگار پر اُترتے ہیں

﴿۲۲۳﴾ جو سنی ہوئی بات (اس کے کام میں) لا ڈالتے ہیں اور وہ اکثر جھوٹے ہیں

﴿۲۲۴﴾ اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کیا کرتے ہیں

﴿۲۲۵﴾ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں سر مارتے پھرتے ہیں

﴿۲۲۶﴾ اور کہتے وہ ہیں جو کرتے نہیں

﴿۲۲۷﴾ مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے اور خدا کو بہت یاد کرتے رہے اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد انتقام لیا اور ظالم عنقریب جان لیں گے کہ کون سی جگہ لوٹ کر جاتے ہیں