Hatim Tai Aur Ghareeb Lakarhara - Article No. 1874

حاتم طائی اور غریب لکڑہارا

میں نے اس کے سر سے بوجھ اتارنے کے لئے اپنے ہاتھ بڑھائے،تو وہ فوراً پیچھے ہٹ گیا۔پھر اس نے اپنا بوجھ زمین پر رکھا اور کہنے لگا انسان کو اپنا بوجھ خود سنبھالنا چاہیے،لوگوں کے کاندھوں پہ سوار ہو کر تو صرف قبر کی طرف جایا جاتا ہے

ہفتہ جنوری

Hatim Tai Aur Ghareeb Lakarhara
آج سے سینکڑوں برس پہلے عرب کے ایک قبیلے میں حاتم نامی شخص پیدا ہوا۔وہ اتنا سخی تھا کہ اس کی سخاوت کے قصے دنیا بھر میں مشہور ہوئے۔اس کے دروازے پر جو شخص بھی آیا،اپنی ضرورت پوری کرکے گیا۔ کہتے ہیں اسے اپنے ایک گھوڑے سے بہت پیار تھا۔
گھوڑا بھی اپنے مالک کا وفادار تھا۔ایک روز آدھی رات کے قریب اس کے گھر میں چند مہمان آگئے۔اتفاق کی بات کہ اس وقت حاتم کے پاس اپنے مہمانوں کی دعوت کے لئے کچھ نہیں تھا اور رات کے وقت اس کا انتظام بھی بہت مشکل تھا۔حاتم طائی نے اپنا پسندیدہ گھوڑا ذبح کرکے مہمانوں کی دعوت کر ڈالی اور مہمان نوازی کی لاج رکھ لی۔

ایک مرتبہ اس نے عرب کے سرداروں کی دعوت کی۔اس روز چالیس اونٹ ذبح کیے گئے۔دعوت ختم ہوئی،سردار آپس میں اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے لگے۔

(جاری ہے)

گفتگو حاتم طائی کی سخاوت کے متعلق ہونے لگی۔
ایک سردار نے کہا”حاتم جیسا فراغ دل آج تک پیدا نہیں ہوا اور نہ ہو گا۔


”کیوں نہ یہ سوال حاتم سے کیا جائے․․․!“
ایک سردار نے کہا۔
چنانچہ حاتم سے پوچھا گیا کہ اس نے اپنے آپ سے زیادہ سختی اور عظیم انسان دیکھا یا سنا ہے․․․․؟
حاتم کافی دیر تک سر جھکا کر سوچتا رہا اور پھر مسکرا کر بولا”بہت زیادہ مال و دولت لٹانے کا نام سخاوت نہیں۔
میرے نزدیک سخی اور عظیم انسان وہ ہے جو اپنے بڑے سے بڑے فائدے کے لئے،کسی کا چھوٹے سے چھوٹا احسان بھی قبول نہ کرے۔میں نے اپنی زندگی میں ایسا شخص دیکھا جس کا دل میرے دل سے بہت بڑا تھا۔“
”وہ ضرور کسی ملک کا بادشاہ ہو گا،جس کے پاس بہت بڑا خزانہ ہو گا۔
“سرداروں نے بیک آواز کہا۔
”نہیں دوستو!ایسی کوئی بات نہیں۔“
حاتم طائی نے جواب دیا۔”وہ تو ایک لکڑہارا تھا۔“تمام سرداروں نے حیرت سے ایک میزبان کو دیکھا تو حاتم نے کہا کہ:”ایک روز میں نے سارے شہر کی دعوت کی،مہمانوں کو کھلانے پلانے کے بعد میں جنگل کی طرف نکل گیا۔
وہاں میں نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا۔اس نے اپنے سر پر لکڑیوں کا ایک بھاری گٹھر اُٹھا رکھا تھا،جس کے بوجھ سے اس کی کمر جھکی جا رہی تھی۔اس کے پھٹے پرانے کپڑے پسینے میں بھیگے ہوئے تھے۔میں نے ترس کھا کر اس کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا اور کہا”بابا جی!میں آپ سے چند باتیں کرنا چاہتا ہوں۔

یہ کہہ کر میں نے اس کے سر سے بوجھ اتارنے کے لئے اپنے ہاتھ بڑھائے،تو وہ فوراً پیچھے ہٹ گیا۔پھر اس نے اپنا بوجھ زمین پر رکھا اور کہنے لگا۔
”انسان کو اپنا بوجھ خود سنبھالنا چاہیے،لوگوں کے کاندھوں پہ سوار ہو کر تو صرف قبر کی طرف جایا جاتا ہے۔

”مگر بابا جی!آپ اس عمر میں اتنی محنت کیوں کر رہے ہیں․․․؟“
”تو پھر مجھے کیا کرنا چاہیے․․․․؟“اس غیرت مند لکڑہارے نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
”آپ کے شہر میں حاتم طائی رہتا ہے۔وہ سینکڑوں انسانوں کو ہر روز کھانا کھلاتا ہے۔
آپ اس کے دروازے پر کیوں نہیں جاتے!“
یہ سن کرلکڑہارے نے گھور کر مجھے دیکھا اور بڑی بے نیازی سے کہا”حاتم کے دو ہاتھ ہیں،خدا نے مجھے بھی دو ہاتھ عطا فرمائے ہیں۔کتنے شرم کی بات ہے کہ میں اس کی کمائی ہوئی روٹی کھاؤں۔
کسی کا احسان اٹھانے سے بہتر ہے کہ میں بے جان لکڑیوں کا گٹھا سر پر اٹھا لوں۔“
سب سردار حیران ہو کر حاتم کو دیکھنے لگے تو حاتم نے کہا”وہ غریب انسان مجھ سے بڑے دل کا مالک تھا۔“
پیارے بچو․․․․․!دوسروں پر انحصار کرنے کی بجائے اپنے ہاتھ سے رزق کمانا باعث عزت ہے۔

مزید سو بڑے لوگ

Maulana Muhammad Ali

مولانا محمد علی

Maulana Muhammad Ali

Zardasht

زردشت

Zardasht

Noor Jahan Begum

نور جہاں بیگم

Noor Jahan Begum

Maulana Jalaluddin Rumi

مولانا جلال الدین رومی

Maulana Jalaluddin Rumi

Nikolai Lenin

نکولائی لینن

Nikolai Lenin

Syed Abdul Qadir Jilani RA

سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ

Syed Abdul Qadir Jilani RA

Hazrat Abu Bakar Siddique RTA

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ

Hazrat Abu Bakar Siddique RTA

Leonardo

لیونارڈو

Leonardo

Albert Einstein

البرٹ آئن سٹائن

Albert Einstein

Quaid E Azam Muhammad Ali Jinnah RA

قائداعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ

Quaid E Azam Muhammad Ali Jinnah RA

Florence Nightingale

فلارنس نائٹ انگیل

Florence Nightingale

Bu Ali Sina

بو علی سینا

Bu Ali Sina

Your Thoughts and Comments