Aik Sardar

ایک سردار

ایک سردار پہاڑ کی سیر کو گئے۔ ان کے سر میں سمائی کہ پہاڑ کی چوٹی تک پہنچا جائے۔ چڑھائی چڑھتے چڑھتے ان کا پاوٴں پھسلا اور نیچے لڑھکنے لگے۔ اچانک اس کا ہاتھ ایک جھاڑی پر پڑا اور وہ اسے دبوچ کر رک گئے‘ نیچے نگاہ دوڑائی تو ہزاروں فٹ گہری کھائی بہت پریشانی کے عالم میں لٹکے آوازیں دیتے رہے مگر وہاں کوئی ہوتا تو ان کی آواز سنتا۔ اچانک ان کے دل میں سمائی کہ ”واہ گرو“ کو یاد کیا جائے۔ وہ ہی آخری سہرا ہے۔ ”ہائے واہ گرو! میں نے زندگی میں بہت گناہ کئے ہیں مگر اس وقت موت کے چنگل میں پھنسا ہوں مجھے بچا لے۔“ اچانک آواز گونجی۔ ”جھاڑی کو ہاتھ سے چھوڑ دے۔“ سر دار آواز سن کر گھبرائے اور کہنے لگے۔ ”میں ہاتھ کیسے چھوڑ دوں ہزاروں فٹ گہری کھائی ہے نیچے گر اتو مر جاوٴں گا۔“ اوپر سے پھر آواز آئی۔ ”جب تو مدد مانگ رہا ہے توپھر جو کہا جا رہا ہے وہ کر جھاڑی چھوڑ دے۔“ سردار نے چند لمحے غور کیا اور پھر چلا کر بولے۔ ”یہاں کوئی اور ہے جو میری مدد کو آئے۔“

Your Thoughts and Comments