Dehati Lurkai Nai

دیہاتی لڑکے نے

دیہاتی لڑکے نے شہر آ کر کچھ پیسے کما لئے تو باپ کو گھمانے پھرانے کے لئے شہر بلا لیا۔ دن بھر خوب سیر کرنے کے بعد لڑکے نے باپ کو مزید مرعوب کرنے کے لئے کرائے کے اپنے چھوٹے سے معمولی کمرے میں ٹھہرانے کی بجائے ایک شاندار ہوٹل کے کمرے میں ٹھہرایا۔ ہوٹل کے کمرے کے ساتھ اٹیچڈ باتھ تھا۔ صبح بیٹا باپ سے ملنے پہنچا تو داد طلب لہجے میں پوچھنے لگا۔ ”کمرہ کیسا ہے ابا جی! رات آرام سے گزری نا؟“ کمر ہ تو بہت اچھا ہے برخودار! بستر بھی بہت اچھا ہے باپ نے جمائیاں لیتے ہوئے جواب دیا۔ ”لیکن ایک بڑی مشکل تھی ۔غسل خانے کا راستہ میرے کمرے سے ہی ہو کر گزرتا تھا۔ میں بس اس خیال سے ساری رات جاگتا رہا کہ اگر ہوٹل میں ٹھہرے کسی بھی مسافر کو حاجت محسوس ہوئی یا کسی کا نہانے کا ارادہ ہوا تو وہ آ کر دروازہ کھٹھکھٹا دے گا۔“

Your Thoughts and Comments