Dhakka

دھکا

کشتی کے ذریعے کچھ عورتیں اور مرد دریا پار کر رہے تھے۔ ان میں ایک سکھ نوجوان بھی شامل تھا۔ کشتی جو نہی دریا کے وسط میں پہنچی ایک عورت کا بچہ دریا میں گر گیا۔ اس نے چلانا شروع کر دیا کہ خدا کے لئے کوئی میرے بچے کو بچائے۔ اچانک سکھ نوجوان دریا میں کو د پڑا۔ اس نے کافی محنت اور جدوجہد کے بعد بچے کو بچا لیا اور اٹھا کر کنارے پر لے آیا۔ لوگوں نے خوشی سے تالیاں بجائیں اور سکھ نوجوان زندہ باد کے نعرے لگائے، اور کہا کہ تم نے واقعی اپنی جان پر کھیل کر ایک ماں کے بہنے والے آنسوؤں کو روکا ہے، اس کی آنکھ کا تارا اس سے ملایا ہے۔ سکھ نوجوان غصے سے دانت پیستے ہوئے بولا۔ ”یہ فضول باتیں بعد میں کرنا، پہلے یہ بتاؤ کہ مجھے دھکا کس نے دیا تھا ؟“

Your Thoughts and Comments