Ghutno Ke Bal - Joke No. 1412

گھٹنوں کے بل - لطیفہ نمبر 1412

قبرستان میں ایک شخص گھٹنوں کے بل کھڑا ایک کتبے کو پکڑے دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا۔ ”تم کیوں مر گئے۔ ہائے میرے نصیب پھوٹے تھے تمہیں نہیں مرنا چاہیے تھا۔ تم اگر نہ مرتے تو تمہارا کیا بگڑ جاتا۔“قریب سے ایک شخص گزر رہا تھا اسے اس طرح دھاڑ یں مار مار کر روتے دیکھ کر رک گیا اور کہنے لگا۔ ”صبر کرو۔ لگتا ہے تمہارا کوئی بہت ہی پیارا رشتہ دار تھا۔“ ”نہیں میری بیوی کا پہلا خاوند تھا۔ “ دوسرے نے دھاڑ یں مارتے ہوئے جواب دیا۔

مزید لطیفے

آدمی اور ڈاکٹر

aadmi aur doctor

کسی فقیر نے

Kisi faqeer nay

کنکر

kankar

ماہرنفسیات

Mahir e Nafsiyat

استاد شاگرد سے

ustaad shagird se

ایک عورت

aik aurat

بیٹا ماں سے

Beta maa se

سردار جی

Sardar jee

گڑھا

Garha

صحیح اندازہ

sahih andaza

شاعر

Shayar

کیڑے مکوڑے

Keeray Makoray

Your Thoughts and Comments