Kankar - Joke No. 722

کنکر - لطیفہ نمبر 722

مشاعرے میں ایک شاعر اپنا کلام سنا رہے تھے۔ ”زمیں کے زرو‘ فلک کے تارو“ اس کے بعد وہ بھول گئے۔ حاضرین چھوٹے چھوٹے کنکر اٹھا اٹھا کر مارنے لگے‘ اس شاعر نے پھر یوں مصرعہ مکمل کیا… ”اُلوکے پٹھو پتھر نہ مارو“

مزید لطیفے

”یار دنیا سے ایمانداری بالکل ختم ہو گئی ہے

yar duniya se imandari bilkul khatam ho gayi hai

ناراضگی کی خط و کتابت

narazgi ki khat o kitabat

ہیلو

hello

رشید

Rasheed

کیوں؟

kyun

شادی

Shaadi

استاد نے شاگرد سے کہا

Ustaad ne shagird se kaha

تھانے میں

thanay main

ایک فقیر

Aik faqeer

جیلرقیدی سے

Jailor qaidi se

تسبیح

tasbih

کوچوان

kochwan

Your Thoughts and Comments