Maa Aur Hamid - Joke No. 392

ماں اور حامد - لطیفہ نمبر 392

ماں بیٹے کو جھنجھوڑ کر اٹھاتے ہوئے بولیں: ” حامد! جلدی اُٹھو بیٹا‘ اسکول سے دیر ہو رہی ہے“۔ حامد : ” امی! میں اسکول نہیں جاوٴں گا وہاں کوئی مجھے پسند نہیں کرتا بچے مجھ سے نفرت کرتے ہیں استاد میرا مذاق اُڑاتے ہیں۔ اسکول کا سارا سٹاف مجھے نا پسند کرتا ہے“۔ امی جان نے پریشان ہو کر کہا : ” مگر بیٹا! اب تم چالیس سال کے ہو گئے ہو اور اسکول کے ہیڈ ماسٹر ہو تم نہیں جاوٴ گے تو اسکول اسمبلی میں خطاب کون کرے گا“۔

مزید لطیفے

بلڈنگ کی اٹھارہویں منزل

building ki atharvi manzil

قابل ڈاکٹر

qabil doctor

سمجھ دار بیٹا

samajh daar beta

نفسیات کی کلا س

Nafsiyat ki class

ایک عورت

Aik Aurat

امتحان

imtehan

مبارک باد

Mubarak baad

پینٹ

pant

اورنگزیب کی وفات

aurangzeb ki wafat

کہاں گری تھی؟

kahan giri thi?

استاد اور شاگرد

Ustaad aur shagird

ایک آدمی دوسرے سے

Aik admi dusre se

Your Thoughts and Comments