Neelam Ghar - Joke No. 877

نیلام گھر - لطیفہ نمبر 877

ایک نیلام گھر میں دوسری بہت سی چیزوں کے علاوہ پنجرے میں بند ایک طوطا بھی رکھا تھا۔ ایک شخص نے طوطا پسند کیا اور پانچ روپے بولی دی لیکن حیرت انگیز طور پر بولی چڑھنے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے دو سو روپے پر جا رکی۔ سودا طے ہو جانے کے بعد اس شخص نے پنجرہ اٹھاتے ہوئے کہا۔ ”یہ طوطا مجھے دو سو روپے میں مہنگا پڑا ہے۔ خدا جانے یہ بولتا ہے یا نہیں“ ”جناب! آپ کے مقابلے پر یہی طوطا بولی دے رہا تھا۔“ نیلام گھر کا مالک بولا۔

مزید لطیفے

کمینہ

kamena

امیدوار

umeedwar

مالکن

malikan

بیٹا

Beta

بند آنکھوں سے ڈرائیو

band aankhon se drive

کنجوس بیٹا باپ سے`

Kanjoos beta baap sai

محفل موسیقی

mehfil e mausiqi

ڈاکٹر

doctor

ایک جہاز کے ڈوبنے کا خطرہ

aik jahez ke doobne ka khatra

ایم بی بی ایس

MBBS

وسیم اکرم

wasim akram

ڈرائیوری کا امتحان

drivery ka imthehaan

Your Thoughts and Comments

>