Qeemat - Joke No. 1205

قیمت - لطیفہ نمبر 1205

ایک روز ملا بازار گیا تو دیکھا کہ وہاں بڑی تعداد میں پرندے بک رہے تھے۔ ایک ایک پرندے کی قیمت پانچ پانچ سو روپے پڑ رہی تھی۔ ملا نے سوچا کہ میرے پاس جو پرندہ ہے وہ تو ان سے بڑا ہے اور یقیناً اس کی قیمت بھی زیادہ ہو گی۔ اگلے روز وہ اپنی مرغی لے کر بازار پہنچ گیا لیکن کوئی بھی اس کے پچاس روپے بھی دینے کے لیے تیار نہ ہوا۔ ملا کو غصہ آیا اور چیخنے لگا۔ ”لوگو! یہ کتنی بے غیرتی کی بات ہے کہ کل تم اس سے کئی گنا چھوٹے پرندے دس گنا قیمت پر خرید رہے تھے۔“

مزید لطیفے

ڈاکٹر

Doctor

ارشد

Arshad

اپنے منہ میاں مٹھو

apne munh mian mithu

کنکر

kankar

شرمانے کی ایکٹنگ

sharmane ki acting

آوارہ شوہر

awara shohar

میرا نام اخبار

mera naam akhbar

افسر

afsar

دو خواتین

Do khawateen

فلم

Film

استاد

Ustaad

ایک جج

Aik judge

Your Thoughts and Comments