Sajid Naweed Sai

ساجد نوید سے

ساجد (نوید سے) :”تم نے چرچہ کیسا دیا؟“۔ نوید :”کیا بتاوٴں یار بس سارا خالی دے کر آیا ہوں‘ اچھا ساجد ”تم سناوٴ پرچہ کیسا ہوا؟“۔ ساجد:”بھئی! آخر تمھارا دوست ہوں خالی پرچہ دے کر آیا ہوں“۔ نوید:”ارے! ارے! غضب ہو گیا‘ سر سمجھیں گے کہ ہم دونوں نے نقل کی ہے“۔

Your Thoughts and Comments