Tthanai Mai

تھانے میں

تھانے میں فون موصول ہوا کہ ایک شخص حبیب بنک پلازہ کی آخری منزل تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا ہے اور وہاں سے کود کر خودکشی کرنا چاہتا ہے۔ علاقے کا ایس ایچ او بھاگم بھاگ وہاں پہنچا اور اس شخص کو مخاطب کرتے ہوئے بولا۔ ”خود کشی مت کرو اپنی روح کا خیال کرو کہ تم تو ختم ہو جاوٴ گے مگر وہ ہمیشہ سزا بھگتی رہی گی۔“ میں دہر یہ ہوں۔ اس شخص نے جواب دیا۔ ”اپنی بیوی اور اپنے معصوم بچوں کا خیال کرو۔“ ”میں غیر شادی شدہ ہوں“ اپنے والدین کا خیال کرو ”میرے ماں باپ مر چکے ہیں۔ پھر بھی زندگی بڑی قیمتی ہے اسے ہنسی خوشی گزارو گھومو پھیرو‘ تفریح کرو ”گھومنے پھرنے کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔“ تو پھر وی سی آر او رڈش پرانڈین فلمیں دیکھو۔ ”انڈین فلموں وی سی آر اور ڈش تینوں کا مخالف ہوں۔“ کیا واقعی تم انڈین فلموں وی سی آر اور ڈش کے مخالف ہو؟“ ہاں تینوں کا مخالف ہوں“ تو پھر دیر کس بات کی ہے ”نیچے چھلانگ کیوں نہیں لگاتے کم بخت!“ ایس ایچ او نے غصے سے دانت پیستے ہوئے کہا۔

Your Thoughts and Comments