100 Bars Ki Naani

100 Bars Ki Naani

سو برس کی نانی

بچپن، نا سمجھی اور نادانی کادور ہوتاہے ۔ نہایت کم سنی میں لہک لہک کر گایا گیا یہ شعر یقینا سننے والوں کی سمجھ میں نہیں آئے گا کہ بارش کے ساتھ سو برس کی نانی کا کیا جوڑ بنتا ہے، مگر آج ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ کیسے بنتا ہے

اُمِ عادل:
”اللہ میاں بارش دے بارش دے۔ بارش نہیں تو سو برس کی نانی دے۔“
بچپن، نا سمجھی اور نادانی کادور ہوتاہے ۔ نہایت کم سنی میں لہک لہک کر گایا گیا یہ شعر یقینا سننے والوں کی سمجھ میں نہیں آئے گا کہ بارش کے ساتھ سو برس کی نانی کا کیا جوڑ بنتا ہے، مگر آج ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ کیسے بنتا ہے۔
ہمارے بچپن میں معمولی سی پھوار بھی پڑتی یا کالی گھٹائیں چھاتیں تو ہم نادان بچے جھوم جھوم کر یہ بے ربط شعر گا گا کر نہ صرف گھر، بلکہ پورا محلہ سر پر اٹھالیتے۔
ایک ایسے ہی حسین موسم میں جب بادل گھٹا بن کر برسنے کو تیار تھے۔
مین اپنی امی جان کے ساتھ خالہ جان کے گھر سے واپس آرہی تھی کہ اچانک بارش شروع ہوگئی۔ جیسے ہی ہم بس سے اُترے موسلا دھار بارش شروع ہوگئی۔

(جاری ہے)

بارش اتنی زور دار تھی کہ راستہ چلنا مشکل ہوگیا۔
ابھی ہم اپنے گھر سے دو گلیاں دور تھے کہ ایک گھر کی کھڑکی میں کھڑی ایک خاتون نے ہمیں آواز دے کر کہا: ”بارش بہت تیز ہے۔

بارش کے تھمنے تک آپ اندر آجائیے۔“ خاتون نے ہمارا جواب سنے بغیر جھٹ دروازہ کھول دیا۔
امی جان نے بھی یہی مناساب سمجھا اور خاتون خانہ کی دعوت قبول کرتے ہوئے گھر کے اندر چلی گئیں۔ خاتون ہمیں ڈرائنگ روم میں بٹھانا چاہتی تھیں، مگر گیلے کپڑوں کی وجہ سے امی جان نے انکار کرتے ہوئے برآمدے میں بچھی چارپائی پر بیٹھنے کو ترجیح دی۔
ہماری آوازیں سن کر اندر سے ایک نہایت عمر رسیدہ، مگر چاق چوبند بوڑھی خاتون بھی برآمدے میں آگئیں۔ دروازہ کھولنے والی خاتون نے اپنا نام خالدہ بتاتے ہوئے کہا کہ یہ میری والدہ ہیں۔ میں ان کی واحد اولاد ہوں، یہ میرے ساتھ، بلکہ میں انکے ساتھ رہتی ہوں۔
یہ انہی کا گھر ہے، میرے تین بچوں کی نانی ہیں، جن کی وجہ سے علاقے کی نانی کہلاتی ہیں۔ پچھلے برس میں شوہر کا انتقال ہوگیا۔ میں ایک سرکاری اسکول میں ٹیچر ہوں۔ ہم تو اس علاقے میں عرصہ دراز سے رہتے ہیں اور میری والدہ علاقے کے بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم دیتی ہیں۔
اپنی خوشی سے کوئی جتنا دے دے، وہ قبول کرلیتی ہیں۔ انہوں نے کوئی فیس مقرر نہیں کررکھی۔ انہی کی وجہ سے کافی دور دور تک ہماری جان پہچان ہے۔ اپنا او راپنی والدہ کا تعارف کر کے انہوں نے امی سے پوچھا: ”آپ کو اس علاقے میں پہلی بار دیکھا ہے۔
کیا آپ کسی کے گھر مہمان آئی ہیں؟“
”نہیں ہم دراصل پچھلے ہی مہینے دو گلیاں آگے کرائے کے گھر میں شفٹ ہوئے ہیں، اس لیے زیادہ لوگوں سے جان پہچان نہیں، مگر آپ سے اور نانی اماں سے ملک کر بہت خوشی ہورہی ہے۔
میری دو بچیاں ہیں۔
اس نئے علاقے میں آنے اور اسکول میں داخلے کے بعد میں ان کی قرآنی تعلیم کی طرف سے فکر مند تھی، مگر آپ سے اور نانی سے ملک کر لگتا ہے کہ اللہ کے فضل سے یہ مسئلہ بھی حل ہوگیا ہے۔ نانی اماں کس وقت بچوں کو پڑھاتی ہیں۔ اگر ان کی اجازت ہو تو کل سے میری دونوں بچیاں نانی اماں سے قرآن پاک پڑھنے آجایا کریں؟“ امی جان نے تفصیل سے جواب دے کر پوچھا۔

”ہاں ہاں، کیوں نہیں، ہمارے دروازے تو پورے اہل محلہ کیلئے کھلے ہیں۔ آپ کل دوپہر کے بعد تین بچے تک بچیوں کو بھیج دیں۔“ آنٹی خالدہ چائے بھی بنا لائیں اور نہایت آرار اور اخلاص سے ہمیں چائے پلائی۔
بادل جم کر برسنے کے بعد تھم چکے تھے۔
امی نے رخصت کی اجازت چاہی۔ دوسرے دن تین بجے امی جان مجھے اور باجی آمنہ کو لے کر کانی کے گھر آئیں، جہاں پہلے ہی بہت سارے بچوں کو نانی اماں پڑھانے میں مصروف تھیں۔ امی نے کچھ رقم نانی اماں کی مٹھی میں دبائی اور ہمیں نانی اماں کے پاس چھوڑ کر خدا حافظ کہہ کر گھر چلی گئیں۔

نانی اماں کے پاس پڑھائی کے دوران ہمیں اندازہ ہوا کہ نانی اماں نہایت شفیق، محبت کرنے والی خاتون ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اصول پرست، وقت کی پابند اور پڑھائی کے معاملے میں ایک سخت گیر استاد ہیں۔ پڑھائی اور پابندی وقت کے معاملے میں وہ ذراسی بھی چھوٹ نہیں دیتی تھیں۔
یہ سچ ہے کہ وقت کی پابندی میں نے نانی اماں ہی سے سیکھی ہے۔ نانی اماں برآمدے میں بیٹھ کر بچوں کو پڑھاتیں۔ برآمدے میں کچھ کیاریاں تھیں، جن میں نانی امان نے خوبصورت پھول دار پودے اور سبزیاں اُگارکھی تھیں، جن کے قریب جانے اور چھونے کی ہم بچوں کو بالکل اجازت نہیں تھی۔

نانی کو اپنے پھولوں اور پودوں سے اتنی محبت تھی کہ ان کا ایک پتا بھی ٹوٹنے پر وہ تڑپ اُٹھتی تھیں۔ ایسے میں گلی میں ہر وقت کرکٹ کھیلنے والے لڑکوں کی گیند جب ہم بچوں پر یا پودوں میں آکر گرتی تو نانی سخت جلال میں آجاتیں۔
ان کا اصول تھا کہ آنے اولی گیند ہر گز واپس نہ کرتیں، بلکہ اسے اٹھا کر ایک پرانے بکس میں ڈال دیتیں اور دروازے پر جا کر ان لڑکوں کو اپنی کڑک دار آواز میں ڈانٹتے ہوئے کھیل کو د اور آوارہ گردی چھوڑ کر پڑھائی میں دل لگانے کی نصیحت کرتیں، مگر ان لڑکوں پر کچھ اثر نہ ہوتا۔
وہ اپنی نہ ملنے والی گیند کو روپیٹ کر نئی گیند لینے چل دیتے، پھی اگرلی بار وہ گیند بھی نانی کے گھر آنے کے جرم میں بکس میں ہمیشہ کیلئے قید کردی جاتی۔
نانی اماں اس بڑھاپے میں بھی اپنے کام خود اپنے ہاتھوں سے انجام دیتیں۔
وہ اپنے کپڑوں کی دھلائی اور مرمت بھی خود ہی کرتیں، سوئی میں دھاگا ہم بچیوں سے ڈلواتیں۔ ایک مرتبہ ہم نے آنتی خالدہ سے پوچھا کہ نانی اماں کی عمر کتنی ہے؟ اس دن نانی اماں کی طبیعت خراب تھی، اس لئے وہ اپنے کمرے میں سو رہی تھیں۔

آنٹی خالدہ نے بتایا خیر سے اماں کی عمر ایک کم سو سال یعنی ننانوے برس ہوگئی ہے۔ اگلے برس ان شاء اللہ پورے سو برس کی ہوجائیں گی۔ ہمیں اپنا پھر وہی شعر یاد آنے لگا: ”اللہ میاں بارش دے، بارش دے۔ بارش نہیں تو سو برس کی نانی دے۔

آنٹی نے بتایا سب محلے والوں نے نانی کی عمر سو سال پورے ہونے پر ایک جشن کا پروگرام بنایا ہے، تم سب بھی آنا، بہت مزا آئے گا۔ وقت اپنی رفتار سے گزرا اور نانی اماں سے صحت مندی کے ساتھ اپنی عمر کی سنچری مکمل کرلی۔ محلے والوں نے محلے کے بیچوں بیچ بڑا سا اسٹیج بنایا اور پروگرام میں محلے کے ہر گھر نے مالی تعاون کیا۔
اسٹیج کو بہت خوبصورتی سے سجایا گیا۔ بہت بڑا کیک بنوایا گیا۔ پورے محلے کے مردوں، عورتوں اور بچوں ن ے بھرپور شرکت کی۔ نانی اماں اور ان کے گھر والوں دے صد سالہ جشن کے موقع پر سب نے مبارک باد دی۔ ہر کوئی اپنے ساتھ نانی اماں کیلئے مختلف تحفے لایا۔
پورا اسٹیج تحفوں سے بھر گیا۔
سب نے مل کر نانی اماں کی درازی عمر اور صحت کے گیت گائے۔ نانی اماں سب محلے والوں کو جھولی بھر بھر کر دعائیں دے رہی تھی۔ پورا محلہ امن، محبت، یکجہتی کا دل کش منظر پیش کررہا تھا۔ سب خوش تھے۔
کوئی کسی سے ناراض نہ تھا۔ سب کے کھانے کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔ جیسے ہی سب کھانے سے فارغ ہوئے، اچانک بادل جھوم کے آئے اور دیکھتے ہی دیکھتے چھم چھم برسنا شروع کردیا۔ ایسے میں بے اختیار میرے لبوں پر وہی شعر ”اللہ میں بارش دے، بارش دے۔
سو برس کی نانی دے، نای دے“ آگیا بس پھر کیا تھا، ادھر بادل جھوم رہے تھے۔ ادھر تمام محلے کے چھوٹے بڑے ہمارے ساتھ جھوم جھوم کرگارہے تھے ”اللہ میاں بارش دے بارش دے۔ سو برس کی نانی دے ، نانی دے۔“
آج ہمارا بچپن کا بے ربط شعر حقیقت بن گیا۔
بارانِ رحمت بھی تھی اور ہم سے کے پاس سو برس کی نانی بھی تھیں۔ ہم سب بچے لہک لہک کر گانے کے ساتھ بھاگ بھاگ کر نانی اماں کو ملنے والے تحائف ان کے گھر پہنچارہے تھے۔ موجودہ دور کی کشیدہ صورت حال میں اب بچپن کی یادوں ک ے خوب صورت اور قیمتی لمحات انمول خزانے سے کم نہیں۔

Your Thoughts and Comments