Aazm Our Hosla

Aazm Our Hosla

عزم اور حوصلہ

فاسٹ فوڈ ز آج کل دنیا میں بے حد مقبول ہے کئی کمپنیاں یہ غذا تیار کرتی ہیں ان میں سے ایک کمپنی کے بانی ایک امریکی کرنل” ہار لینڈ سینڈرز“ تھے۔ مال دار ہونے کے باوجود ہار لینڈ نے اپنی زندگی کے کچھ اُصول بنا رکھے تھے۔ وہ صبح پانچ بجے بستر چھوڑ دیتے۔

شکیل صدیقی:
فاسٹ فوڈ ز آج کل دنیا میں بے حد مقبول ہے کئی کمپنیاں یہ غذا تیار کرتی ہیں ان میں سے ایک کمپنی کے بانی ایک امریکی کرنل” ہار لینڈ سینڈرز“ تھے۔ مال دار ہونے کے باوجود ہار لینڈ نے اپنی زندگی کے کچھ اُصول بنا رکھے تھے۔

وہ صبح پانچ بجے بستر چھوڑ دیتے۔ پھر ایک ایک گھنٹے کے لیے اپنے گرین ہاو¿س میں جاتے۔ انھیں تازہ سبزیاں کھانے کا شوق تھا چناں چہ وہ وہاں اپنی پسندگی سبزیاں اُگایا کرتے تھے۔ اس کے بعد وہ پارک میں جا کر چہل قدمی کرتے اس کے بعد غسل کر کے ناشتہ کرتے۔
اپنے ریستور ان کے چکن کا معیار دیکھنے کے لیے وہ ساری دنیا کا سفر کرتے رہتے تھے تاکہ چکن کی کوالٹی میںکمی نہ ہو، ایک انٹرویو کے دوران کسی ان سے سوال کیا کہ وہ اس بڑھاپے میں اتنا کام کیوں کرتے ہیں؟۔

(جاری ہے)

انھوں نے جواب دیا کہ کام مجھے کبھی نہیں تھکاتا۔

اگر میں کام نہیں کروں گا تو مجھ پر زنگ چڑھ جائے گا کام کرتے رہیے اور کوشش کیجئے کہ آپ پر زنگ نہ چڑھے۔ کرنل ہارلینڈ نے مفلسی میں زندگی بسر کی ،مگر ماں کی نصیحت یاد رکھی اور کبھی حوصلہ نہیں ہارا۔ ان کی والدہ نے کہا تھا کہ اگر تم محنت مشقت کرتے رہے تو ایک نہ ایک روز تمہارے حالات ضرور تبدیل ہوں گے۔
قدرت محنت کا صلہ ضرور دیتی ہے۔ وہ 1890ءمیں ”ہنری وائل“ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد چوں کہ کسان تھے اس لیے انھوں نے بھی کھیتی باڑی شروع کر دی۔ جب چھے برس کے تھے تو والد کا انتقال ہو گیا۔ وہ تین بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔
جب والدہ کام پر چلی جاتیں تو کھانا پکاتے، اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی نگرانی کرتے اور گھر کے سارے کام کر ڈالتے۔ آٹھ بر س تک ان کا یہ معمول تھا اس لیے انھوں نے سارے امریکی کھانے پکانا سیکھ لیے تھے۔
جب بارہ برس کے ہوئے تو بسوں میں کنڈیکٹری شروع کر دی جب جوان ہوئے تو فوج میں بھری ہو گئے اور کیوبا کے محاذ پر لڑنے لگے واپس امریکہ آئے تو فون کی ملازمت چھوڑی اور کئی طرح کی نوکریاں کیں، جن میں ریلوے کا فائرمین، بیمہ ایجنٹ، گاڑیوں کے ٹائر فروخت کرنا اور سب سے آخر میں پیٹرول پیمپ پر آپریٹر کی حیثیت سے کام کرنا شامل ہے۔
اس وقت جب کہ اں کی عمر 40 برس ہو چکی تھی، وہ اپنی تنخواہ میں سے بچا بچا کر خاصی رقم جمع کر چکے تھے ایک روز انھوں سے سوچا، کیوں نہ پیٹرول پمپ پر آنے والے گاہکوں کو لنچ باکس (غذائی ڈبے) فروخت کریں۔ لمبے سفر کے دوران مسافروں کو بھوک لگنے لگتی ہے۔
وہ یقینا لنچ باکس خرید لیں گے۔ انھوں نے سوچا، ایسے ڈبے وہ گھر میں تیار کر سکتے ہیں اور پھر جب ان کے لنچ باکس زیادہ تعداد میں فروخت ہونے لگے تو انھوں نے پیٹرول پمپ کی ملازمت چھوڑ دی اور چھوٹا ساریسٹورنٹ کھول لیا۔ ان کے تلے ہوئے چکن کھانے کے لیے لوگ دور دور سے آنے لگے۔
ریسٹورنٹ تو مشہور ہو گیا، لیکن ہارلینڈ کے لیے بہت سے مصائب پیدا ہو گئے۔ ریسٹورنٹ میں آنے والے گاہک آرڈر دینے کے بعد خاموش نہیں بیٹھتے تھے اور جلدی جلدی کا شور مچانا شروع کر دیتے ہارلینڈ کے لیے یہ صورتِ حال پریشان کن تھی ۔
انھوں نے سوچ سمجھ کر اس کا یہ حل نکالا کہ بازار سے جا کر ایک پریشر ککر خرید لائے۔ یہ 1939ءکا زمانہ تھا اور پریشر ککر بازار میں چند ماہ پہلے ہی آیا تھا۔ وہ پریشر ککر کے استعمال سے چکن آٹھ منٹ میں تیار کرنے لگے۔
چند برس میں ریسٹورنٹ کافی بڑا ہو گیا اور وہاں ایک وقت میں تقریباََ ڈیڑھ سوگاہک بیٹھنے لگے۔
گاہکوں کے بیٹھنے کی گنجائش بڑھی تو ان کی آمدنی بھی بڑھ گئی، مگر ایک مصیبت اور اُٹھ کھڑی ہوئی کہ ہارلینڈ کا ریسٹورنٹ جس سڑک پر واقع تھا اسے توڑ کر نئی سڑک بنانے کی منظوری دے دی گئی۔ حکومت نے ان کے ریسٹورنٹ کو اونے داموں خرید کر رقم انھیں تھما دی۔
یہ رقم اتنی کم تھی کہ وہ کسی اور جگہ جا کر نیا ریسٹورنٹ نہ کھول سکے، بلکہ مقروض ہو گے اب ان کی عمر چھپا سٹھ برس تھی اور وہ ایک بار پھر خالی ہاتھ ہو گئے۔ہارلینڈ کے پاس ایک ہی مہارت تھی کہ وہ چکن کو انوکھے طریقے سے تیار کر سکتے تھے ۔
انہوں نے اپنا سامان اپنی پرانی کار میں لادا اور ایک ریسٹورنٹ پر جا کر اس کے مالک سے بات کی:” میں تمہارے اور تمہارے عملے لیے چکن فرائی کرنا چاہتا ہون ۔ا گر وہ تمہیں ذائقے دار لگے تو میں تمہیں اسے فرائی کرنے کا طریقہ بتا دوں گا۔
پھر جب تمہارے ریسٹورنٹ سے یہ چکن فروخت ہوں تو تم فی چکن4سینٹ مجھے معاوضہ ادا کر دینا بولو منظور ہے؟“
مالک نے یہ سودا منظور کر لیا تھوڑے عرصے میں ہارلینڈ کو خاصی آمدنی ہو گئی تو انھوں نے خود ایک ریسٹورنٹ کھل لیا۔1964ءتک ان کی آمدنی بہت بڑھ گئی اور انھوں نے بہت سی جگہوں پر ریسٹورنٹ کھول لیے، جن سے انھیں سالانہ 3کروڑ 70لاکھ ڈال آمدی ہونے لگی۔ان کے ریسٹورنٹ کا نام Kantiki Friad Chichen(KFC) تھا۔ ہارلینڈ کا انتقال 1980ءمیں 90برس کی عمر میں ہوا۔

Your Thoughts and Comments