Aazmaish - Article No. 881

آزمائش

کسی گاوٴں میں رحیم نامی کسان رہتا تھا۔ وہ بہت نیک دل اور ایماندار تھا۔ اپنی ہی خوبیوں کی وجہ سے گاوٴں بھر میں مشہور تھا۔ لوگ اپنی چیزیں امانت کے طور پر اس کے پاس رکھواتے تھے۔ ایک دن معمول کے مطابق صبح سویرے کھیتوں میں ہل چلانے کے لیے جا رہا تھا کہ راستے میں اسے ایک تھیلی نظر آئی

پیر جنوری

Aazmaish
کسی گاوٴں میں رحیم نامی کسان رہتا تھا۔ وہ بہت نیک دل اور ایماندار تھا۔ اپنی ہی خوبیوں کی وجہ سے گاوٴں بھر میں مشہور تھا۔ لوگ اپنی چیزیں امانت کے طور پر اس کے پاس رکھواتے تھے۔ ایک دن معمول کے مطابق صبح سویرے کھیتوں میں ہل چلانے کے لیے جا رہا تھا کہ راستے میں اسے ایک تھیلی نظر آئی۔
اس نے ادھر ادھر دیکھ کر تھیلی اٹھالی۔ اس نے تھیلی کھول کر دیکھی تو وہ اشرفیوں سے بھری ہوئی تھی۔ کسان تھیلی لے کر کھیتوں میں جانے کے بجائے گھر واپس آگیا اور اپنی بیوی کو بتادیا ۔ جب اس کی بیوی کو یہ معلوم ہوا کہ اس میں اشرفیاں ہیں تو اس کے دل میں لالچ آگیا۔
اس نے اپنے شوہر سے کہا۔" ہم یہ تھیلی رکھ لیتے ہیں اور فوراً یہاں سے چلے جاتے ہیں ، شہر جاکر ہم بڑا سا گھر بنائیں گے اور اس میں آرام سے رہیں گے۔

(جاری ہے)

" بیوی کے کہنے کے باوجود کسان لالچ میں نہ آیا اور کہنے لگا۔
"نہیں ! میں ایسا نہیں کرسکتا ، میں اس تھیلی کے مالک کو ڈھونڈ کر اشرفیاں اس تک پہنچاوٴں گا۔

"
"یہ تھیلی تمہیں راستہ میں ملی ہے ، تم نے کوئی چوری تو نہیں کی؟" اس کی بیوی اسے تھیلی رکھنے کے لیے جواز پیش کررہی تھی۔ مگر کسان نے بیوی کی بات نہ مانی اور تھیلی لے کر باہر کی طرف چل پڑا ۔ راستے میں اسے گاوٴں کا چودھری ملا۔
وہ کسان کے پاس آیا اور پوچھنے لگا۔ "تم اس وقت کھیتوں میں کام کرنے کے بجائے یہاں نظر آ رہے ہو ، خیریت تو ہے؟"
کسان نے تمام واقعہ چودھری کو بتایا اور کہا " میں اس تھیلی کے مالک کو ڈھونڈ رہا ہوں تاکہ اس کی امانت اس تک پہنچا دوں۔
"
اس کی بات سن کر چودھری مسکرایا اور بولا۔ "یہ تھیلی تمہارا انعام ہے۔"
یہ سن کر کسان حیران ہوا اور حیرت زدہ ہوکر بولا۔ "انعام ! مگر کیوں۔۔؟"
چودھری نے جواب دیا۔"میں نیگاوٴں بھر میں تمہاری ایمانداری کے چرچے سنے تھے ، اس لئے میں نے یہ تھیلی تمہارے راستے میں رکھ دی تھی کیونکہ صبح سویرے اتنی جلدی تمہارے یہاں سے کوئی نہیں گزرتا،"
"مگر کیوں۔
۔؟" کسان نے پوچھا۔
تمہاری ایمانداری کو آزمانے کے لیے اب یہ تھیلی تمہارا انعام ہے۔ "چودھری نے کہا: کسان کے لاکھ منع کرنے کے باوجود چودھری نے وی تھیلی اس سے نہ لی۔
کسان خوشی خوشی گھر آیا۔ اس نے اشرفیوں کی تھیلی اپنی بیوی کو دی اور کہا۔

"اگر میں تمہارے کہنے پر لالچ کرتا تو ہرگز ہزگز انعام میں یہ تھیلی نہ ملتی۔" پھر اس نے چودھری سے ہونے والی گفتگو اپنی بیوی کو بتادی۔
کسان نے کچھ اشرفیاں غریبوں کو دیں اور بیوی کو لے کر شہر چلا گیا۔ وہاں اس نے ایک گھر خریدا اور کاروبار کرکے خوش وخرم زندگی گزارنے لگا۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Samundari Pariyaan - Qist 2

سمندری پریاں (قسط 2)

Samundari Pariyaan - Qist 2

Dolat Aur Zindagi

دولت اور زندگی

Dolat Aur Zindagi

Raqam Kahn Se Aayi

رقم کہاں سے آئی

Raqam Kahn Se Aayi

Ammi Ka Dopata

امی کا دوپٹہ

Ammi Ka Dopata

Bhool Bhulakar

بھول بھلکڑ

Bhool Bhulakar

Tashkent Ka Lakarhara

تاشقند کا لکڑ ہارا

Tashkent Ka Lakarhara

Ilm Ka Khazana

علم کا خزانہ

Ilm Ka Khazana

Chacha Sheikhi Baaz

چچا شیخی باز

Chacha Sheikhi Baaz

Phans Giya Kanjoos

پھنس گیا کنجوس

Phans Giya Kanjoos

Adhoori EID

ادھوری عید

Adhoori EID

Samundari Pariyaan

سمندری پریاں

Samundari Pariyaan

Mangita Or Larena - Akhri Qist

منگیتا اور لارینا آخری قسط

Mangita Or Larena - Akhri Qist

Your Thoughts and Comments