Adal E Jahangiri - Article No. 1734

عدل جہانگیری

جہانگیر نے دربار کے قاضی سے پوچھا کہ اس معاملے میں شریعت اسلامی کا کیا حکم ہے ؟”قاضی نے فتویٰ دیا کہ شریعت میں قتل کی سزا قتل ہے۔“

منگل 2 جون 2020

adal e jahangiri
جاوید جمال گوشی
برصغیر پاک وہند میں مغلوں کا دور حکومت ”سنہری زمانہ“ کہلاتا ہے ۔نور الدین سلیم جہانگیر کا عدل مشہور ہے۔ اس نے اپنے محل کے باہر زنجیر عدل لٹکا رکھی ہے۔ کوئی بھی فریادی اور مفلوم اس زنجیر کو کھینچ کر بادشاہ سے انصاف حاصل کر سکتا تھا۔
اس سلسلے میں کسی چھوٹے بڑے کی تمیز نہ تھی۔مہر انساء نور جہاں جہانگیر کی چہیتی ملکہ تھی۔ اسے بڑی قدر ومنزلت حاصل تھی یہاں تک کہ وہ شاہی فرمان بھی جاری کر سکتی تھی ۔بہت کم عورتوں کو ایسا اقتدار ملا۔ ایک دن نور جہاں اپنے محل کی بالکنی میں بیٹھی ہوئی بیرونی منظر سے لطف اندوز ہو رہی تھی کہ ایک شامت کا مارا راہ گیر محل کے نیچے سے گزرا۔

اچانک اس کی نظر نور جہاں پر پڑی تو وہ ٹمنکی باندھ کر اسے دیکھنے میں محو ہو گیا ۔

(جاری ہے)

نور جہاں نے اسے گستاخی سمجھتے ہوئے اس راہ گیر پر تیر چلا دیا اور وہ مر گیا۔ مرنے والا راہ گیر ایک دھوبی تھا۔ اس کی بیوی کو خبر ہوئی تو وہ سر پیٹ کر رہ گئی وہ بیوہ اور اس کے بچے یتیم ہو چکے تھے ۔

یہ صدمہ اس کے لئے ناقابل برداشت تھا۔ وہ ایک مظلوم عورت تھی اور انصاف کی طلب گار تھی اسے اپنے بادشاہ جہانگیر کے عدل وانصاف پر پورا اعتماد تھا چنانچہ اس نے محل پر پہنچ کر زنجیر عدل کھینچی۔ جہانگیر نے اس کی فریاد سنی اور اسے مکمل انصاف کا یقین دلایا۔

جہانگیر نے ملکہ نور جہاں کو دربار میں طلب کیا ۔وہ ایک عام ملزم کی طرح پیش ہوئی ۔جہانگیر نے نور جہاں کا بیان لیا۔ اس نے اعتراض کر لیا کہ وہ واقعی قاتلہ ہے اس نے راہ گیر کو قتل کیا ہے کیونکہ وہ گستاخی کا مرتکب ہوا تھا۔
جہانگیر نے دربار کے قاضی سے پوچھا کہ اس معاملے میں شریعت اسلامی کا کیا حکم ہے ؟”قاضی نے فتویٰ دیا کہ شریعت میں قتل کی سزا قتل ہے۔“ جہانگیر نے قاضی کا فتویٰ سن کر فرمان جاری کیا کہ ملزمہ کو گرفتار کرکے لایا جائے اور اسے پھانسی پہ چڑھا دیا جائے ۔
شاہی فرمان سن کر دربار میں سنانا چھا گیا ۔نور جہاں کو گرفتار کرکے لے جانے لگے تو اس نے کہا کہ ”شریعت قتل کے بدلے خون بہا کی بھی تو اجازت دیتی ہے۔“
اس پر جہانگیر نے دوبارہ قاضی سے فتویٰ پوچھا۔ قاضی نے کہا کہ ”خون بہا کی اس صورت میں اجازت ہے کہ مقتول کے قریبی رشتہ دار رضا مند ہوں ۔
“مقتول کی بیوہ دربار میں موجود تھی ۔وہ عدل وانصاف کا یہ مظاہرہ دیکھ کر متاثر ہوئی ۔وہ بولی جہاں پناہ!”مجھے انصاف مل گیا ہے ۔میں اپنے شوہر کا خون معاف کرتی ہوں۔“ ملکہ نور جہاں نے اسے زرد جواہر سے مالا مال کر دیا۔بچو! اس سے ہمیں یہ اخلاقی سبق ملتا ہے کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Oat Patang

اوٹ پٹانگ

Oat Patang

Wardat

واردات

Wardat

Karoon Ka Khazana

قارون کا خزانہ

Karoon Ka Khazana

Purane Zamane K Janwar Kaise Thay

پرانے زمانے کے جانور کیسے تھے

Purane Zamane K Janwar Kaise Thay

Zid Ka Anjaam

ضد کا انجام

Zid Ka Anjaam

Parindon Ka Badshah

پرندوں کا بادشاہ

Parindon Ka Badshah

Shehzadoon Ka Imtehan

شہزادوں کا امتحان

Shehzadoon Ka Imtehan

Gulehri Or Darakhat

گلہری اور درخت

Gulehri Or Darakhat

Prize Bond

پرائز بانڈ

Prize Bond

Azadi Ka Tohfa

آزادی کا تحفہ

Azadi Ka Tohfa

Nanhi Chiyunti

ننھی چیونٹی

Nanhi Chiyunti

Buri Sohbat

بُری صحبت

Buri Sohbat

Your Thoughts and Comments