Aik Amanat

ایک امانت

چند سال پہلے انھوں نے اپنی آبائی حویلی جو باغ کے ساتھ واقع تھی،اسے ایک اسکول کی شکل دے دی تھی ۔ حویلی میں انھو ں نے اپنے والد کے

جمعرات دسمبر

aik amanat

نذیر انبالوی
دفتر کے کمیٹی روم میں انتظامات مکمل تھے ۔ڈائریکٹر آفتاب مرزانے آج کی الوداعی تقریب کے اہتمام کا حکم دیا تھا ۔اس الوداعی تقریب کا اہتمام دفتر کے ملازم سپرنٹنڈنٹ رفیق احمد کے اعزاز میں کیا گیا تھا۔

ایک بجے اس الوداعی تقریب کا آغاز ہوا۔اسٹیج پر درمیان والی کرسی پر رفیق احمد ،دائیں طرف دائریکٹر آفتاب مرزا اور بائیں طرف اسسٹنٹ ڈائریکٹر رانا راشد بیٹھے ہوئے تھے ۔تلاوتِ کلام پاک سے تقریب کا آغاز ہوا ۔
دفتر کے کلرک نورانی میاں نے اپنی پُر سوزآواز میں نعتِ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پیش کی ۔
اس کے بعد مقرر ین نے رفیق احمد کی شخصیت اور کردار کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔رفیق احمد سر جھکائے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہے ،جس کے فضل وکرم سے وہ نہایت ایمان داری اور ذمے داری سے اپنی ملازمت کے اڑتیس برس مکمل کرپائے تھے ۔

(جاری ہے)


اپنے خطاب میں ڈائریکٹر صاحب نے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں زبردست انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا ۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر تو ان کی ایمان داری اور فرض شناسی کا ایک واقعہ سناتے ہوئے آب دیدہ ہو گئے تھے ۔ان کا کہنا تھا کہ رفیق احمد جیسے لوگ ہی معاشرے کا حقیقی حسن ہیں۔
معاشرے میں ساری خو ب صورتی ایسے ہی لوگوں کے دم سے ہے ۔اپنی تعریفیں سن کر آب دیدہ تو رفیق احمد بھی تھے ۔ان کی آنکھوں سے ٹپکنے والے شکرانے کے آنسو ان کے گلے میں ڈالے گئے گلاب کے پھولوں میں جذب ہورہے تھے ۔وہ سارا وقت اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہے ۔

رفیق احمد نے اپنی ملازمت کی یادوں کو بیان کرتے ہوئے اپنے دوستوں کاشکریہ ادا کیا اور اپنی غلطیوں کی معافی کی درخواست کی ۔تقریب کے آخر میں ڈائریکٹر صاحب نے انھیں یاد گاری شیلڈ پیش کرتے ہوئے کہا :”رفیق احمد صاحب! ہم آپ کو کبھی فراموش نہیں کریں گے ۔
آپ نے کام اور ایمان داری کا جو معیار دفتر میں قائم کیا ہے ،ہم اسے بر قرار رکھنے کی کوشش کریں گے ۔“
”اللہ تعالیٰ آپ سب پر اپنا فضل کرے اور آپ کو راہِ راست پر قائم رکھے ۔“رفیق احمد نے دعادی۔
رفیق احمد کی بات سن کرنئے سپر نٹنڈنٹ عبداللہ صاحب بھی ان کے قریب آگئے ۔
انھیں بھی رفیق احمد کے ماتحت دس سال کام کرنے کا موقع ملا تھا ۔انھوں نے رفیق احمد کا ہاتھ پکڑ کر کہا:”آپ کے اچھے کاموں کی خوشبو ہمیشہ اس دفتر کو مہکائے رکھے گی ۔آپ کے لیے بہت سی دعائیں ہیں ۔اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے ۔

”بہت شکریہ !آپ سب کا خلوص ،محبت ہمیشہ مجھے یاد رہے گی۔اب میں رخصت چاہوں گا ۔مجھے آج ہی اپنے گاؤں واپس جانا ہے ۔دیر ہو گئی تو کوئی گاڑی نہیں ملے گی ۔”رفیق احمد نے سب سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔
شوکت رضا انھیں بس اڈے تک چھوڑنے آئے۔
وہ کافی دیر تک ہاتھ ہلا کر رفیق احمد کو الوداع کرتے رہے ۔بس اب موٹروے کی طرف بڑھ رہی تھی ۔رفیق احمد کے اردگردیادیں ہی یادیں تھیں ۔ماں کی دعاؤں کا اثر تھا کہ رفیق احمد کو آسانی سے کلرک کی نوکری مل گئی ۔شہر میں قیام کامسئلہ پیش آیا تو دفتر کے ایک ساتھی نے وقتی طور پر اپنے سرکاری کوارٹر میں رہنے کے لیے تھوڑی سی جگہ دے دی تھی ۔
بعد میں انھیں اپنا سرکاری کوارٹر مل گیا۔
وہ ہر ہفتے گاؤں جاتے اور ایک دن کے بعد واپس آجاتے ۔دفتر میں وہ آہستہ آہستہ کام سیکھتے رہے۔ لوگ اپنے کاموں کے سلسلے میں آتے تو دفتر کے ملازمین رشوت لیے بغیر کام نہیں کرتے ،طرح طرح سے پریشان کرتے ۔
رفیق احمد ایک دین دار آدمی تھے ،اس لیے وہ ان بُرائیوں سے دور تھے ۔دفتر کے ساتھی جانتے تھے کہ وہ رشوت نہیں لیتے۔رفیق احمد کوکوچ میں بیٹھے بیٹھے وہ واقعہ بھی یاد آگیا،جب ان پر رشوت لینے کا الزام لگا تھا۔ایک آدمی نے اپنا کام کروانے کے لیے رشوت کی پیش کش کی تو رفیق احمد نے اسے ڈانٹ دیا تھا۔

اگلے دن وہ ڈائریکٹر کے نام درخواست لے کر آیا ،جس میں رفیق احمد پر رشوت مانگنے کا الزام لگایا گیا تھا ۔رفیق احمد کے لیے یہ لمحہ پریشان کن تھا۔ڈائریکٹر نے رفیق احمد پر لگائے گئے الزام کی تحقیق کرنے کے لیے انکوائری کمیٹی بنادی۔
پندرہ دنوں میں انکوائری کمیٹی نے رپورٹ ڈائریکٹرصاحب کے سپرد کردی۔ رفیق احمد پر لگایا جانے والا الزام جھوٹا ثابت ہوا۔اس واقعے نے دفتر میں رفیق احمد کی عزت میں مزیداضافہ کیا تھا۔
رفیق احمد نے دفتر میں نہایت ایمان داری اور فرض شناسی سے اپنے فرائض انجام دیے ۔
وہ محکمانہ ترقی کرتے کرتے کلرک سے سپر نٹنڈنٹ کے عہدے تک جا پہنچے۔وہ اولاد جیسی نعمت سے محروم تھے ۔انھوں نے والدین کے انتقال کے بعد آبائی ز مین اپنے چھوٹے بھائی کے سپرد کر دی تھی ۔ملازمت سے جو تنخواہ ملتی تھی،وہ میاں بیوی کے لیے کافی تھی ۔
چند سال پہلے انھوں نے اپنی آبائی حویلی جو باغ کے ساتھ واقع تھی،اسے ایک اسکول کی شکل دے دی تھی ۔
حویلی میں انھو ں نے اپنے والد کے نام پر اسکول قائم کردیا تھا۔اسکول میں دینی اور دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ تعمیر اخلاق اور کردار سازی کے لیے ہم نصابی سرگرمیوں اور کہانیوں سے مدد لی جاتی تھی۔
اسکول میں طلبہ کی تعداد چالیس تھی ۔ان کے لیے یونی فارم اور کتب رفیق احمد فراہم کرتے تھے ۔رفیق احمد اڑتیس سالہ یادوں میں ایسے کھوئے کہ سفر کٹنے کا پتا ہی نہ چلا ۔کوچ کے ٹھنڈے ماحول سے باہر آئے تو موسم خاصا گرم تھا ۔ان کا بھتیجا انھیں لینے کے لیے موٹر سائیکل پر سوار بس کے اڈے پر پہنچ چکا تھا۔

پندرہ بیس منٹ بعد وہ کچے صحن میں اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ۔
کچھ دیربعد رفیق احمد کپڑے تبدیل کرنے اپنے کمرے میں گئے تو جیب میں دفتر کا قلم دیکھ کر پریشان ہو گئے ۔یہ سبزقلم دفتر کی ملکیت تھا ،کیوں کہ قلم سرکاری پیسوں سے خریداگیا تھا ۔
جیب میں قلم کی موجودگی نے انھیں پریشان کر دیا تھا ۔رات دس بجے کا وقت تھا ۔اب گاؤں سے شہر جانا ممکن نہ تھا ۔رفیق احمد کو صبح ہونے کا انتظار کرنا تھا۔ نمازِ فجر کے بعد جب وہ تیار ہونے لگے تو بیوی نے سوال کیا :”آپ کہاں جارہے ہیں ؟“
”میں شہر جا رہا ہوں ۔
دفتر کی ایک امانت میری جیب میں آگئی ہے۔ میں شام تک واپس آجاؤں گا۔ جب تک یہ امانت نئے سپر نٹنڈنٹ کے سپر د نہیں کردوں گا ،مجھے سکون نہیں ملے گا۔ “
رفیق احمد تانگے میں بیٹھے اور بس کے اڈے پر پہنچ گئے ۔وہ دفتر شروع ہونے سے پہلے وہاں پہنچ گئے۔
نائب قاصد اور چوکیدار موجود تھے ۔وہ انھیں دیکھ کر حیران ہوئے ۔شوکت رضا دفتر پہنچے تو ان کو بہت خوشی ہوئی ۔جب سپر نٹنڈنٹ صاحب آئے تو انھیں بھی رفیق احمد کو دیکھ کر حیرت کے ساتھ ساتھ خوشی بھی ہوئی۔اب سارے دفتر والے رفیق احمد کے گرد جمع تھے۔

”بھئی،میں آپ سب کی حیرت ختم کیے دیتا ہوں ۔میں دراصل دفتر کی ایک امانت واپس کرنے آیا ہوں اور وہ امانت یہ سبز قلم ہے ۔لیجیے عبداللہ صاحب! اب یہ امانت آپ کے سپرد ہے ۔“یہ کہتے ہوئے رفیق احمد نے قلم سپر نٹنڈنٹ عبداللہ کے سپرد کردیا ۔
عبداللہ نے سبز قلم کو چومتے ہوئے کہا:”میں اس امانت کی حفاظت کروں گا ۔وطن کے سپاہی تو سرحدوں پر بیرونی دشمنوں کا مقابلہ کرتے ہیں ،جب کہ رفیق احمد جیسے رفیقِ وطن اندرونی دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ وطن کی ایک ایک امانت کی حفاظت کرتے ہیں ۔
آپ اتنی دور سے یہ امانت واپس کرنے آئے ہیں ،یہ معمولی بات نہیں ۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی آپ کی طرح رفیقِ وطن بنائے اور آپ کے نقشِ قدم پر چلنے کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے۔“
ان دعائیہ کلمات پر آمین کہنے والوں میں رفیق احمد کی آواز بھی شامل تھی ۔
امانت کی واپسی پر رفیق احمد خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کررہے تھے ۔کچھ دیر بعد وہ بس میں سوار اپنے گاؤں واپس جا رہے تھے ،جہاں
ان کے قائم کردہ اسکول میں مستقبل کے بہت سے معمارِ وطن ان کا انتظار کررہے تھے ۔

Your Thoughts and Comments