Aik Kahani Bari Purani

Aik Kahani Bari Purani

ایک کہانی بڑی پُرانی

بشیر نامی شخص ایک گاؤں میں رہتا تھا،ایک دن اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس گاؤں میں رہا تو غربت ہی رہے گی

اسماء تحسین:
بشیر نامی شخص ایک گاؤں میں رہتا تھا،ایک دن اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس گاؤں میں رہا تو غربت ہی رہے گی کیوں باہر جا کر مزدوری کروں؟ بہت دولت کما کر لاؤں گا اس کی بیوی نے کہا کہ ہم روکھی سوکھی کھا لیں گے لیکن یہی رہیں گے اس نے کی بات نہ مانی اور چلا گیا۔

جانے کے کچھ ماہ بعد اللہ نے اس کے گھر ایک بیٹا عطاکیا،اْدھر بشیر کام کے سلسلے میں مارا مارا پھرتا رہا۔
اٹھارہ سال گزر گئے اور وہ واپس نہ آیا،بیٹا اب جوان ہو چکاتھامحنت مزدوری کرتاتھا،ان کے دن اچھے ہو گئے، دوسری طرفاس کے شوہر اٹھارہ برسوں میں صرف تین سو روپے کمائے۔
وہ تین سو روپے لے کرگھر واپس آرہا تھا کہ راستے میں اسے ایک بزرگ ملا۔ بشیر نے بوڑھے آدمی سے پوچھا کہاں جا رہے ہیں؟گاؤں جا رہا ہوں لیکن تم کون ہو! اور کہاں جا رہے ہو بوڑھے آدمی نے بشیر سے پوچھا بشیر نے اپنی ساری کہانی سنائی بزرگ نے کہا کہ بیٹا کہیں تمہیں حکمت کی تین باتیں بتاتا ہوں لیکن ایک بات کا ایک سو روپیہ لوں گا بشیر مان گیا، بوڑھے نے کہا کہ پہلی بات جب دس آدمی ایک ہی کام کا کہیں تو اسے کر لینا چاہیے۔

(جاری ہے)

لاؤ ایک سو روپیہ بشیر نے دے دیا دوسری بات عورت کی کبھی بھی تعریف نہ کرنا، لاؤ پیسے! اب دوسرا سو بھی گیا، تیسری بات دشمن پر سوتے ہوئے وار نہ کرنا،تیسرا سو بھی گیا یہ کہنا تھا کہ بابا نے کہا کہ تم یہیں ٹھہرو میں ابھی آتا ہوں یہ کہہ کر وہ چلا گیا لیکن واپس نہ آیا۔
بشیر تھوڑی دور گیا تھا کہ اس نے دیکھا کہ کنویں کے پاس کچھ لوگ کھڑے ہیں اس نے قریب جا کے پوچھا تو پتہ چلا کہ ایک لڑکی کنویں میں گر گئی ہے اس سے لوگ کہنے لگے کہ تم کنویں میں چھلانگ لگا دو ا دس آدمیوں نے کہہ دیا اس نے کنویں میں چھلانگ لگا دی پانی کے اندر جانے کے بعد اس نے دیکھا کہ جن نے لڑکی کو قید کر لیا ہے لڑکی نے بشیر کو دیکھا تو کہا کہ جن نے تم کو دیکھ لیا تو تمہیں مار دے گا اس نے کہا کہ یہاں کیسے آئی۔
لڑکی نے کہامیں پانی لینے آئی تھی اس نے مجھے قید کرلیا۔یہ خوفناک جن ہے اس کی جان ایک طوطے میں ہے اور اس کو اپنی تعریف سننا اچھا لگتا ہے اتنے میں جن آگیا، اس نے آدمی کو دیکھا تو کہا کہ میں تمہیں مار دوں گا بشیر کو بابا کی دوسری بات یاد آئی اس نے جن کی تعریف شروع کر دی یہ سننا تھا کہ جن مست ہونے لگا اور اتنے میں اس نے جھٹ کر طوطے کی گردن مروڑ دی اور وہاں سے ڈھیروں ہیرے جواہرات لے کر خوشی خوشی اپنے گھر چلا گیا۔
جب وہ گھر پہنچا تو رات تھی اس نے دیکھا کہ گھرمیں ایک لڑکا سویا ہوا تھا اسے غصہ آیا اور مارنے لگا تو اسے بابا کی تیسری بات یاد آئی اس نے لڑکے کو جگایااتنے میں بیوی بھی جاگ گئی بیوی نے بتایا کہ یہ ہمارا بیٹا ہے۔ اس نے دل میں بابا کو دعائیں دیں اور اپنی زندگی کی ساری داستان گھر والوں کو سنائی سب خوشی خوشی رہنے لگے کیونکہ اب وہ بہت امیر ہو گئے تھے۔

Your Thoughts and Comments